• Thu, 15 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنگ بندی کے دوران غزہ میں ۱۰۰؍ سے زائد بچے ہلاک ہو چکے ہیں: اقوام متحدہ

Updated: January 14, 2026, 10:03 PM IST | Gaza

اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے اطفال کے مطابق غزہ میں جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں ۱۰۰؍ سے زائد بچے ہلاک ہوئے ہیں، ایجنسی نے مزید کہا کہ اصل میں یہ اعداد کہیں زیادہ ہیں، ہم صرف ۱۰۰؍ ہلاکتوں کی تصدیق کر پائے ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے اطفال نے کہا ہے کہ تین ماہ قبل شروع جنگ بندی کے بعد سے اب تک غزہ میں ۱۰۰؍ سے زائد بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ یونیسیف نے کہا ہے کہ اسرائیل نے فضائی حملے، ڈرون حملے اور زمینی حملوں میں اکتوبر کے شروع سے اب تک کم از کم ۶۰؍ بچوں اور ۴۰؍ بچیوں کو قتل کیا ہے۔ یونیسیف کے ترجمان جیمس ایلڈر نے غزہ سے بات کرتے ہوئے جینیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ ’’جنگ بندی کے بعد سے اب تک غزہ میں ۱۰۰؍ سے زائد بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا ’’جنگ بندی کے دوران روزانہ ایک لڑکا یا لڑکی مارےجارہے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: فلسطینی شخص نے اپنی والدہ کو آکسیجن دینے کیلئے ٹائر پمپ کو آکسیجن مشین بنا دیا

ایلڈر نے کہا کہ فضائی حملوں، ڈرون حملوں بشمول خود کش ڈرون، ٹینک اور گولہ بارود کے ذریعے بچوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا ’’ہم ۱۰۰؍ ہلاکتوں کی تصدیق کر چکے ہیں، لیکن ممکن ہے کہ اصل تعداد زیادہ ہو۔‘‘ غزہ وزارت برائے صحت کے ایک افسر جو نقصانات کا اندراج کرتے ہیں نے بتایا ہے کہ اصل تعداد اس سے زیادہ ہے۔ وزارت برائے محکمۂ اطلاعات کے سربراہ ظہر ال واحدی نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے بعد سے اب تک ۴۴۲؍ ہلاکتوں میں ۱۶۵؍ بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سال کے آغاز سے اب تک ۷؍ بچے شدید سردی کی وجہ ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایران احتجاج: امریکہ نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی وارننگ جاری کی

ایلڈر نے کہا کہ غزہ کے بچے دو سال سے زائد عرصے تک جاری نسل کشی کی جنگ بندی کے بعد بھی خوف کی زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے غزہ میں زندہ رہنے کیلئے درپیش انتہائی نازک حالات سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’’نفسیاتی صدمے کا علاج نہیں ہوسکتا ہے اور یہ مرض جتنی دیر تک لاحق رہے گا مزید گہرا اور شدید ہوتا جائے گا۔‘‘ ایلڈر نے مزید کہا کہ ’’جنگ بندی کا مقصد بمباری کو روکنا تھا اس کے با وجود بمباری میں متعدد بچوں کی ہلاکت ہوئی۔‘‘ انہوں نے غزہ میں عالمی امدادی تنظیموں کے داخلے پر اس سال کے شروع سے لگائی گئی پابندی کے اسرائیلی فیصلے کی مذمت بھی کی ہے، تنبیہ کی ہے کہ انسانی امدادی تنظیموں  پر پابندی کا مطلب زندگی بچانے والی امداد کو روکنا ہے۔ ایلڈر نے کہا کہ ’’جب اہم این جی اوز کو امداد پہنچانے اور گواہی دینے سے روک دیا جاتا ہے اور جب بین الاقوامی صحافیوں پر پابندی عائد کی جائے تو یہ بچوں کی تکالیف کی جانچ پڑتال کو محدود کرنے کے بارے میں سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران : احتجاج میں کمی ، حکومت حامی عوام سڑکوں پراُترے

واضح رہے کہ اسرائیلی فوج اکتوبر؍ ۲۰۲۳ء سے اب تک ۷۱۴۰۰؍ سے زیادہ افراد کو ہلاک کر چکی ہے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔ اسرائیل کے حملوں میں اب تک ایک لاکھ ۷۱؍ ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ انادولو نے وزارت صحت کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوج کے حملے جاری ہیں۔ ۱۰؍ اکتوبر کو غزہ میں جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اب تک ۴۴۲؍ فلسطینی شہید ہوئے ہیں اور ۱۲؍ ہزار سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ غزہ ۸۰؍ فیصد عمارتیں تباہ و برباد ہو چکی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK