ایک جائزے کے مطابق یورپ کی گرمی کی لہریں۲۱۰۰ء تک۱۲۷؍ ملین لوگوں کو غربت کی طرف دھکیل سکتی ہیں،یورپ اس وقت شدید گرمی کی لہر کی لپیٹ میں ہے، جہاں بعض مقامات پر درجہ حرارت تقریباً۴۱؍ ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔
EPAPER
Updated: June 26, 2026, 10:11 PM IST | London
ایک جائزے کے مطابق یورپ کی گرمی کی لہریں۲۱۰۰ء تک۱۲۷؍ ملین لوگوں کو غربت کی طرف دھکیل سکتی ہیں،یورپ اس وقت شدید گرمی کی لہر کی لپیٹ میں ہے، جہاں بعض مقامات پر درجہ حرارت تقریباً۴۱؍ ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔
یورپ اس وقت شدید گرمی کی لہر کی لپیٹ میں ہے، جہاں بعض مقامات پر درجہ حرارت تقریباً۴۱؍ ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے۔ فرانس نے۱۹۴۷ء میں ریکارڈ شروع ہونے کے بعد سے اپنا گرم ترین دن دیکھا، جبکہ ملک کے نصف سے زیادہ حصے پر سرخ ہیٹ الرٹ جاری ہے۔ اسپین نے ۱۹۵۰ء کے بعد اپنی بلند ترین یومیہ اوسط درجہ حرارت ریکارڈ کی، اور برطانیہ بھی جون کی تاریخ کی غیر معمولی گرمی کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ مغربی اور وسطی یورپ میں پھیلی یہ تاریخی اور مہلک گرمی کی لہر ایک طاقتور موسمیاتی تبدیلی ’’اوميگا بلاک‘‘ کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے ، یہ ایک ایسا موسمی نمونہ ہے جو ایک بہت بڑا، ساکن گرمی کا گنبد بناتا ہے، جس میں انتہائی گرم ہوا براعظم پر پھنسی رہتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی غزہ کے خلاف جنگ کا تخمینہ ایک لاکھ ۹۴؍ ہزار کروڑ روپئے: رپورٹ
بعد ازاں ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ شدید گرمی اور خشک سالی کے معاشی اثرات بےحد وسیع ہیں اور غربت میں اضافے کا ایک بڑا سبب ہیں۔ کلائمیٹ اینالیٹکس کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ گرمی اور خشک سالی کے واقعات کی وجہ سے پورے یورپ میں اوسط گھریلو آمدنی میں تقریباً ۳؍ فیصد کمی آئی ہے۔جبکہ جن علاقوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، وہاں یہ کمی اس سے بھی زیادہ ہوئی ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت آمدنی میں عدم مساوات کو جنم دے گا اور لاکھوں افراد کے لیے غربت کا خطرہ بڑھائے گا۔ حالانکہ تحقیق خاص طور پر یورپ پر مرکوز ہے، جبکہ عالمی سطح پر، خاص طور پر کمزور ممالک میں اسی طرح کے اثرات متوقع ہیں۔ یہ مطالعہ ACCREU پروجیکٹ کے تحت گلوبل انوائرنمنٹل چینج جریدے میں شائع ہوا۔
یہ بھی پڑھئے: چین: LineShine دنیا کا تیز ترین سپر کمپیوٹر بن گیا، امریکہ پہلی پوزیشن سے محروم
جبکہ عالمی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، اور۲۱۰۰ء تک۲؍ اعشاریہ ۷؍ درجہ کا اضافہ یورپی گھریلو آمدنی میں اوسطاً۲۷؍ فیصد کمی کا باعث بنے گا۔ اگر انسان پیرس معاہدے کے عزم کے مطابق گلوبل وارمنگ کو ایک اعشاریہ ۵؍ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو یہ کمی۷؍ فیصد رہ جائے گی۔تاہم پہلی صورتِ حال میں یورپ کے۱۲۷؍ ملین افراد غربت کے خطرے سے دوچار ہوں گے، جبکہ ایک اعشاریہ ۵؍ڈگری والی دنیا میں یہ تعداد گھٹ کر۶۰؍ ملین رہ جائے گی۔مطالعے کے مرکزی مصنف جیسی شلیپین کا کہنا ہے کہ گرمی کی لہر نے ’’لوگوں کی صحت، معاش اور کام کرنے کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔‘‘کلائمیٹ اینالیٹکس کی سینئر ماہر معاشیات برائے موسمیاتی تبدیلی اور ترقی مزید کہتی ہیں کہ ’’جہاں شدید گرمی خشک سالی کے ساتھ مل جاتی ہے، وہاں نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔‘‘یہ تحقیق۲۰۰۴ء سے۲۰۲۲ء تک کے اعداد و شمار کا تجزیہ کرتی ہے اور پاتی ہے کہ گرمی کی لہروں اور خشک سالی کا انفرادی اثر اس وقت کم ہوتا ہے جب یہ اکٹھے رونما ہوں۔
مطالعے کے مطابق ’’یورپ میں اوسطاً ایک گرمی کی لہر گھریلو آمدنی میں صفر اعشاریہ ۷؍ فیصد اور خشک سالی ایک اعشاریہ ۸؍ فیصد کمی کرتی ہے۔ جب یہ دونوں اکٹھی ہو جائیں، خاص طور پر خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں تو اوسط آمدنی میں کمی تقریباً ۳؍فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔‘‘اس کے علاوہ یہ حالات کارکنوں کی صحت کو خراب کرتے ہیں، مزدوری کی پیداواریت کو کم کرتے ہیں اور فصلوں کو متاثر کرتے ہیں، جس سے خوراک کی پیداوار میں گراوٹ آتی ہے۔ پانی سے منسلک اہم خدمات، جیسے نقل و حمل اور توانائی کی پیداوار، کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔ان واقعات کی وجہ سے پیدا ہونے والی معاشی عدم مساوات کی بنا پر غریب ترین طبقہ سب سے زیادہ نقصان اٹھائے گا۔ شلیپین کہتی ہیں کہ ’’سب سے غریب۲۰؍ فیصد آبادی سب سے زیادہ متاثر ہوگی، جس کی آمدنی باقی آبادی کے مقابلے میں۲؍ فیصد زیادہ گر جائے گی، جس سے آمدنی میں عدم مساوات مزید بڑھے گی۔‘‘ علاوہ ازیں ۲؍ اعشاریہ ۷؍ ڈگری سینٹی گریڈ والی سطح میں یونان، اسپین، رومانیہ، بلغاریہ اور قبرص سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہونے کا امکان ہے۔