• Fri, 04 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایک سال میں۲؍ کروڑ بچے آن لائن جنسی زیادتی کا شکار: یونیسیف

Updated: September 04, 2026, 1:08 PM IST | New York

یونیسیف کے تخمینہ کے مطابق ایک سال میں۲؍ کروڑ بچے آن لائن جنسی زیادتی کا شکار ہوئے ہیں، اندازاًڈیڑھ کروڑ سے زیادہ بچے غیر مطلوبہ جنسی مواد کے سامنے آئے، جبکہ ۹۰؍ لاکھ بچوں کو ان کی مرضی کے خلاف جنسی بات چیت کرنے یا جنسی تصاویر شیئر کرنے کو کہا گیا، اور ۴۰؍ لاکھ بچوں کی جنسی تصاویر ان کی مرضی کے بغیر شیئر کی گئیں۔ تاہم، بچوں کی جانب سے کم شکایات کی وجہ سے اس مسئلے کی حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

یونیسیف کی جانب سے جاری کردہ ایک نئی رپورٹ کے مطابق،۲۱؍ ممالک میں صرف ایک سال کے دوران۱۲؍ سے۱۷؍ سال کی عمر کےتقریباً ۲؍ کروڑ بچے ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال اور زیادتی کی کم از کم ایک شکل کا شکار ہوئے۔رپورٹ کے مطابق، اندازاًڈیڑھ کروڑ سے زیادہ بچے غیر مطلوبہ جنسی مواد کے سامنے آئے، جبکہ ۹۰؍ لاکھ بچوں کو ان کی مرضی کے خلاف جنسی بات چیت کرنے یا جنسی تصاویر شیئر کرنے کو کہا گیا، اور ۴۰؍ لاکھ بچوں کی جنسی تصاویر ان کی مرضی  کے بغیر شیئر کی گئیں۔ تاہم، بچوں کی جانب سے کم شکایات کی وجہ سے اس مسئلے کی حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نیویارک: ۸؍ ویں جماعت تک اے آئی پر پابندی، ہائی اسکول طلبہ کو محدود اجازت

یہ رپورٹ ’’تھرو چلڈرنز آئیز: ہاو ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز ان ایبل چائلڈ سیکسول ابوز‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی ہے، جو۲۱؍ ممالک میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے۱۲؍ سے۱۷؍ سال کے تقریباً ۲۱۰۰۰؍ بچوں کے قومی سطح پر نمائندہ سروے اور بچپن میں زیادتی کا سامنا کرنے والے۱۰۰؍ نوجوانوں کے ساتھ گہرائی سے انٹرویوز پر مبنی ہے۔ جبکہ ہندوستان ان۲۱؍ ممالک میں شامل نہیں تھا۔مطالعہ کے مطابق، ان میں سے زیادہ تر بچوں نے مدد نہیں مانگی، جبکہ ایک فیصد سے بھی کم معاملات پولیس، سوشل ورکر یا ہیلپ لائنرپر درج کیے گئے، اور۱۰؍ میں سے۴؍ سے زیادہ معاملات کسی کو بھی نہیں بتائے گئے۔
بعد ازاں یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا، ’’یہ رپورٹ ایک تکلیف دہ حقیقت سے پردہ اٹھاتی ہے۔ جن ممالک کا مطالعہ کیا گیا، وہاں۲؍ کروڑ سے زیادہ بچے آن لائن غیر مطلوبہ جنسی مواد یا استحصال کا شکار ہوئے، اکثر ان ڈیجیٹل جگہوں پر جہاں وہ سیکھتے، کھیلتے اور دوستوں سے جڑتے ہیں۔‘‘یہ تجربات گہری جذباتی اور ذہنی پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔ بہت سے بچے خاموشی سے تکلیف اٹھاتے ہیں، انہیں سمجھ نہیں آتا کہ مدد کے لیے کہاں رجوع کریں۔ ہم اس سے آنکھیں نہیں پھیر سکتے۔‘‘رپورٹ کے مطابق، تقریباً۶۰؍ فیصد معاملات سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بشمول Facebook، Instagram، Snapchat، TikTok، اور WhatsApp پر پیش آئے، جبکہ۱۴؍ فیصد معاملات آن لائن گیمزمیں ہوئے، جہاں پلیٹ فارمز کی خصوصیات اور ڈیزائن کا استعمال اعتماد کا غلط فائدہ اٹھانے کے لیے کیا گیا۔مونٹینیگرو میں۸۰؍ فیصد سے زیادہ رپورٹ شدہ معاملات سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مشتمل تھے، جبکہ کولمبیا میں نصف سے زیادہ معاملات انہی پلیٹ فارمز سے منسلک تھے۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: ۵۵؍ ہزار افراد کا وزیر اعظم سے اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ

سروے کیے گئے ممالک میں، ۵۷؍ فیصدمعاملات  میں کوئی ایسا شخص شامل تھا جسے بچہ پہلے سے جانتا تھا، بشمول ہم عمر، رومانوی ساتھی، دوست اور خاندان کے افراد، جس سے یہ مفروضہ چیلنج ہوتا ہے کہ آن لائن زیادتی بنیادی طور پر اجنبیوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔اس کے ساتھ ہی،۳۸؍ فیصد بچوں کا پہلا سامنا زیادتی کرنے والے سے آن لائن ہوا۔تجزیے کے مطابق، ٹیکنالوجی کے ذریعے استحصال کا شکار ہونے والے بچوں میں خودکشی کے خیالات یا رویوں اور خود آزاری کی رپورٹ کرنے کا امکان چار گنا زیادہ تھا، اور انہوں نے نمایاں طور پر زیادہ بے چینی کی شرح بتائی۔مثال کے طور پر، میکسیکو یا شمالی مقدونیہ میں، زیادتی کا شکار ہونے والے بچوں میں خودکشی کے خیالات یا رویوں کا خطرہ آٹھ گنا سے زیادہ تھا، جبکہ پاکستان میں خود آزاری کا خطرہ سات گنا سے زیادہ تھا۔ٹیکنالوجی کے ذریعے زیادتی کے۴۰؍ فیصد سے زیادہ معاملات کبھی کسی کے ساتھ شیئر نہیں کیے گئے، جبکہ ایک فیصد سے بھی کم معاملات پولیس، سوشل ورکرز یا ہیلپ لائن جیسے حکام کو رپورٹ کیے گئے۔تاہم عالمی سطح پر، بچوں کے خاموش رہنے کی سب سے عام وجہ یہ تھی کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ کہاں جانا ہے یا کس کو بتانا ہے۔ کچھ سروے شدہ ممالک میں، عدم انکشاف کی شرح اس سے بھی زیادہ تھی، بشمول آرمینیا، جہاں نصف سے زیادہ معاملات کبھی کسی کو نہیں بتائے گئے۔یہ نتائج حکومتوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے ڈیجیٹل دور میں بچوں کے بہتر تحفظ کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: افغانستان: گزشتہ سال دولاکھ تین ہزار سے زائد ویزے جاری کیے گئے: سرکاری ترجمان

رپورٹ میں فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو ڈیزائن کے لحاظ سے محفوظ بنایا جائے، بچوں کے لیے مضبوط رازداری کے تحفظات، بالغوں کی جانب سے غیر مجاز رابطوں پر پابندیاں، محفوظ سفارشی نظام، اور زیادتی کی بہتر شناخت اور رپورٹنگ کو یقینی بنایا جائے۔رسل نے کہا، ’’ہمیں بشمول حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بچوں کو آن لائن تحفظ فراہم کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے چاہئیں۔‘‘ واضح رہے کہ یہ تحقیق یونیسیف نے ڈسپٹنگ ہارم پروجیکٹ کے ایک حصے کے طور پر کی، جسے یونیسیف، ای سی پی اے ٹی انٹرنیشنل اور انٹرپول نے مشترکہ طور پر نافذ کیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK