Inquilab Logo Happiest Places to Work

عمر خالد اور شرجیل امام کے پاس اب ’’کیوریٹیو پٹیشن‘‘ کامتبادل

Updated: May 20, 2026, 5:03 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

ہے مگر نظر ثانی پٹیشن خارج ہوچکی ہے اور ضمانت کی عرضی پر ایک سال کی پابندی ہے اس لئے نئی عرضی کی راہیں مسدود ہیں۔

Umar Khalid.Photo:INN
عمرخالد۔ تصویر:آئی این این
دہلی فساد کی ’’وسیع تر سازش‘‘ کیس میںعمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت پر رہا نہ کرنے کے سپریم کورٹ کے ۵؍ جنوری کے فیصلے پر پیر، ۱۸؍ مئی کو جسٹس اُجّل بھوئیاں اور جسٹس ناگرتنا کی بنچ  کی تنقید کے بعد کچھ امید تو پیدا ہوئی ہے مگر سوال یہ ہے کہ عمر خالد اور شرجیل امام  کے سامنے اب کیا راستہ بچا ہے۔جسٹس روند کمار اور جسٹس این وی انجاریہ کی بنچ نے ان کو  ضمانت دینے  سے  انکار کرتے ہوئے  ایک سال تک نئی عرضی  داخل کرنے سے بھی منع کردیاتھا۔  اس کے خلاف نظر ثانی پٹیشن بھی۱۶؍ اپریل کومسترد ہوچکی ہے۔ اس لئے   فیصلے میں نقص کی نشاندہی کے باوجود ضمانت کی نئی عرضی داخل نہیں کی جاسکتی البتہ قانونی ماہرین کے مطابق عمر خالد اور شرجیل امام  اب ۵؍ جنوری کے فیصلے کی اصلاح کیلئے ’’کیوریٹیو پٹیشن‘‘  (اصلاحی پٹیشن) داخل کرسکتے ہیں۔
 
 
گلفشاں فاطمہ، میراں حیدر، شفاء الرحمٰن ، محمد سلیم  خان اور شاداب احمد کو  ۵؍ جنوری کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم سناتے ہوئے جسٹس روند کمار اور جسٹس این وی انجاریہ کی بنچ نے عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت نہ دینے کیلئے  یہ جواز پیش کیاتھا کہ ان پر عائد کئے گئے الزامات کی نوعیت دیگر ملزمین کے مقابلے میں زیادہ سنگین ہے ۔ بنچ کو عمر خالد اور شرجیل امام کے خلاف عائد کئے گئے الزامات پہلی نظر میں صحیح بھی معلوم ہوئے  تھے اور اس نےاسی بنیادپر انہیں  ایک سال تک  ضمانت کی عرضی داخل کرنے سے روک دیاتھا۔ البتہ پیر کو   جسٹس اجّل بھوئیاں  اور جسٹس  ناگرتنا  نے عدالتی ڈسپلن کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس روند کمار اور جسٹس این وی انجاریہ کی  بنچ کے فیصلےکو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ عمر خالد اور شرجیل کو ضمانت سے محروم رکھنے کیلئے  ۲۰۱۹ء کے ’این آئی اے بنام ظہور احمد وٹالی کیس ‘ کے فیصلے  پر انحصار کیاگیا حالانکہ ’’اے کے نجیب کیس‘‘ پر انحصار کیا جانا چاہئے تھا جو اس کے بعد کا یعنی  ۲۰۲۱ء کا اور  سہ رکنی بنچ (بڑی بنچ)کافیصلہ ہے۔  عدالتی ڈسپلن  ہے کہ کسی بھی معاملے میں  بعد کےاور بڑی بنچ کے فیصلے پر انحصار کیا جانا چاہئے ۔ 
اس نشاندہی کے بعد عمر خالد اور شرجیل امام کیلئے کیوریٹیو پٹیشن   کا راستہ کھل جاتا ہے۔جسٹس روند کمار اور جسٹس این وی انجاریہ کی بنچ  کے فیصلے کو  چیلنج کرنے کا یہ آخری قانونی راستہ بھی  ہے۔
 
 
کیوریٹیو پٹیشن کی سماعت  عام طور پر بڑی بنچ کرتی ہے، جس میںچیف جسٹس آف انڈیا سمیت  سپریم کورٹ کے ۳؍ سینئر ترین جج  اور وہ جج شامل ہوتے ہیں جنہوں نے اصل  فیصلہ سنایا ہے۔تاہم کیوریٹیو پٹیشن کا سماعت کیلئے منظور ہونا اہم ہے۔  یہ اسی صورت میں قبول کی جاتی  ہے جب درخواست گزار یہ ثابت کر ےکہ سماعت منصفانہ نہیں  ہوئی، فیصلہ جانبداری پر مبنی تھا   یا عدالتی طریقہ کار کا   غلط استعمال ہوا جو سنگین ناانصافی کا باعث بنا۔ا س پس منظر میں جسٹس اجل بھوئیاں  اور جسٹس ناگرتنا کی بنچ کے مشاہدات عمر خالد اور شرجیل امام کی جانب سے اہم دلیل  بن سکتے ہیں۔ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق  عمرخالد اور شرجیل امام کے وکیل پیر کے مذکورہ فیصلے مطالعہ کر رہے ہیں اور اس کی بنیاد پر آگے کی حکمت عملی کی جائےگی۔جسٹس اجل بھوئیاں اور ناگرتنا کی بنچ نے ایک سال تک ضمانت کی عرضی داخل کرنے کے حق کو محدود کرنے کے سابقہ فیصلے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK