• Thu, 24 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ترکی: اسرائیل سے منسلک عالمی فراڈ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی، ۲۱۱؍ گرفتار

Updated: September 24, 2026, 10:04 PM IST | Istanbul

جعلی فاریکس اور کرپٹو سرمایہ کاری کے ذریعے دنیا بھر کے لوگوں کو نشانہ بنانے والے نیٹ ورک کے ۲۱۱؍ مشتبہ افراد عدالت پہنچا دیے گئے، ۹؍ اسرائیلی شہری بھی شامل ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ترکی میں حکام نے جعلی فاریکس اور کرپٹو کرنسی سرمایہ کاری کے ذریعے غیر ملکی شہریوں سے مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر دھوکا دہی کرنے والے ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی میں اب تک ۲۱۱؍ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ کارروائی میں ۹؍ اسرائیلی شہری بھی شامل ہیں۔ تحقیقات کے مطابق نیٹ ورک نے ۲؍ سال کے دوران صرف دفاتر کے اخراجات اور ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق لین دین میں تقریباً ۱۳؍ ارب ترک لیرا (۴ء۲۶۶؍ ملین ڈالر) کا حجم ریکارڈ کیا، جبکہ ترک تفتیش کاروں کے مطابق متاثرین سے حاصل ہونے والی مبینہ غیر قانونی رقم ۳؍ ارب ڈالر سے زیادہ ہوسکتی ہے۔ یہ کارروائی ۱۸؍ ستمبر کو استنبول اور مغربی ترکی کے صوبے مغلا میں کی گئی۔ ابتدائی طور پر ۲۸؍ کمپنیوں، ۴۲؍ کال سینٹروں اور ۲۳۹؍ مشتبہ افراد سے متعلق ۲۸۶؍ مقامات پر بیک وقت چھاپے مارے گئے۔ کارروائی کے پہلے مرحلے میں ۱۷۵؍ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا، جس کے بعد مزید افراد کی گرفتاری سے تعداد بڑھ کر ۲۰۱؍ ہوئی اور پھر ۱۰؍ مزید مشتبہ افراد پکڑے جانے کے بعد یہ تعداد ۲۱۱؍ ہوگئی۔ ۲۱؍ ستمبر کو تمام ۲۱۱؍ افراد کو طبی جانچ کے بعد استنبول کی عدالت میں پیش کرنے کے لیے بھیج دیا گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو نے احتجاج اور حفاظتی انتباہ کے درمیان اپنا امریکہ دورہ مختصر کیا

ترکی کے وزیر انصاف اکین گورلیک کے مطابق یہ تحقیقات استنبول کے چیف پراسیکیوٹر کے دفتر کی نگرانی میں جاری ۴؍ الگ تحقیقات کے نتیجے میں سامنے آئیں۔ اس میں ترکی کی قومی انٹیلی جنس تنظیم، پولیس، مالیاتی جرائم کی تفتیشی ادارے اور انٹرپول کے متعلقہ یونٹس نے حصہ لیا۔ مالیاتی تجزیوں، انٹیلی جنس معلومات اور انٹرپول کے ذریعے موصول ہونے والی سیکڑوں متاثرین کی شکایات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ زیر تفتیش کمپنیوں کی ملکیت اور حتمی فائدہ اٹھانے والوں کے ڈھانچے میں اسرائیل سے منسلک افراد نمایاں تھے۔ تفتیش کے مطابق مبینہ نیٹ ورک سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر فاریکس اور کرپٹو سرمایہ کاری کے اشتہارات چلاتا تھا، جن میں غیر معمولی منافع کا وعدہ کیا جاتا تھا۔ مختلف زبانیں بولنے والے کال سینٹر ملازمین ممکنہ متاثرین سے رابطہ کرتے اور انہیں سرمایہ کاری کے پلیٹ فارم پر رقم جمع کرانے کے لیے آمادہ کرتے تھے۔ ان پلیٹ فارموں پر سرمایہ کاروں کو بظاہر منافع کمانے کے اعداد و شمار دکھائے جاتے تھے تاکہ وہ مزید رقم لگائیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’ہم اسرائیلی اقدامات پرخاموش نہیں رہیں گے‘‘

تحقیقات کے مطابق جب متاثرین اپنی رقم واپس لینے کی کوشش کرتے تو انہیں بتایا جاتا کہ اکاؤنٹ پر پابندی عائد ہے، ٹیکس ادا کرنا ہوگا یا رقم نکالنے کے لیے اضافی فیس درکار ہے۔ اس طرح ان سے مزید ادائیگیاں کرائی جاتیں اور رقم بیرون ملک بینک اکاؤنٹس یا کرپٹو والیٹس میں منتقل کی جاتی۔ ترک حکام کے مطابق بعض پلیٹ فارموں پر دکھائی جانے والی مارکیٹ سرگرمیاں اور منافع کے اعداد و شمار حقیقی تجارت کے بجائے مصنوعی طور پر تیار کیے جاتے تھے۔ ترک تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ نیٹ ورک کے لیے کام کرنے والے کال سینٹر ملازمین کو مختلف زبانوں میں متاثرین سے بات کرنے کے لیے بھرتی کیا جاتا تھا۔ ٹی آر ٹی ورلڈ کی تحقیقات کے مطابق بعض ملازمین کو صرف ایک ہفتے کی تربیت دی جاتی، انہیں فرضی نام اور پس منظر فراہم کیے جاتے اور بعض کو آکسفورڈ سے فارغ التحصیل یا معروف مالیاتی ادارے کے نمائندے کے طور پر اپنا تعارف کرانے کی تربیت دی جاتی تھی۔ 
نیٹ ورک کے کام کرنے کے طریقے میں متاثرین کا اعتماد حاصل کرنا بھی اہم مرحلہ تھا۔ تفتیش کے مطابق ابتدائی طور پر نسبتاً کم رقم لگانے والے افراد کو مصنوعی منافع دکھایا جاتا اور بعض اوقات محدود رقم واپس لینے کی اجازت بھی دی جاتی تھی۔ اس کے بعد انہیں زیادہ رقم لگانے کے لیے آمادہ کیا جاتا۔ جب سرمایہ کاری بڑی ہوجاتی تو رقم نکالنے میں رکاوٹیں پیدا کی جاتیں اور مزید ادائیگی کا مطالبہ کیا جاتا۔ ترکی کی تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ نیٹ ورک نے مختلف ممالک کے شہریوں کو نشانہ بنایا، جن میں برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، ملائیشیا، متحدہ عرب امارات، روس، سنگاپور، چین، سوئٹزرلینڈ، بیلجیم، سویڈن اور جنوبی کوریا شامل ہیں۔ ترک حکام کے مطابق تنظیم نے اسرائیلی اور امریکی شہریوں کو نشانہ نہ بنانے کی ہدایت دی تھی، جبکہ دیگر ممالک کے شہریوں کو سرمایہ کاری فراڈ کا ہدف بنایا جاتا تھا۔ یہ بات ترک تفتیشی حکام کے دعوے کے طور پر سامنے آئی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایران کبھی گھٹنے نہیں ٹیکے گا: صدر پیزشکیان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ٹرمپ کو جواب

اس کارروائی میں گرفتار غیر ملکی شہریوں میں ۹؍ اسرائیلی، ۱۱؍ پاکستانی اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق باقی غیر ملکی مشتبہ افراد کا تعلق آذربائیجان، شام، اردن، یوکرین، تھائی لینڈ، انڈونیشیا، مراکش، قزاخستان، فلپائن، ایران، چین، لبنان، فلسطین، میکسیکو، مصر، موزمبیق، ارجنٹینا اور بنگلہ دیش سمیت مختلف ممالک سے بتایا گیا ہے۔ ٹی آر ٹی ورلڈ کی الگ تحقیق میں نیٹ ورک کے اندر ۱۵؍ اسرائیلی شہریوں کے اہم انتظامی کرداروں میں ہونے کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم یہ تعداد گرفتار اسرائیلی شہریوں کی تعداد سے مختلف ہے۔ سرکاری طور پر ۲۱؍ ستمبر تک حراست میں لیے گئے افراد میں ۹؍ اسرائیلی شہریوں کی تصدیق ہوئی تھی، اس لیے دونوں اعداد کو ایک ہی زمرے میں رکھنا درست نہیں ہوگا۔ 
تحقیقات میں اسرائیل سے منسلک افراد کے ساتھ یونان کے زیر انتظام قبرص کے کاروباری ڈھانچے کے روابط کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ ٹی آر ٹی ورلڈ کی تحقیق کے مطابق ویب موو ہولڈنگز لمیٹڈ نامی لمیٹڈ کمپنی، جو لیماسول میں رجسٹرڈ ہے، مبینہ نیٹ ورک کے ڈھانچے میں سامنے آئی ہے۔ تحقیق میں ایک گرفتار اسرائیلی شہری یگال امیت کو بھی اس کمپنی اور نیٹ ورک کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ یہ تفصیلات تفتیشی رپورٹ اور کمپنی ریکارڈز پر مبنی ہیں، جبکہ ان افراد کے خلاف الزامات کا حتمی فیصلہ عدالت کرے گی۔ تحقیقات کے مطابق نیٹ ورک کی تکنیکی اور کاروباری ساخت کئی تہوں پر مشتمل تھی۔ بعض کمپنیاں بظاہر عام کاروباری سرگرمیوں، مشاورتی خدمات یا کال سینٹر کے طور پر کام کرتی تھیں، جبکہ مبینہ طور پر ان کے ذریعے سرمایہ کاری کے پلیٹ فارم اور متاثرین تک رسائی کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ٹی آر ٹی ورلڈ کی تحقیق میں ایسے اداروں کا بھی ذکر ہے جو مبینہ طور پر کمپنیوں کے لیے نامزد انتظامی یا رجسٹرڈ دفتر کی خدمات فراہم کرتے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: صدر ٹرمپ کو ایران جنگ، تیل کی قیمت ،غیر مقبول پالیسیوں پر تنقید کا سامنا

ترک حکام نے کارروائی کے دوران مبینہ جرائم سے حاصل ہونے والے اثاثوں کو بھی نشانہ بنایا۔ ۵ء۱؍ ارب ترک لیرا مالیت کے اثاثے، ۸۰؍ گاڑیاں اور ۱۲؍ جائیدادیں ضبط یا تحویل میں لیے گئے، جبکہ متعلقہ بینک، کمپنی اور کرپٹو اثاثوں پر بھی پابندیاں عائد کی گئیں۔ ۲۱؍ ستمبر تک ۲۱۱؍ مشتبہ افراد کو عدالت بھیج دیا گیا تھا۔ یہ کارروائی ایک ایسے بین الاقوامی فراڈ ماڈل کے خلاف ہوئی ہے جس میں جعلی سرمایہ کاری پلیٹ فارم، فرضی منافع، کثیر لسانی کال سینٹر اور سرحد پار مالیاتی منتقلی ایک ہی نظام کا حصہ بن سکتے ہیں۔ ٹی آر ٹی ورلڈ کے مطابق ترکی کی حالیہ تحقیقات میں سامنے آنے والے طریقۂ کار کے بعض پہلو پہلے ہی آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پروجیکٹ (OCCRP) کی ایک وسیع تحقیق میں بھی سامنے آچکے ہیں، جس نے اسرائیل، یورپ اور جارجیا سے چلنے والے ۲؍ فراڈ گروپوں کے بارے میں لیک شدہ ڈیٹا کی بنیاد پر کم از کم ۳۲؍ ہزار افراد اور ۲۷۵؍ ملین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا جائزہ لیا تھا۔ تاہم OCCRP کی وہ تحقیقات اور ترکی کی موجودہ کارروائی کو ایک ہی نیٹ ورک قرار دینا درست نہیں ہوگا؛ دونوں کے درمیان مماثلتیں موجود ہیں، مگر دونوں کی براہ راست وابستگی الگ سے ثابت ہونا ضروری ہے۔ 
ترکی میں موجودہ معاملے کی قانونی کارروائی اب عدالتوں کے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ ۲۱؍ ستمبر کو ۲۱۱؍ مشتبہ افراد کو استنبول کی عدالت بھیجے جانے کے بعد ان کے خلاف الزامات اور شواہد کا جائزہ عدالتی عمل کے تحت ہوگا۔ اس لیے تفتیش میں سامنے آنے والے دعووں کو حتمی مجرمانہ فیصلے کے طور پر نہیں بلکہ زیر تفتیش الزامات کے طور پر دیکھا جائے گا۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK