• Thu, 03 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

شیوسینا تنازع: شندےگروپ کی دلیل ، سبھاش دیسائی کیس کے فیصلے پر سوال اٹھایا

Updated: September 03, 2026, 9:00 AM IST | Agency | New Delhi

شندے گروپ کے وکیل ایڈوکیٹ نیرج کول نے کہا کہ حقیقی پارٹی کے تعین کیلئے قانون ساز اکثریت کا ٹیسٹ خارج نہیں کیا گیا ہے۔ اگلی سماعت ۱۵؍ ستمبر کو ہوگی۔

Uddhav Thackeray and Eknath Shinde. Picture: INN
ادھو ٹھاکرے اور ایکناتھ شندے۔ تصویر: آئی این این

شیوسینا کے انتخابی نشان اور پارٹی کی ملکیت سے متعلق تنازع میں ایکناتھ شندے گروپ کے دلائل شروع ہو گئے ہیں۔ گروپ کی جانب سے سینئر وکیل ایڈوکیٹ نیرج کشن کول نے  بدھ کو سپریم کورٹ میں دلیل دی کہ آئینی بنچ کے ’’سبھاش دیسائی‘‘ فیصلے میں یہ بات مکمل طور پر خارج نہیں کی گئی ہے کہ دو حریف گروپس میں سے حقیقی اکثریت رکھنے والی پارٹی کا تعین قانون ساز اکثریت کی بنیاد پر کیا جاسکتا ہے۔ نیرج کشن کول نے چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالا باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ کے سامنے یہ دلیل پیش کی۔ کول نے کہا کہ یہ کہنا حقائق اور قانون دونوں اعتبار سے غلط ہے کہ ’’سبھاش دیسائی‘‘ فیصلے میں یہ قرار دیا گیا تھا کہ انتخابی نشان سے متعلق ضابطے میں قانون ساز پارٹی کا کوئی ذکر نہیں اور اس لیے اسے بالکل زیر غور نہیں لایا جاسکتا۔

یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر: ۲۰۰؍ سال بعد خاندان میں بیٹی کی پیدائش، جشن کا اہتمام

ایڈوکیٹ کول نے کہا کہ اس فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی انتخابی نشان کو منجمد کرنے یا کسی سیاسی جماعت کو انتخابی نشان الاٹ کرنے کے معاملے میں حاصل کردہ نشستیں اور ووٹ اہم عوامل ہیں۔ انہوں نے ’’صادق علی‘‘ مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قانون ساز اکثریت کا ٹیسٹ بھی ایک متعلقہ معیار ہے۔کول نے کہا کہ ’’سبھاش دیسائی‘‘ مقدمے میں قانون ساز پارٹی اور سیاسی پارٹی کے درمیان فرق سے متعلق پوری بحث دراصل وہپ مقرر کرنے کے اختیار کے تناظر میں تھی۔ مخالف فریق کا موقف تھا کہ قانون ساز پارٹی کی جانب سے مقرر کیا گیا وہپ سیاسی پارٹی کا بھی وہپ تصور ہوگا۔ ان کے مطابق اسی تناظر میں آئینی بنچ نے کہا تھا کہ قانون ساز پارٹی اور سیاسی پارٹی کو ایک دوسرے کے مترادف نہیں سمجھا جاسکتا۔

نیرج کشن کول نے کہا کہ آئینی بنچ نے ووٹوں اور قانون ساز اکثریت کی اہمیت کو تسلیم کیا تھا۔ اس  لئےیہ کہنا کہ اس فیصلے کے ذریعے قانون ساز اکثریت کے معیار کو مکمل طور پر ختم کردیا گیا، فیصلے کی غلط تشریح ہوگی۔ اس بنچ کو بھی اس فیصلے کو ذہن میں رکھنا ہو گا۔ 

یہ بھی پڑھئے: بہار: نیپال کے سیلاب کے بعد نامعلوم مچھلیاں کھانے کے خلاف حکومت کا انتباہ

کول نے مزید کہا کہ جب الیکشن کمیشن نے اپنا فیصلہ سنایا تھا، اس وقت ’’سبھاش یسائی‘‘ کا فیصلہ سامنے نہیں آیا تھا، اس لیے یہ کہنا بھی درست نہیں کہ الیکشن کمیشن نے آئینی بنچ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ’’سبھاش دیسائی‘‘ فیصلے میں بار بار اس بات کی گنجائش رکھی گئی ہے کہ مخصوص حالات اور حقائق کو دیکھتے ہوئے الیکشن کمیشن مناسب ٹیسٹ وضع کرسکتا ہے۔ کول نے ادھو ٹھاکرے گروپ کے اس اعتراض کو بھی مسترد کیا کہ الیکشن کمیشن نے شیوسینا کے ۲۰۱۸ء کے پارٹی آئین کی قانونی حیثیت کا جائزہ لے کر ایسا اختیار استعمال کیا جو قانون میں اسے حاصل ہی نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ۱۹۹۴ء سے الیکشن کمیشن مختلف احکامات اور خطوط کے ذریعے تمام سیاسی جماعتوں کو یہ ہدایت دیتا رہا ہے کہ ان کے پارٹی آئینی اور جمہوری ہونی چاہئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر پارٹی میں عارضی اور من مانے طریقے سے عہدے مقرر کئے جائیں تو یہ طے کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ پارٹی میں اکثریت کی نمائندگی کون کرتا ہے۔کول نے کہا کہ سیاسی جماعت میں اکثریت کا تعین ایک اہم معیار ہے اور اس کے لیے منتخب عہدیداروں اور اراکین کی بڑی تعداد کا ہونا ضروری ہے، کیونکہ یہی لوگ پارٹی کے کارکنوں اور عوام کی رائے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی کے عہدیدار منتخب ہونے کے بجائے محض عارضی طور پر مقرر کیے جاتے رہیں تو پارٹی میں اکثریت کی حقیقی نمائندگی کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ماضی میں سیاسی جماعتوں کو متنبہ کرتا رہا ہے کہ جماعتوں کو کسی ایک یا دو افراد کی ذاتی جاگیر کی طرح نہیں چلایا جاسکتا، پارٹی کے اندر باقاعدہ انتخابات ہونے چاہئیں۔ کول کے مطابق عوامی نمائندگی ایکٹ میں دفعہ ۲۹؍ اےشامل کئے جانے کے بعد سیاسی جماعتوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے آئین کو جمہوری اصولوں کے مطابق بنائیں۔ شندے گروپ کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ شیوسینا نے ۱۹۹۹ءمیں الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق اپنے آئین میں ایسی ترامیم کی تھیں جن میں جمہوری طریقہ کار کو شامل کیا گیا تھا لیکن ۲۰۱۸ء میں سامنے آنے والے نئے آئین نے اس جمہوری ڈھانچے کو مکمل طور پر تبدیل کردیا۔

یہ بھی پڑھئے: بلیا:ایک پاؤں پر اسکول جانے والی راگنی کو انتظامیہ کا تحفہ، ٹرائی سائیکل دی گئی

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس ۲۰۱۸ء کا یہ آئین رجسٹرڈ ہی نہیں تھا اور کمیشن نے واضح طور پر اس سلسلے میں یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اس کے پاس مذکورہ آئین موجود نہیں ہے۔ کول نے ’’سبھاش دیسائی‘‘ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے بھی اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ اسپیکر جب پارٹی آئین کو دیکھے گا تو اسے وہی آئین زیر غور لانا ہوگا جو الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ ہو۔ ادھو گروپ  کے اس اعتراض پر بھی کول نے جواب دیا کہ ایکناتھ شندے خود ۲۰۱۸ء کے پارٹی آئین کے تحت ایک عہدے پر فائز رہے تھے اور بعد میں اسی آئین کو غیر جمہوری قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ کسی عہدے کے لیے انتخاب کو چیلنج کرنے یا ماضی میں کسی موقف سے منحرف ہونے کا نہیں ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن سیاسی پارٹی میں اکثریت کی نمائندگی کرنے والے گروپ  کا تعین کس معیار کی بنیاد پر کرے گا۔ کول نے یہ بھی دلیل دی کہ ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیوسینا نے بعد میں ایسی سیاسی جماعت کے ساتھ اتحاد کیا جس کے نظریات شیوسینا کے بنیادی نظریاتی اصولوں سے بالکل مختلف تھے۔ ان کے مطابق یہی صورت حال پارٹی کے اندر بڑھتی بے چینی اور اختلاف کا سبب بنی۔انہوں نے کہا کہ شیوسینا اور بی جے پی نے مل کر انتخابات لڑے تھے اور عوام نے بھی اسی اتحاد کو ووٹ دیا تھا لیکن انتخابی نتائج آنے کے بعد ادھو گروپ نے اس اتحاد سے الگ ہوکر ایک ایسی جماعت کے ساتھ اتحاد کرلیا جو نظریاتی طور پر شیوسینا سے بالکل مختلف تھی۔کول کے مطابق پارٹی میں اختلاف اچانک پیدا نہیں ہوا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ کارکنوں اور اراکین میں یہ احساس بڑھا کہ پارٹی کے اندر کسی کو اپنی بات رکھنے کی آزادی نہیں ہے اور انتظامیہ آمرانہ انداز میں کام کررہی ہے۔ بالآخر اسی اختلاف کے نتیجے میں شندے گروپ نے الیکشن کمیشن سے رجوع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہی حقیقی شیوسینا ہے۔ واضح رہے کہ ادھو ٹھاکرے گروپ کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل اور دیودت کامت نے دلائل پیش  کئے تھے۔ شندے گروپ کی جانب سے نیرج کشن کول کے بعد سینئر ایڈوکیٹ منندر سنگھ انتخابی نشان کے تنازع پر اپنے دلائل پیش کریں گے، جس کے بعد سینئر ایڈوکیٹ دھرو مہتا، نااہلی کے معاملے پر عدالت کے سامنے اپنا موقف رکھیں گے۔اس معاملے میں اگلی سماعت اب ۱۵؍ستمبر کو ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK