Updated: June 25, 2026, 8:07 PM IST
| New York
یو این میں پاکستان کے نائب سفیر عثمان جدون نے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں ایک ہی سال کے اندر بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں کے ۱۲ ہزار سے زائد واقعات پیش آنے کو ”خوف ناک“ قرار دیا۔ صومالیہ کے نائب سفیر محمد ربیع یوسف نے کہا کہ غزہ کے فلسطینی بچوں کا مستقبل ”حقیقی اور علامتی دونوں معنوں میں ملبے تلے دفن کیا جا رہا ہے۔“
غزہ میں اسرائیلی حملوں نے فلسطینی بچوں کو بڑے پیمانے پر متاثر کیا ہے۔ تصویر: ایکس
اقوامِ متحدہ (یو این) کی سلامتی کونسل کے اراکین کے درمیان، مسلح تنازعات میں بچوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ پر شدید نظریاتی ٹکراؤ دیکھنے ملا۔ بدھ کو ایک اجلاس میں متعدد رکن ممالک نے فلسطینی بچوں کے خلاف اسرائیلی مظالم کی سخت مذمت کی جبکہ امریکہ نے اسرائیل کا دفاع کرتے ہوئے سارا ملبہ حماس پر ڈال دیا۔
یو این میں کولمبیا کی سفیر اور رواں ماہ کیلئے سلامتی کونسل کی صدر لیونور زالاباٹا ٹوریس نے کہا کہ رپورٹ میں گزشتہ سال ریکارڈ کی گئی سنگین ترین خلاف ورزیوں کی سب سے زیادہ تعداد کیلئے ”سرکاری افواج“ کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ انہوں نے عالمی سطح پر سب سے زیادہ خلاف ورزیوں والے مقام کے طور پر غزہ کی نشان دہی کی، جہاں بیشتر خلاف ورزیاں اسرائیلی افواج سے منسوب ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی سطح پر جنگوں اورقدرتی آفات سے کروڑوں بچوں کی تعلیم متاثر: رپورٹ
ٹوریس نے کہا کہ آزادانہ تحقیقات نے ”آئی ڈی ایف (اسرائیلی دفاعی افواج) کی جانب سے بچوں کے خلاف دانستہ حملوں کے تشویش ناک پیٹرن“ کو دستاویزی شکل دی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا، ”کون سا مقصد یا کس قسم کا سیکوریٹی عذر محض چند ماہ کے بچے یا معصوم بچے پر سرد مہری سے گولی چلانے کا جواز پیش کر سکتا ہے؟“ ٹوریس نے کونسل پر ”اسرائیل کی حکومت کے نسل کشی کے ارادے کو تسلیم کرنے“ کیلئے زور دیا۔
پاکستان کے نائب سفیر عثمان جدون نے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں ایک ہی سال کے اندر بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں کے ۱۲ ہزار سے زائد واقعات پیش آنے کو ”خوف ناک“ قرار دیا۔ صومالیہ کے نائب سفیر محمد ربیع یوسف نے کہا کہ غزہ کے فلسطینی بچوں کا مستقبل ”حقیقی اور علامتی دونوں معنوں میں ملبے تلے دفن کیا جا رہا ہے۔“ چین کے سفیر فو کانگ نے غزہ، ہیٹی اور دیگر خطوں میں مجرموں کی فہرست سازی کو برقرار رکھنے کا خیرمقدم کیا اور زمینی سطح پر قریبی نگرانی پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل فلسطینی بچوں کو نشانہ بنا کر نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے: اقوام متحدہ
روس کی نمائندہ ماریا زابولوٹسکایا نے کہا کہ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارہ مسلسل تیسرے سال بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کی ”خوفناک“ عالمی رینکنگ میں سرفہرست رہے ہیں۔ انہوں نے الگ سے رپورٹ پر یہ الزام بھی لگایا کہ یہ یوکرینی افواج کی جانب سے روسی بچوں کے خلاف مبینہ خلاف ورزیوں کی عکاسی کرنے میں ناکام رہی ہے۔
امریکہ، اسرائیل کے دفاع میں آگے آیا، حماس پر الزام
اس موقع پر امریکہ کی جانب سے موجود متبادل نمائندہ جینیفر لوسیٹا نے اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی مذمت کرنے سے گریز کیا۔ اس کے بجائے انہوں نے عمومی انداز میں کہا کہ ”دنیا بھر کے تنازعات والے علاقوں میں بچوں کو کئی خطرات کا سامنا ہے۔“
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں اسقاط حمل میں اضافہ، تولیدی بحران کا اشارہ: حکام کا انتباہ
اسرائیل پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے، لوسیٹا نے غزہ میں بچوں کے خلاف اسرائیل کی سنگین خلاف ورزیوں کا پورا ذمہ دار حماس کو ٹھہرایا۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کی رپورٹ پر یہ تنقید بھی کی کہ اس میں ”امریکی مسلح افواج کے اقدامات کو حوثی دہشت گردوں کے اقدامات کے برابر لا کھڑا کیا گیا ہے۔“ لوسیٹا نے مزید کہا کہ یہ دستاویز ”سی اے اے سی (CAAC) کے خصوصی نمائندے کے دفتر میں شرکت روکنے کے امریکی کے فیصلے کو مزید تقویت دیتی ہے۔“