سروے میں شامل اکثر اساتذہ نے اس کی وجہ بچوں میں اسکرین ٹائم کی زیادہ شرح کو قرار دیا اور اسمارٹ فونز اور ٹیبلیٹس کی وجہ سے والدین کی عادات میں آنے والی تبدیلیوں کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا۔
EPAPER
Updated: January 23, 2026, 9:03 PM IST | London
سروے میں شامل اکثر اساتذہ نے اس کی وجہ بچوں میں اسکرین ٹائم کی زیادہ شرح کو قرار دیا اور اسمارٹ فونز اور ٹیبلیٹس کی وجہ سے والدین کی عادات میں آنے والی تبدیلیوں کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا۔
برطانیہ میں کئے گئے ایک نئے سروے نے پرائمری اسکول شروع کرنے والے چھوٹے بچوں میں بنیادی زندگی کی مہارتوں کی کمی کے حوالے سے نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔ سروے میں شامل اساتذہ نے بتایا کہ اسکول میں آنے والے کچھ طلبہ کو کتابوں کا صحیح استعمال تک نہیں معلوم ہوتا اور وہ کتاب کے صفحات کو بھی فون کی اسکرین کی طرح ٹچ کرکے ’’سوائپ‘‘ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
بچوں کی فلاح و بہبود کے ادارے ’کنڈرڈ اسکوائرڈ‘ (Kindred Squared) کی جانب سے کئے گئے سروے میں یہ تشویشناک نتائج سامنے آئے ہیں۔ اس سروے میں پرائمری اسکول کے تقریباً ایک ہزار ملازمین شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق، تقریباً ۳۷ فیصد بچے ’ریسپشن کلاس‘ (پہلی جماعت سے قبل کی کلاس) شروع کرتے وقت اسکول کیلئے تیار نہیں ہوتے۔ ۲۰۲۴ء میں یہ تعداد ۳۳ فیصد تھی جس میں رواں سال اضافہ دیکھنے ملا ہے۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ اب صرف پڑھنے لکھنے تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس میں روزمرہ کی مہارتیں جیسے بیت الخلا کا استعمال، خود اپنے ہاتھوں سے کھانا کھانا اور کتابوں کو سنبھالنا بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کم عمری ہی سے بچوں کو صحیح اور غلط کا فرق سمجھائیں
بیت الخلا کے مسائل اور ذاتی دیکھ بھال میں مشکلات
سروے کے نتائج میں یہ بات سامنے آئی کہ ریسپشن کلاس کے تقریباً ۲۶ فیصد بچوں کو اکثر بیت الخلا کے حوالے سے حادثات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس میں علاقائی فرق بھی نمایاں تھا، شمال مشرقی علاقوں میں یہ شرح سب سے زیادہ ۳۶ فیصد دیکھی گئی۔ اساتذہ نے یہ اندازہ بھی لگایا کہ تقریباً ۲۸ فیصد بچوں کو خود سے کھانے پینے میں دشواری ہوتی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسکولنگ شروع کرنے کی عمر کے بچوں کی بڑی تعداد کا بڑوں پر انحصار غیر متوقع طور پر بڑھتا جارہا ہے۔
بنیادی معمولات کی وجہ سے پڑھائی کے وقت کا ضیاع
اسکول کے عملے نے بتایا کہ کلاس رومز میں اب ان کا زیادہ وقت ان کاموں پر خرچ ہو رہا ہے جنہیں عام طور پر اسکول شروع ہونے سے پہلے گھر پر سنبھال لینا چاہئے تھا۔ اساتذہ نے رپورٹ کیا کہ وہ روزانہ اوسطاً ۴ء۲ گھنٹے کا تدریسی وقت محض بچوں کی بنیادی دیکھ بھال سے متعلق کاموں میں ضائع کر دیتے ہیں۔ اس میں سے تقریباً ۴ء۱ گھنٹے روزانہ بچوں کو بیت الخلا کے استعمال میں مدد کرنے یا ان کے ’نیپیز‘ تبدیل کرنے میں صرف ہوتے ہیں۔ کنڈرڈ اسکوائرڈ کی چیف ایگزیکٹیو فلیسٹی گلیسپی نے اس رجحان کو ایک ’’نظامی بحران‘‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اسکولوں کو تعلیم کے ساتھ بنیادی چائلڈ کیئر سپورٹ کے کردار کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کام کے مقامات پر اے آئی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، لیکن کمپنیاں تربیت میں پیچھے
اس کے پیچھے اسکرین ٹائم ذمہ دار؟ والدین کی رائے مختلف
سروے میں شامل اکثر اساتذہ نے اس کی وجہ بچوں میں اسکرین ٹائم کی زیادہ شرح کو قرار دیا اور اسمارٹ فونز اور ٹیبلیٹس کی وجہ سے والدین کی عادات میں آنے والی تبدیلیوں کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا۔ دوسری طرف، والدین کے ایک علیحدہ سروے میں خیالات کا بڑا تضاد دیکھا گیا۔ اس سروے میں شامل ۸۸ فیصد والدین کا خیال تھا کہ ان کا بچہ اسکول جانے کیلئے تیار ہے جبکہ ۳۵ فیصد کا ماننا تھا کہ ان کا بچہ دوسروں سے زیادہ تیار ہے۔ اس کے باوجود، ۹۴ فیصد والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت بچوں کو اسکول کیلئے تیار کرنے کے حوالے سے واضح ہدایات جاری کرے۔
برطانوی حکومت ’’اسکول ریڈنیس‘‘ (اسکول کیلئے تیاری) کو بہتر بنانے کیلئے کوششیں کر رہی ہے، جس میں بیت الخلا کے استعمال میں خود مختاری، بنیادی لسانی مہارتیں، خود کپڑے پہننا اور کھانا کھانے جیسے اہداف پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔