Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کے مالیاتی گوشوارے منظر عام پر: صدارتی تنخواہ صفر، کرپٹو سے ۴ء۱ ارب ڈالر کی آمدنی

Updated: July 01, 2026, 9:56 PM IST | Washington

ٹرمپ آرگنائزیشن کے ایک نمائندے نے ۹۲۷ صفحات پر مشتمل اس فائلنگ کو ”اب تک جمع کرائی گئی سب سے جامع مالیاتی گوشواروں میں سے ایک“ قرار دیا۔ اس کے برعکس، سابق صدور براک اوبامہ اور جو بائیڈن کے آخری صدارتی گوشواروں کے فارم بالترتیب آٹھ اور گیارہ صفحات پر مشتمل ہیں۔

Donald Trump. Photo: X
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ۳۰ جون کو ۹۲۷ صفحات پر مشتمل مالیاتی گوشوارے (فنانشل ڈسکلوژر) جاری کئے ہیں، جس میں انکشاف ہوا کہ انہوں نے اپنی دوسری مدتِ صدارت کے پہلے سال یعنی ۲۰۲۵ء کے دوران کرپٹو کرنسی کے منصوبوں سے ایک ارب ڈالر سے زائد کمائے، جبکہ کوئی صدارتی تنخواہ وصول نہیں کی۔

صرف ۲۰۲۵ء میں ٹرمپ کو کرپٹو سے ہونے والی کل آمدنی تقریباً ۴ء۱ ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس کا سب سے بڑا حصہ، یعنی ۶۳۶ ملین ڈالر، ٹرمپ آرگنائزیشن سے وابستہ کمپنی ’سی آئی سی ڈجیٹل ایل ایل سی‘ (CIC Digital LLC) سے حاصل ہوا۔ اس میں سے ۶۳۵ ملین ڈالر کا تعلق ایک کرپٹو گروپ ”سیلیبریشن کوائنز“ (Celebration Coins) کے ساتھ لائسنسنگ کے معاہدے سے ہے، جس کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ ٹرمپ کے $TRUMP میم کوائن کی فروخت کا ذمہ دار ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: غیرملکی حاملہ خواتین کی آمد روکنے کیلئے نئی امریکی پالیسی زیر غور

مزید ۲۳۶ ملین ڈالر دیگر کرپٹو کرنسی ٹوکنز کی فروخت سے حاصل ہوئے، جبکہ ٹرمپ خاندان کے کرپٹو پروجیکٹ ’ورلڈ لبرٹی فنانشل‘ (World Liberty Financial) سے منسلک ۶۵ ملین ڈالر سے زائد مالیت کے ایکویٹی شیئرز کی فروخت نے بھی اس مجموعی رقم میں اضافہ کیا۔ اس کے علاوہ، ۲۹۰ ملین ڈالر سے زائد کی رقم کو ورلڈ لبرٹی فنانشل سے جڑے کرپٹو والٹس سے حاصل ہونے والی آمدنی کے طور پر ظاہر کیا گیا۔

ٹرمپ اکثر عوامی سطح پر یہ شکایت کرتے رہے ہیں کہ سالانہ ۴ لاکھ ڈالر کی صدارتی تنخواہ نہ لینے پر انہیں ”کوئی کریڈٹ“ نہیں دیا جاتا۔ روم میں ایک عوامی تقریب کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ ”میں نے صدارتی تنخواہ سے دستبرداری اختیار کرلی۔ میں واحد صدر ہوں جس نے کبھی اس سے دستبرداری اختیار کی ہے۔“ تاہم، نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، سابق امریکی صدور جان ایف کینیڈی اور ہربرٹ ہوور نے بھی اپنی صدارتی تنخواہیں خیراتی اداروں کو عطیہ کر دی تھیں۔ امریکی ماہرِ اقتصادیات پیٹر شیف نے تنقیدی انداز میں لکھا کہ ”ٹرمپ نے صدر کے طور پر اپنی طاقت کا استعمال کرکے اربوں ڈالر کمائے ہیں۔ انہیں تنخواہ کی کیا ضرورت ہے؟ وہ تو بہت معمولی رقم ہے۔ وہ پبلسٹی حاصل کرنے کیلئے اپنی چھوٹی سی تنخواہ چھوڑ دیتے ہیں۔“

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے پیدائشی شہریت ختم کرنے کے حکم نامے کو مسترد کردیا

ٹرمپ کے مالیاتی گوشواروں سے یہ بھی انکشاف ہوا کہ تارکینِ وطن کو حراست میں لئے جانے کی تعداد میں اضافے کے دوران، ٹرمپ کے انویسٹمنٹ اکاؤنٹس نے ان کی حلف برداری کے محض دس دن بعد ’جیو گروپ‘ (GEO Group) کے ایک لاکھ ۴۳ ہزار ڈالر سے ۴ لاکھ ۴۵ ہزار ڈالر کے درمیان مالیت کے شیئرز خریدے، جو ایک نجی جیل کمپنی اور امریکی امیگریشن ایجنسی آئس (ICE) کے سب سے بڑے کنٹریکٹرز میں سے ایک ہے۔

ٹرمپ نے اے بی سی نیوز، سی بی ایس نیوز، میٹا (Meta) اور گوگل (Google) سمیت میڈیا تنظیموں کے ساتھ قانونی تصفیوں کے ذریعے بھی ۸۰ ملین ڈالر کمائے۔ فرسٹ لیڈی میلانیا ٹرمپ کی دستاویزی فلم ”میلانیا“ کیلئے اپنے امیج (تصویر) کو لائسنس دینے سے حاصل ہونے والی ۱۰ ملین ڈالر کی آمدنی بھی اس میں شامل ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی سپریم کورٹ کا ڈونالڈ ٹرمپ کے اختیارارت میں ۹۰؍ سالوں میں سب سےبڑا اضافہ

وہائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے کہا کہ ٹرمپ کی صدارت میں”امریکہ فخریہ طور پر دنیا کا کرپٹو دارالحکومت بن گیا ہے۔“ ٹرمپ آرگنائزیشن کے ایک نمائندے نے تقریباً ایک ہزار صفحات پر مشتمل اس فائلنگ کو ”اب تک جمع کرائی گئی سب سے جامع مالیاتی گوشواروں کی رپورٹوں میں سے ایک“ قرار دیا۔ اس کے برعکس، براک اوبامہ اور جو بائیڈن کے آخری صدارتی گوشواروں کے فارم بالترتیب آٹھ اور گیارہ صفحات پر مشتمل ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK