• Tue, 20 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یو اے ای: سوشل میڈیا پر توہین آمیز تبصرہ کرنے والوں کو ۵؍ لاکھ درہم جرمانے

Updated: October 20, 2026, 8:36 PM IST | Dubai

وزارتِ داخلہ، دبئی پولیس اور دبئی الیکٹرانک سیکوریٹی سینٹر کی مشترکہ مہم میں آن لائن توہین اور ہتکِ عزت کے قانونی نتائج اجاگر، وفاقی قانون کے آرٹیکل ۴۳؍ کے تحت ڈھائی لاکھ سے ۵؍ لاکھ درہم تک جرمانہ اور قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

متحدہ عرب امارات میں سوشل میڈیا پر کسی شخص کی توہین کرنے، اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانے یا اسے دوسروں کی نظر میں قابلِ تحقیر بنانے والے الزامات عائد کرنے پر صارفین کو قید اور ۵؍ لاکھ درہم تک جرمانے کی وارننگ دی گئی ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ آن لائن پلیٹ فارم پر شائع ہونے والے تبصرے بھی قانونی کارروائی کی بنیاد بن سکتے ہیں، اس لیے صارفین کو کچھ بھی لکھنے یا شیئر کرنے سے پہلے اس کے ممکنہ نتائج پر غور کرنا چاہیے۔ یہ انتباہ ملک گیر ڈجیٹل آگاہی مہم ’’دی یو اے ای اِز سیف وِد یور ڈجیٹل اویئرنیس‘‘ کے تحت جاری کیا گیا ہے، جس کا مقصد انٹرنیٹ پر ذمہ دارانہ رویے اور محفوظ ڈجیٹل ماحول کو فروغ دینا ہے۔ خلیج ٹائمز اور گلف نیوز کی رپورٹس کے مطابق، یہ مہم متحدہ عرب امارات کی وزارتِ داخلہ نے دبئی پولیس اور دبئی الیکٹرانک سیکوریٹی سینٹر (ڈی ای ایس سی) کے اشتراک سے شروع کی ہے۔ اکتوبر میں سائبر سیکوریٹی آگاہی ماہ کے موقع پر جاری کیے گئے پیغام میں صارفین کو خبردار کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر ذاتی حملے، توہین آمیز زبان، تمسخر اور کسی کی ساکھ متاثر کرنے والے تبصرے محض آن لائن گفتگو تک محدود نہیں رہتے، بلکہ مخصوص حالات میں ان پر قانونی کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: انڈین یوتھ کانگریس کا ’ووٹ چوری کی راس لیلا‘ کے عنوان سےنکڑ ناٹک

حکام کی جانب سے توجہ متحدہ عرب امارات کے وفاقی قانون نمبر ۳۴؍  برائے ۲۰۲۱ء پر مرکوز کی گئی ہے، جو افواہوں اور سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے وضع کیا گیا تھا۔ اس قانون کی دفعہ ۴۳؍ کے تحت اگر کوئی شخص انفارمیشن نیٹ ورک، انفارمیشن ٹیکنالوجی یا کسی انفارمیشن سسٹم کے ذریعے دوسرے شخص کی توہین کرے یا اس سے متعلق ایسا الزام عائد کرے جس کے نتیجے میں وہ سزا یا دوسروں کی تحقیر کا سامنا کرسکتا ہو تو اسے قید اور ڈھائی لاکھ سے ۵؍ لاکھ درہم تک جرمانے کی سزا دی جاسکتی ہے، یا ان میں سے کوئی ایک سزا بھی دی جاسکتی ہے۔ قانون میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر ایسا جرم کسی سرکاری عہدیدار یا عوامی خدمت پر مامور شخص کے خلاف اس کے سرکاری فرائض کی انجام دہی کے دوران یا ان فرائض کی وجہ سے کیا جائے تو اسے جرم کی سنگین نوعیت بڑھانے والا عنصر سمجھا جائے گا۔ تاہم کسی مخصوص تبصرے پر قانون کا اطلاق اس کے مواد اور متعلقہ حالات کے مطابق ہوگا؛ محض ہر اختلافِ رائے کو خودبخود اس دفعہ کے تحت جرم قرار نہیں دیا جاسکتا۔

یہ بھی پرھئے: چھ ماہ تک کے بچوں کے لیے غذا میں سوکروز اور فرکٹوز شامل کرنے پر پابندی کی تیاری

اس مہم میں صارفین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا کو مثبت اظہار، معلومات کے تبادلے اور تعمیری گفتگو کے لیے استعمال کریں۔ کسی کی تضحیک کرنے، ذاتی حملے کرنے یا ایسے الفاظ استعمال کرنے سے گریز کیا جائے جو دوسرے شخص کی عزت اور ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔ حکام کے مطابق ڈجیٹل پلیٹ فارم پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا محفوظ اور باہمی احترام پر مبنی آن لائن ماحول کی تشکیل کے لیے ضروری ہے۔ سوشل میڈیا پر تبصرہ کرتے وقت اس بات کو نظرانداز کرنا آسان ہوسکتا ہے کہ آن لائن شائع ہونے والا مواد بھی قانونی اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم اس مہم کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ ڈجیٹل دنیا میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے بھی قانون اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھا جائے۔ صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ کسی شخص کے بارے میں غیر مصدقہ الزام لگانے، اسے عوامی طور پر رسوا کرنے یا توہین آمیز مواد پھیلانے سے پہلے اس کے ممکنہ اثرات پر غور کریں۔ متحدہ عرب امارات کی یہ مہم سائبر جرائم سے متعلق قوانین کے بارے میں عوامی آگاہی بڑھانے کی وسیع تر کوشش کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد صرف قانونی سزاؤں سے خبردار کرنا نہیں، بلکہ اختلافِ رائے کے باوجود شائستگی، ذمہ داری اور باہمی احترام کو فروغ دینا بھی ہے۔ حکام نے صارفین کو یاد دلایا ہے کہ سوشل میڈیا پر اظہارِ خیال کرتے وقت بھی قانون کی حدود اور دوسرے افراد کے حقوق کا احترام ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK