Updated: May 11, 2026, 7:08 PM IST
| New delhi
سپریم کورٹ نے مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور دیگر کو انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی (SIR) کے معاملے پر نئی درخواستیں دائر کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت میں ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی نے دعویٰ کیا کہ ۳۱؍ اسمبلی حلقوں میں جیت کا مارجن ان ووٹوں سے کم تھا جو ووٹر لسٹوں سے حذف کیے گئے۔ الیکشن کمیشن نے مؤقف اختیار کیا کہ اس معاملے کا مناسب قانونی راستہ انتخابی پٹیشن ہے۔ عدالت عظمیٰ اس وقت مغربی بنگال میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی سے متعلق مختلف درخواستوں کی سماعت کر رہی ہے۔
سپریم کورٹ : تسویر آئی این این
سپریم کورٹ نے پیر کو مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور دیگر درخواست گزاروں کو انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی (SIR) سے متعلق تازہ درخواستیں دائر کرنے کی اجازت دے دی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جویمالیہ باغچی پر مشتمل بنچ نے اس معاملے کا نوٹس اس وقت لیا جب سینئر وکیل اور کلیان بنرجی نے عدالت کے سامنے مؤقف پیش کیا کہ ریاست کے ۳۱؍ اسمبلی حلقوں میں جیت کا فرق ان ووٹوں کی تعداد سے کم تھا جو خصوصی نظر ثانی کے دوران ووٹر لسٹوں سے حذف کیے گئے۔ درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ اگر حذف شدہ ووٹ برقرار رہتے تو کئی حلقوں کے نتائج مختلف ہو سکتے تھے۔
یہ بھی پڑھئے : ممتا کا بی جے پی کے خلاف جنگ کا اعلان
عدالت میں بحث کے دوران الیکشن کمیشن نے ان دعوؤں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے معاملات کے لیے آئینی اور قانونی طور پر مناسب راستہ ’’الیکشن پٹیشن‘‘ ہے۔ کمیشن نے مؤقف اختیار کیا کہ خصوصی نظر ثانی کے عمل، ووٹوں کے اندراج یا حذف کیے جانے سے متعلق تنازعات اور اپیلوں کے لیے مخصوص قانونی طریقہ کار پہلے سے موجود ہے، لہٰذا عدالت کو براہِ راست مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔ الیکشن کمیشن نے یہ بھی کہا کہ انتخابی فہرستوں میں تبدیلیوں کے خلاف متعلقہ فورمز پر اپیلیں دائر کی جا سکتی ہیں اور انتخابی نتائج کو چیلنج کرنے کے لیے انتخابی درخواست ہی موزوں راستہ ہے۔
واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ اس وقت مغربی بنگال میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی سے متعلق مختلف درخواستوں کی سماعت کر رہی ہے، جن میں ممتا بنرجی کی درخواست بھی شامل ہے۔ ٹی ایم سی کی جانب سے الزام لگایا گیا ہے کہ ووٹر لسٹوں سے بڑی تعداد میں نام حذف کیے گئے، جس کے نتیجے میں انتخابی عمل کی شفافیت متاثر ہوئی۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ خصوصی نظر ثانی کا مقصد انتخابی فہرستوں کو درست اور تازہ رکھنا ہوتا ہے، تاکہ مردہ، منتقل شدہ یا غیر مستحق ووٹرز کے نام حذف کیے جا سکیں۔
:یہ بھی پڑھئے : بنگال میں الیکشن کے بعد تشدد میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا
حال ہی میں منعقد ہونے والے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے ۲۹۴؍ رکنی اسمبلی میں ۲۰۷؍ نشستیں حاصل کیں، جبکہ ترنمول کانگریس کو ۸۰؍ نشستیں ملیں۔ ریاست میں ووٹنگ کی شرح ۹۰؍ فیصد سے زیادہ ریکارڈ کی گئی، جسے حالیہ برسوں میں سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ میں شمار کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق انتخابی فہرستوں کی نظر ثانی کا معاملہ مستقبل میں بھی سیاسی اور قانونی بحث کا اہم موضوع بن سکتا ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب متعدد حلقوں میں کامیابی کا فرق انتہائی کم ہو۔ سپریم کورٹ نے فی الحال درخواست گزاروں کو تازہ عرضیاں دائر کرنے کی آزادی دیتے ہوئے معاملے کی مزید سماعت جاری رکھنے کا اشارہ دیا ہے۔