Updated: August 20, 2026, 1:01 PM IST
| Mumbai
مہاراشٹر میں جنک فوڈ کے خلاف فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی کارروائی کے بعد ممبئی کے اسکولوں کی کینٹینوں کے مینو میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ وڑا پاؤ، سموسے اور تلی ہوئی اشیا کی جگہ اِڈلی، ڈوسا، پوہا، شیرا اور اُپما شامل کیے جارہے ہیں، جبکہ کولڈ ڈرنکس کے بجائے چھاچھ کو ترجیح دی جارہی ہے۔ ایف ڈی اے کمشنر تکارام منڈے کی ہدایات کے تحت اسکولوں کے ۵۰؍ میٹر کے دائرے میں بھی زیادہ چکنائی، شکر اور نمک والی غذاؤں کی فروخت پر روک لگائی گئی ہے۔
مہاراشٹر کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کی جانب سے اسکولوں میں جنک فوڈ کے خلاف سخت کارروائی کے بعد ممبئی کے اسکولوں کی کینٹینوں کے مینو میں نمایاں تبدیلیاں شروع ہوگئی ہیں۔ کئی اسکولوں میں بچوں کے پسندیدہ وڑا پاؤ، سموسے، برگر، فرنچ فرائز اور دیگر تلی ہوئی اشیا کو مینو سے ہٹا کر ان کی جگہ اِڈلی، ڈوسا، پوہا، شیرا، اُپما اور دیگر نسبتاً صحت بخش کھانے شامل کئے جارہے ہیں۔ اسی طرح کاربونیٹڈ مشروبات اور کولڈ ڈرنکس کی جگہ چھاچھ جیسے صحت بخش مشروبات کو ترجیح دی جارہی ہے۔ یہ تبدیلیاں ایف ڈی اے کمشنر تکارام منڈے کی جانب سے اسکولوں میں غیر صحت بخش غذاؤں کی فروخت، تقسیم اور تشہیر روکنے کے احکامات کے بعد تیزی سے نافذ کی جارہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’کیا آج ہم شندے کو نااہل قرار دے سکتے ہیں؟‘‘
تکارام منڈے کی قیادت میں ایف ڈی اے نے مہاراشٹر کے تمام سرکاری، امداد یافتہ اور نجی اسکولوں کو ہدایت دی ہے کہ اسکولوں کے احاطے میں زیادہ چکنائی، شکر اور نمک والی غذائیں فروخت یا نمائش کیلئے نہ رکھی جائیں۔ اس پابندی کا دائرہ اسکول کی عمارت تک محدود نہیں بلکہ اسکول کے اردگرد ۵۰؍ میٹر کے علاقے تک پھیلا دیا گیا ہے۔ اس دائرے میں جنک فوڈ کی فروخت، مفت تقسیم اور تشہیر بھی ممنوع ہوگی۔ پابندی کے دائرے میں سافٹ ڈرنکس، چپس، چاکلیٹ، آئس کریم، تلی ہوئی اشیا اور دیگر زیادہ چکنائی، شکر یا نمک والی غذائیں شامل ہیں۔ ایف ڈی اے نے اسکول انتظامیہ کو قواعد پر عمل درآمد کی ذمہ داری سونپی ہے، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ حکام کو کارروائی کی ہدایت دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پی ایم کیئر فنڈ کے عدم استعمال پر تنقیدیں، پریانک کھرگے نے سفاکیت قرار دیا
ممبئی میں اس حکم کے اثرات اب اسکولوں کے روزمرہ معمول میں بھی نظر آنے لگے ہیں۔ آرچ ڈائیوسیزن بورڈ آف ایجوکیشن کے تحت چلنے والے متعدد اسکولوں نے وڑا پاؤ اور سموسے کو کینٹین کے مینو سے ہٹا کر اِڈلی، ڈوسا، پوہا، شیرا اور اُپما شامل کئے ہیں۔ دہیسَر کے پورنا پرگیا اسکول نے تلی ہوئی اشیا پر مکمل پابندی عائد کردی ہے، جبکہ انتظامیہ بچوں کے ٹفن کے حوالے سے والدین میں بھی آگاہی پیدا کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ سانتاکروز کے سیکرڈ ہارٹ اسکول نے والدین سے جنک فوڈ، پیک شدہ جوس اور تلی ہوئی اشیا سے گریز کرنے اور بچوں کو تازہ پکا ہوا کھانا اسٹیل کے ڈبوں میں دینے کی اپیل کی ہے۔ تھانے کے بعض اسکولوں نے بھی اسی طرح کی ہدایات جاری کی ہیں اور سری ما ودیالیہ نے سافٹ ڈرنکس کے متبادل کے طور پر چھاچھ کو شامل کیا ہے۔
پوڈر ایجوکیشن نیٹ ورک نے بھی والدین کو صحت مند غذائی عادات سے متعلق رہنما معلومات دوبارہ بھیجی ہیں۔ نیٹ ورک کی جانب سے بچوں کی سالگرہ کی تقریبات میں کیک اور مٹھائیوں کی جگہ تازہ پھل پیش کرنے کی مہم بھی چلائی جارہی ہے۔ ایف ڈی اے کے مطابق اسکولوں کی کینٹینوں، ہاسٹل کچن، دوپہر کے کھانے کے مراکز اور کھانا فراہم کرنے والے اداروں کیلئے ضروری فوڈ سیفٹی لائسنس یا رجسٹریشن بھی لازمی ہے۔ اسکولوں سے کہا گیا ہے کہ وہ صحت مند غذا کے بارے میں معلوماتی بورڈ لگائیں، کھانے کی غذائی خصوصیات واضح کریں اور صفائی، کیڑوں سے تحفظ، درجۂ حرارت اور فضلے کے انتظام جیسے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں۔
یہ بھی پڑھئے: کانگریس کا ملک کے ۸۰۰؍ شہروں میں ’’چھاتروں کی گونج‘‘ کے تحت مہم کا فیصلہ
ایف ڈی اے کے اس اقدام کو والدین کی جانب سے مجموعی طور پر مثبت ردعمل مل رہا ہے، تاہم بعض والدین کا کہنا ہے کہ صرف اسکولوں میں پابندی کافی نہیں۔ ان کے مطابق اسکولوں کے اطراف موجود دکانوں اور کھانے پینے کے اسٹالز پر بھی یکساں سختی سے قواعد نافذ کئے جانے چاہئیں، کیونکہ بچے اسکول کے باہر بھی ایسی غذائیں خریدتے ہیں۔ نئے اقدامات دراصل ’’اسکولوں میں بچوں کیلئے محفوظ غذا اور متوازن خوراک‘‘ سے متعلق ۲۰۲۰ء کے ضوابط پر عمل درآمد کی کوشش ہیں، جن میں بچوں کیلئے پھل، سبزیاں، دالیں، مکمل اناج، دودھ اور دیگر مقامی غذائیت سے بھرپور کھانے کو ترجیح دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یوں تکارام منڈے کی قیادت میں شروع ہونے والی ایف ڈی اے کی مہم نے ممبئی کے اسکولوں میں بچوں کے کھانے کے طریقے کو بدلنے کی سمت ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ وڑا پاؤ اور سموسے کی جگہ اِڈلی اور پوہا، جبکہ کولڈ ڈرنکس کی جگہ چھاچھ کا آنا اس تبدیلی کی نمایاں مثالیں ہیں۔ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ اسکول جانے والے بچوں کو کم غذائیت والی اور زیادہ چکنائی، شکر و نمک والی اشیا سے دور رکھ کر صحت بخش غذا کی عادت ڈالی جائے۔