امریکہ کے صدر ڈونالڈ نے حال ہی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ وہ میکسیکو کی خلیج کا نام خلیج ٹرمپ رکھنے کے خواہشمند تھے مگر ڈرتے تھے کہ ایسا کرنے پر لوگ انہیں مار دیں گے۔
EPAPER
Updated: January 21, 2026, 9:02 PM IST | Washington
امریکہ کے صدر ڈونالڈ نے حال ہی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ وہ میکسیکو کی خلیج کا نام خلیج ٹرمپ رکھنے کے خواہشمند تھے مگر ڈرتے تھے کہ ایسا کرنے پر لوگ انہیں مار دیں گے۔
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بطور صدر اپنی دوسری مدت کے ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر ایک پریس بریفنگ میں اس بات کا امکشاف کیا کہ ایک بار وہ میکسیکو کی خلیج کا نام خلیج امریکہ کے بجائے اپنے نام پر رکھنے کے بارے مین سوچ رہے تھے۔ مزید کہا کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا اس کی وجہ یہ نہیں کہ ان کی دلچسپی کم تھی بلکہ وہ رد عمل سے ڈرتے تھے۔ وہائٹ ہاؤس میں منگل یعنی ۲۰؍ جنوری کو ایک پریس بریفنگ کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اس بارے میں کئی بار سوچا۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں اس (خلیج امریکہ) کا نام خلیج ٹرمپ رکھنے والا تھا، لیکن میں نے سوچا کہ اگر ایسا کرتا ہوں تو مارا جاؤں گا۔‘‘ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے معاونین نے بھی اس کے خلاف انہیں خبردار کیا۔ ان کے مطابق، عملے نے انہیں کہا کہ یہ اچھا نہیں ہوگا، لیکن وہ متفق نہیں ہوئے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’’میں یہ کرنا چاہتا تھا۔ میں یہ کرنا چاہتا تھا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ آخر کار انہیں یہ خیال چھوڑنے پر آمادہ کیا گیا۔ ٹرمپ نے بتایا کہ ’’جو ٹیم خلیج کانام تبدیل کرنے کا آئیڈیا لے کر آئی تھی، اس نے کہا کہ میرے لوگوں نے اس نام (خلیج امریکہ) کیلئے کافی محنت کی ہے، سر! اور ویسے بھی یہ نام (خلیج ٹرمپ) اچھا نہیں لگے گا۔‘‘ مَیں کہہ رہا ہوں کہ یہ نام (خلیج ٹرمپ) اچھا ہے لیکن پھر میں نے ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کے خلاف ملک گیر احتجاج
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ مذاق کر رہے ہیں
کچھ دیر بعد ٹرمپ نے کہا کہ وہ مذاق کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ سنجیدگی سے خلیج نام تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی نہیں کر رہے ہیں اور منفی سرخیوں سے بچنا چاہتے ہیں۔ پھر بھی انہوں نے اسے مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’خلیج ٹرمپ، یہ سننے میں کانوں کو بھلا محسوس ہوتا ہے۔ میرے خیال سے ہم ایسا کر سکتے ہیں۔ ابھی دیر نہیں ہوئی ہے۔‘‘ اس کے بعد انہوں اس متبادل کی تعریف کی اور کہا کہ ’’اب ہم اسے خلیج امریکہ کے نام سے جانتے ہیں، یہ بہتر ہے۔‘‘
ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوا ہے
انہوں نے کہا کہ وہ مذاق کر رہے ہیں مگر انہوں نے ماضی میں کئی بار اپنے نام کو چیزوں سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی انتظامیہ نے یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس اور کنیڈی سینٹر سمیت کئی وفاتی اداروں کے نام بدل دیے جس کی وجہ سے ۲۰۲۵ء میں کرسمس پر بڑا تنازع ہوا۔ وہائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے نام سے پراجیکٹ بھی شروع کئے ہیں جن میں ۲۰۲۵ء سے ۲۰۲۸ء کے بیچ پیدا ہونے والے بچوں کیلئے ’’ٹرمپ اکاؤنٹ‘‘ اور ویزا کی عرضی گزاروں کیلئے ایک ملین ڈالر کا ’’ٹرمپ گولڈ کارڈز‘‘ اور یہاں تک کہ ایک ’’ٹرمپ کلاس‘‘ جنگی جہازوںکا بیڑا شامل ہیں۔ انتظامیہ کے اہلکاروں نے گزشتہ ہفتے کہا ہے کہ کریڈٹ کارڈ کی شرح سود کو محدود کرنے کیلئے بینک جلد ہی ’’ٹرمپ کارڈز‘‘ متعارف کروا سکتے ہیں۔ ٹرمپ کی تصویر امریکہ کے دی بیوٹی فل نیشنل پارکس پاس اور ۲۰۲۶ء کے مجوزہ نیم صد سالہ ایک ڈالر کے سکے پر بھی دیکھی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: الشرع اور ٹرمپ کا شام کی وحدت اور استحکام کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور
ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ کیوں ’’خلیج میکسیکو‘‘ نے انہیں پریشان کیا؟
ٹرمپ نے کہا کہ میکسیکو کی خلیج کے نام نے انہیں ہمیشہ پریشان کیا ہے۔ انہوں نے گھبرا کر کہا کہ ’’آپ جانتے ہیں، ساحل کا زیادہ تر حصہ ہمارے پاس ہے۔ میکسیکو کے پاس کچھ ہی حصہ ہے، تقریباً ۸؍ فیصد۔ ہمارے پاس ۹۲؍ فیصد ہے۔ تو میں نے یہ سوال کیا کہ ایسا کیوں؟ کیوں یہ خلیج میکسیکو ہے؟ اسے خلیج امریکہ ہونا چاہئے۔‘‘ تاہم ان کے دعوے درست نہیں ہیں۔ حقیقت میں امریکہ اور میکسیکو کے درمیان پانی اور ساحل تقریبا یکساں طور پر مشترک ہیں۔ جبکہ کیوبا بھی خلیج کے پانچ فیصد پر کنٹرول رکھتا ہے۔