Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کی ملک بدری مہم تیز، ۱۸؍ ماہ میں ۹؍ لاکھ تارکینِ وطن امریکہ بدر

Updated: June 23, 2026, 2:01 PM IST | Washington DC

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں شدت آ گئی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری ۲۰۲۵ء سے اب تک تقریباً ۹؍ لاکھ غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملک بدر کیا جا چکا ہے، جبکہ مئی ۲۰۲۶ء میں ملک بدری کی پروازوں کی تعداد ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی۔

Donald Trump. Photo: INN
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جنوری ۲۰۲۵ء میں اپنی دوسری مدتِ صدارت کا آغاز کرنے سے قبل یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکی تاریخ کی سب سے بڑی ملک بدری مہم چلائیں گے۔ اب نئے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی انتظامیہ اس ہدف کے حصول کے لیے غیر معمولی رفتار سے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ واشنگٹن ایگزامینر کی رپورٹ کے مطابق مئی ۲۰۲۶ء میں امریکہ سے روانہ ہونے والی ملک بدری کی پروازوں کی تعداد ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ یہ اضافہ سابق صدر جو بائیڈن کے آخری سال کے مقابلے میں نمایاں ہے، جب ماہانہ بنیادوں پر تقریباً ۱۰۰؍ سے ۲۰۰؍ ملک بدری پروازیں ریکارڈ کی جاتی تھیں۔ گزشتہ ۱۸؍ ماہ کے دوران یہ تعداد بڑھ کر ۲۰۰؍ سے ۳۰۰؍ پروازوں تک پہنچ گئی۔

یہ بھی پڑھئے: پاکستان میں آبی بحران: سندھ طاس معاہدے پر وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ہندوستان کو جنگ کی دھمکی دی

واشنگٹن میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس فرسٹ کے مطابق مئی ۲۰۲۶ء میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی تقریباً ۳۰۰؍ ملک بدری پروازیں امریکہ سے روانہ ہوئیں۔ یہ تعداد ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلے مکمل مہینے میں ریکارڈ کی گئی ۱۲۶؍ پروازوں کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ ہے۔ امریکی محکمہ داخلی سلامتی (DHS) کے ایک اہلکار نے گزشتہ ہفتے بتایا کہ ۲۰؍ جنوری ۲۰۲۵ء سے اب تک تقریباً ۹؍  لاکھ غیر قانونی تارکینِ وطن کو امریکہ سے نکالا جا چکا ہے۔ ان میں ۴؍ لاکھ سے زائد افراد کو حراست میں لینے کے بعد ملک بدر کیا گیا، جبکہ بڑی تعداد میں افراد نے رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑ دیا یا خود کو ملک بدری کے لیے پیش کیا۔

حکام کے مطابق یہ کارروائیاں تقریباً ۳؍ ہزار سرکاری چارٹرڈ پروازوں کے ذریعے ممکن بنائی گئیں۔ ڈی ایچ ایس کا دعویٰ ہے کہ اس عرصے کے دوران تقریباً ۲۲؍ لاکھ افراد نے رضاکارانہ طور پر امریکہ چھوڑا، جس کے علاوہ سیکڑوں ہزار افراد کو سرکاری ملک بدری پروگرام کے تحت نکالا گیا۔ ہیومن رائٹس فرسٹ کے آئی سی ای فلائٹ مانیٹر کے مطابق وسطی امریکہ ملک بدری کی پروازوں کی سب سے بڑی منزل رہا، جہاں ہر ماہ ۴۰؍ سے ۶۰؍ فیصد پروازیں بھیجی گئیں۔ اس کے بعد میکسیکو اور جنوبی امریکہ کے ممالک کا نمبر آتا ہے۔ دیگر مقامات میں سب صحارا افریقہ، ایشیا، کیریبین، یورپ، مشرق وسطیٰ اور بعض اوقات اوشیانا بھی شامل رہے۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان اعداد و شمار کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ مئی ۲۰۲۶ء میں ایک ہزار سے زائد پروازیں دراصل امریکہ کے اندر حراستی مراکز کے درمیان قیدیوں کی منتقلی کے لیے استعمال ہوئیں۔ ان پروازوں کے ذریعے زیرِ حراست تارکینِ وطن کو ایک ریاست سے دوسری ریاست کے مراکز میں منتقل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: لبنان: اسرائیلی حملے میں معروف ماہر ماحولیات مونا خلیل کا انتقال

اسی دوران ٹرمپ انتظامیہ نے شہریت منسوخ کرنے کی کارروائیوں میں بھی تیزی لائی ہے۔ امریکی محکمہ انصاف کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق حکومت اکتوبر تک وفاقی عدالتوں میں ۲۵۰؍ سے زائد ’’ڈی نیچرلائزیشن‘‘ مقدمات دائر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان میں سے ۲۹؍ مقدمات صرف چند ہفتوں کے دوران غیر ملکی نژاد امریکی شہریوں کی شہریت ختم کرنے کے لیے دائر کیے گئے۔ اس پالیسی کے نفاذ کے دوران انتظامیہ کو کئی اندرونی تبدیلیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا، جن میں سابق ہوم لینڈ سیکوریٹی سیکرٹری کرسٹی نوم اور سابق اٹارنی جنرل پام بوندی کی رخصتی بھی شامل ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی کانگریس بھی ہوم لینڈ سیکوریٹی ڈپارٹمنٹ کو ٹرمپ کی ملک بدری مہم کے لیے تقریباً ۷۰؍ ارب ڈالر کی اضافی فنڈنگ فراہم کرنے پر غور کر رہی ہے۔ ڈیموکریٹ لیڈرؤں اور تارکینِ وطن کے حقوق کے حامی گروپوں نے اس منصوبے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بعض ناقدین نے اسے ’’آئی سی ای کے لیے اے ٹی ایم‘‘ جبکہ بعض نے ’’سڑا ہوا بل‘‘ قرار دیا ہے۔

ٹرمپ کے سرحدی امور کے مشیر نے حال ہی میں امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم لوگوں کو گرفتار کرنا جاری رکھیں گے، ہم لوگوں کو حراست میں رکھنا جاری رکھیں گے، اور ہم لوگوں کو ملک بدر کرتے رہیں گے۔‘‘ دوسری جانب عوامی رائے بھی تقسیم دکھائی دیتی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس اور NORC سینٹر فار پبلک افیئرز ریسرچ کے ۲۵۰۰؍ سے زائد امریکی بالغوں پر مشتمل سروے کے مطابق ۱۰؍ میں سے ۶؍ امریکیوں کا خیال ہے کہ امریکہ کبھی تارکینِ وطن کے لیے بہتر جگہ تھا لیکن اب ایسا نہیں رہا۔ تقریباً ایک تہائی افراد نے کہا کہ انہوں نے یا ان کے جاننے والوں نے امیگریشن کارروائیوں کے خوف سے اپنی شہریت یا امیگریشن دستاویزات ساتھ رکھنا شروع کر دی ہیں، سفر کے منصوبے تبدیل کیے ہیں یا بعض اوقات گھر سے نکلنے میں بھی احتیاط برتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: الجزیرہ نے غزہ میں اسرائیلی حملے میں کیمرہ مین کی شہادت کے بعد عالمی برادری سے احتساب کا مطالبہ کیا

اسی طرح مارچ ۲۰۲۶ء میں جاری ہونے والے ایک بڑے سروے میں، جس میں تمام ۵۰؍ ریاستوں کے ۳۰؍ ہزار سے زائد افراد شامل تھے، ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی پر ریپبلکن اور ڈیموکریٹ ووٹروں کے درمیان ۶۷؍ نکاتی فرق سامنے آیا۔ سروے کے مطابق مجموعی طور پر ۳۷؍ فیصد امریکیوں نے ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کی حمایت کی، جبکہ ڈیموکریٹس میں یہ شرح صرف ۱۱؍ فیصد اور ریپبلکنز میں ۷۸؍ فیصد رہی۔ آئی سی ای کے امیگریشن قوانین کے نفاذ کو مجموعی طور پر ۳۳؍ فیصد امریکیوں کی حمایت حاصل ہوئی، جس میں ۶۹؍ فیصد ریپبلکن اور صرف ۹؍  فیصد ڈیموکریٹس شامل تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK