تمل ناڈو میں ’’مدرسہ امدادیہ ‘‘غریب اور نابینا مسلم طلبہ میں امید کی کرن پیدا کررہا ہے، یہ مدرسہ محمد عثمان نے قائم کیا جو ایک نیم رہائشی ٹرسٹ ہے، جوان بچوں کو تعلیم، ہنر اور وقار فراہم کرتا ہے جو بصورت دیگر اپنی زندگی بھیک مانگتےہوئے گزار دیتے ۔
EPAPER
Updated: January 11, 2026, 2:06 PM IST | Chennai
تمل ناڈو میں ’’مدرسہ امدادیہ ‘‘غریب اور نابینا مسلم طلبہ میں امید کی کرن پیدا کررہا ہے، یہ مدرسہ محمد عثمان نے قائم کیا جو ایک نیم رہائشی ٹرسٹ ہے، جوان بچوں کو تعلیم، ہنر اور وقار فراہم کرتا ہے جو بصورت دیگر اپنی زندگی بھیک مانگتےہوئے گزار دیتے ۔
چنئی کے ایک نجی کالج میں تامل کے استاد اشرف خان ایک غریب گھرانے میں نابینا پیدا ہوئے۔ وہ رانی پیٹ کے قریب میلوشرم میں نابینا طلبہ کے ایک چھوٹے سے مدرسے میں اپنے ابتدائی سالوں کو زندگی بدل دینے والاکہتے ہیں۔ آج وہ ہر ماہ تقریباً۵۰؍ ہزار روپے کماتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’تعلیم نے میری جان بچائی۔‘‘مدرسے کے ناظم عثمان ایک واضح فرق بتاتے ہیں۔ انہوں نے اکثر گلیوں میں نابینا بچوں کو اسی طرح محروم والدین کے ساتھ دیکھا ہے۔ وہ وضاحت کرتے ہیں، ’’غریب ترین مسلمانوں کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔ جب والدین نابینا اور غریب ہوں تو بچے سڑکوں پر آ جاتے ہیں۔ ‘‘یہی ان کی تحریک بنی۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی :مسجد فیض الٰہی اور بڑی مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی
۲۰۱۰ء میں قائم ہونے والا یہ مدرسہ اب چنئی اور رانی پیٹ میں کئی مراکز چلا رہا ہے، اور پونے، احمد آباد، اورنگ آباد اور کشمیر میں اسی طرح کے اداروں کے لیے تحریک بن رہا ہے۔ تمل ناڈو کا مرکز، جو سب سے بڑا ہے۵۰۰۰؍ مربع فٹ پر محیط ہے اور۵۰؍ نابینا طلبہ (جن میں دس لڑکیاں شامل ہیں) کو رہائش فراہم کرتاہے، جبکہ ہاسٹل کے عملے روزمرہ کی ضروریات کا نظم کرتے ہیں۔مدرسہ مذہبی اور رسمی تعلیم کو یکجا کرتا ہےاور سرکاری اداروں کے چھوڑے گئے خلاء کو پر کرتا ہے۔ طلبہ بریل کے ذریعے قرآن، حدیث اور دیگر مذہبی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں، ساتھ ہی اسکول اور کالج کی تعلیم آڈیو ٹولز کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔ دیگر معذوریوں والے بچوں کو بھی قبول کیا جاتا ہے، تاہم بریل تعلیم الگ ہے۔
عثمان خود انحصاری پر زور دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’کچھ والدین اب بھی ٹرسٹ سے مالی مدد لیتے ہیں، لیکن بہت سے اپنے تعلیم یافتہ بچوں کے ذریعے خود کفیل بن جاتے ہیں۔ یہی حقیقی کامیابی ہے۔‘‘ طلبہ اکثر اعلیٰ تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت یا سرکاری ملازمتوں کا رخ کرتے ہیں، اور کچھ اساتذہ کی حیثیت سے واپس آتے ہیں۔مدرسہ بریل میں قرآن کی نقول بھی تیار کرتا ہے، جو پورے ہندوستان اور بیرون ملک مفت تقسیم کی جاتی ہیں۔ ہر نقل کی طباعت پر تقریباً۳۵۰۰؍ روپے لاگت آتی ہے۔ عثمان مزید کہتے ہیں، ’’ہمارے تمام طلبہ حافظ بن جاتے ہیں اور بارہویں جماعت اور ڈگری کی تعلیم مکمل کرتے ہیں۔‘‘مبینہ (فرضی نام)، ایک نابینا اور معذور لڑکی جس کے والد کا انتقال جلد ہو گیا تھا، ایک روشن مثال ہے۔ مدرسے کی مدد سے، وہ اب ایک سرکاری اسکول میں پڑھاتی ہیں اور ۷۵۰۰۰؍ روپے ماہانہ کماتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’اس مدرسے کے بغیر، میںگمنام رہتی۔چیلنجز برقرار ہیں، خاص طور پر لڑکیوں کے لیے۔ گہری سماجی رکاوٹیں، حفاظتی خدشات اور شادی کے امکانات بہت سی لڑکیوں کو اسکول سے دور رکھتے ہیں۔‘‘ عثمان کہتے ہیں کہ صبر کلیدی عنصرہے۔ وہ وضاحت کرتے ہیں، ’’خاندان تعلیم کو بالکل مسترد نہیں کرتے بلکہ ہچکچاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: وشاکھاپٹنم :بمسٹیک ممالک کےکینسر کی دیکھ بھال کے ماہرین کی تربیت
معذوری کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ غریب اضلاع میں نابینا بچوں کو اکثر رسمی تعلیم تک رسائی نہیں ہوتی۔ سرکاری اسکول صرف کاغذوں پر موجود ہیں، اور خاندان معذوری سرٹیفکیٹس، اسکالرشپس یا معاون ٹیکنالوجی سے لا علم ہو سکتے ہیں۔ ابتدائی مداخلت کے بغیر، پورے خاندان بھیک مانگنے یا غیر رسمی مزدوری کے چکر میں پھنس سکتے ہیں۔مدرسہ امدادیہظاہر کرتا ہے کہ معاشرے کی مخصوص کوششیں کس طرح نسلی غربت کو توڑ سکتی ہیں اور نابینا مسلم بچوں کو بااختیار بنا سکتی ہیں۔ تعلیم، رہائش اور ہنر فراہم کر کے، مدرسہ زندگیاں بدل رہا ہے اور اس بات کو مضبوط کر رہا ہے کہ تعلیم ایک حق ہے، خیرات نہیں۔عثمان کہتے ہیں، ’’دوسری برادریاں تعلیم میں سرمایہ کاری کرتی ہیں، لیکن ہم نہیں کرتے،جو مسلم معاشرے کے اندر ایک وسیع تر چیلنج کو واضح کرتا ہے۔ پھر بھی وہ اپنے طلبہ کی کامیابیوں پر فخر محسوس کرتے ہیں۔
واضح رہےکہ ہندوستان بھر میں۵۰۰؍ سے زیادہ طلبہ اسی طرح کے مدارس سے مستفیض ہو رہے ہیں، اور وہ ہر ضلع میں نابینا بچوں کے لیے اسکول اور ہر گاؤں میں ٹیوشن سنٹر کا خواب دیکھتے ہیں۔وہ کہتے ہیں ، ’’یہاں کی ہر کہانی افسوسناک ہے۔ خوش کن کہانیاں شہروں اور نجی اسکولوں میں چلی جاتی ہیں، وہ میرے ٹرسٹ کے مدرسے میں نہیں آتیں۔‘‘