Updated: March 18, 2026, 11:04 AM IST
| Bangkok
رپورٹس کے مطابق، ’بیسل ایکشن نیٹ ورک‘ کی جانب سے خفیہ اطلاع ملنے کے بعد تھائی حکام نے غیرقانونی طور پر بھیجے گئے کچرے کے کنٹینرز کے خلاف کارروائی کی۔ ان کا کہنا ہے کہ برآمد کنندگان اکثر الیکٹرانک کچرا بیرونِ ملک اس لئے بھیجتے ہیں کیونکہ ایسے مواد کی مقامی سطح پر ری سائیکلنگ کافی مہنگی ہوتی ہے۔
تھائی حکام نے غیر قانونی طریقے اور غلط بیانات کا سہارا لے کر بھیجا گیا ۲۸۴؍ ٹن الیکٹرانک کچرا (ای ویسٹ e-waste) ضبط کرلیا ہے۔ حکومت نے خطرناک فضلے کی تجارت کے بین الاقوامی قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے اس سامان کو واپس امریکہ بھیجنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ الیکٹرانک کچرے کی یہ کھیپ صوبہ چون بوری کی بندرگاہ لیم چابانگ (Laem Chabang) پر پکڑی گئی۔ تھائی لینڈ کے کسٹمز ڈپارٹمنٹ کے حکام نے بتایا کہ جن کنٹینرز کو ’اسکریپ میٹل‘ (دھاتی کباڑ) قرار دیا گیا تھا، ان میں درحقیقت ناکارہ الیکٹرانک سامان موجود تھا۔
تھائی لینڈ کے محکمہ آلودگی کنٹرول (Department of Pollution Control) کے سربراہ سورین واراکیجتھامرونگ کے مطابق، ابھی تک ایسے ۱۲ کنٹینرز کی شناخت کرلی گئی ہے جن میں غیر قانونی ای-ویسٹ لدا ہوا تھا۔ مبینہ طور پر اس سامان کو کیریبیئن ملک ہیٹی (Haiti) سے آنے والا اسکریپ میٹل ظاہر کیا گیا تھا۔ سورین نے قومی روزنامہ ’بینکاک پوسٹ‘ کو دیئے گئے بیان میں بتایا کہ کل ۲۱ کنٹینرز یہاں پہنچے ہیں۔ حکام بقیہ ۹ کنٹینرز کی جانچ کر رہے ہیں۔ انہیں مزید غیر قانونی الیکٹرانک فضلے کی موجودگی کی توقع ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ملنے والے ای کچرے میں سرکٹ بورڈز، کمپیوٹر کے پرزے، الیکٹرانک حصے اور استعمال شدہ تکنیکی آلات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: لبنان: زمینی کارروائی کا خدشہ، اسرائیل کا ۵ء۴؍ لاکھ ریزرو فوجیوں کی تیاری پر غور
خفیہ اطلاع پر کارروائی
رپورٹس کے مطابق، ’بیسل ایکشن نیٹ ورک‘ (Basel Action Network) کی جانب سے خفیہ اطلاع ملنے کے بعد تھائی حکام نے یہ کارروائی کی۔ واضح رہے کہ بیسل ایکشن نیٹ ورک، خطرناک الیکٹرانک کچرے کی غیر قانونی اسمگلنگ کی نگرانی کرنے والا ایک بین الاقوامی گروپ ہے۔ تھائی حکام نے الرٹ موصول ہونے کے بعد معائنہ شروع کیا جس کے نتیجے میں بھیس بدل کر بھیجی گئی اس کھیپ کا پتہ چلا۔ حکام کا خیال ہے کہ برآمد کنندگان اکثر الیکٹرانک کچرا بیرونِ ملک اس لئے بھیجتے ہیں کیونکہ ایسے مواد کی مقامی سطح پر ری سائیکلنگ کافی مہنگی ہوتی ہے۔
عالمی معاہدے کے تحت کچرا واپس بھیج دیا جائے گا
تھائی لینڈ نے کہا ہے کہ یہ کنٹینرز ’بیسل کنونشن‘ (Basel Convention) کے قوانین کے تحت امریکہ واپس بھیجے جائیں گے۔ واضح رہے کہ ۱۹۸۹ء میں متعارف کرایا گیا کنونشن ممالک کو غیر قانونی طور پر برآمد کئے گئے خطرناک فضلے کو واپس لینے کا پابند بناتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت، برآمد کرنے والے ملک کو کچرے کی واپسی کے اخراجات بھی برداشت کرنے ہوتے ہیں۔ تھائی لینڈ نے مارچ ۲۰۲۳ء میں بیسل کنونشن کی توثیق کی تھی، جس سے خطرناک فضلے کی عالمی تجارت سے نمٹنے کے لیے اس کے قانونی ڈھانچے کو تقویت ملی ہے
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو نے اپنی موت کی افواہوں کا جواب ویڈیو سے دیا، ویڈیو کے اے آئی جنریٹڈ ہونے پر شبہات برقرار
جنوب مشرقی ایشیائی ملک نے الیکٹرانک کچرے کا ’ڈمپنگ گراؤنڈ‘ بننے سے بچنے کے لئے پہلے ہی کئی اقدامات کئے ہیں۔ تھائی لینڈ نے ۲۰۲۰ء میں ای-ویسٹ کی درآمد پر پابندی لگا دی اور ۲۰۲۵ء میں قواعد کو وسعت دیتے ہوئے الیکٹرانک کچرے کی ۴۶۳ اقسام کو اس کے دائرہ کار میں شامل کیا۔
حکام نے بتایا کہ اس کھیپ کے سلسلے میں مزید تحقیقات جاری ہیں اور بندرگاہ پر موجود بقیہ کنٹینرز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔