Inquilab Logo Happiest Places to Work

’پیٹ‘ امتحان کے پرچوں کی کمی کے سبب طلبہ کو پریشانیوں کا سامنا

Updated: April 10, 2026, 11:09 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

اس سال بھی طلبہ کے مقابلے سوالیہ پرچوں کی تعداد کم فراہم کی گئی ہے ، اساتذہ کو ہزاروں روپے خرچ کرکے پرچوں کے زیراکس کروانے پڑیں گے۔

Children are being given papers by getting them Xeroxed. (File photo)
بچوں کو زیراکس کروا کر پرچے دیئے جا رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

ریاست میں دوسری سے آٹھویں جماعت کے طلبہ کے تعلیمی معیار کو جانچنےکیلئے اسٹیٹ کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ ( ایس سی ای آر ٹی) ہرسال پیروڈک اسسمنٹ ٹیسٹ( پیٹ) کا انعقاد کرتی ہے ۔ پیٹ کا سوالیہ پرچہ ایس سی ای آرٹی فراہم کرتی ہے لیکن ہرسال طلبہ کی تعداد کے مقابلہ سوالیہ پرچوں کی کم فراہمی کامسئلہ امسال بھی برقرار رہا جس سے ہیڈماسٹروں، اساتذہ اور طلبہ کو پریشانی ہونے کا خدشہ ہے۔ 

واضح رہے کہ یاددہانی کے باوجود ناکافی سوالیہ پرچوں کی فراہمی سے جہاں امتحان منعقد کرنے میں بے ترتیبی ہوتی ہے وہیں امتحان کے دوران افراتفری کا ماحول پیدا ہوسکتا ہے۔ سوالیہ پرچوں کے کم ہونے پر ہیڈماسٹر اور اساتذہ ہزاروں روپے کاسوالیہ پرچوںکا زیروکس کروانے پر مجبور ہوتے ہیں ۔مضافات کی ایک اسکول میں ناکافی سوالیہ پرچوں کی وجہ سے ساڑھے ۵؍ ہزار روپے کا زیروکس کرایا گیا۔   امسال بھی ایس سی ای آر ٹی کے واضح احکامات کے باوجود ایجوکیشن اور گروپ ایجوکیشن آفیسران نےا سکولوں کو مطلوبہ تعداد میں سوالیہ پرچے فراہم نہیں کئے۔

یہ بھی پڑھئے: بارامتی: دن بھر کی ڈرامائی صورتحال کے بعد کانگریس نے امیدوار واپس لیا

یہ امتحان ریاست کے تمام سرکاری، مقامی اداروں اور امداد یافتہ اسکولوں میں ۱۱؍ ،۱۵؍ اور ۲۲؍اپریل کو منعقد کیا جائے گا ۔پیٹ کو معمول کے مطابق منعقد کرانے کیلئے ایس سی ای آر ٹی نے تعلیمی افسران اور گروپ ایجوکیشن افسران کو یوڈی آئی ایس کے ریکارڈ کے مطابق طلبہ کی تعداد کے تحت سوالیہ پرچے تقسیم کرنے کی ہدایت کی ہے ۔یہ بھی کہا کہ وہ سوالیہ پرچہ فراہم کرتے وقت جسمانی طور پر موجود رہیں اور درست ریکارڈ رکھیں ۔ سوالیہ پرچے ۸؍ اپریل کو ریاست کے تمام اسکولوں میں دستیاب کرائے گئے ہیں لیکن ہدایت کے باوجود، ممبئی سمیت ریاست کے کئی اسکولوں نے شکایت کی ہے کہ انہیں ضرورت سے کم سوالیہ پرچے ملے ہیں۔

خیال رہےکہ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ایس سی ای آرٹی نے پیٹ کے سوالیہ پیپر کو لیک ہونے سے روکنے کیلئے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں مگر، سوالیہ پرچہ کی تقسیم کے چند گھنٹوں کے اندر ہی ساتویں جماعت کا مراٹھی زبان کا سوالیہ پرچہ یوٹیوب پر دستیاب تھا ۔ اس سوالیہ پرچے میں طلبہ کو تمام سوالات کے جوابات بھی بتائے گئے ہیں ۔ صرف چار گھنٹوں میں اس سوالیہ پرچے کو ۱۰؍ہز ار سے زائد افراد دیکھ چکے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: مساجوگ سرپنچ الیکشن میں ایک اور امیدوار میدان میں اترا

مضافات کے ایک اسکول کے سینئر معلم نے بتایا کہ ’’ پیٹ کا سوالیہ پرچہ کم ہونے سے بڑی پریشانی ہوتی ہے۔  ہمارے اسکول کے طلبہ کی تعداد کے مطابق ہمیں ساڑھے ۵؍ہزار روپے کا زیروکس کرانا پڑا ہے ۔ یہ رقم محکمہ تعلیم کے بجائے ہمیں ادا کرنی ہوتی ہے ۔ پرچہ کم آنے سے اس کے لیک ہونے کا خطرہ ہوتا ہے ۔ علاوہ ازیں امتحان کے انعقاد میں بدنظمی کے امکان بڑھ جاتے ہیں،چنانچہ محکمہ تعلیم سے اپیل ہے کہ وہ طلبہ کی تعداد کےمطابق سوالیہ پرچے فراہم کرے ۔‘‘یاد رہے کہ پیٹ امتحان اسکولی بچوں کی ذہانت کی جانچ کیلئے لیا جاتا ہے اور بچے بڑی تعداد میں اس امتحان میں شرکت کرتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK