Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: غیر قانونی تارکینِ وطن کیخلاف کریک ڈاؤن، روزانہ ۱۴۰۰؍سے زائد گرفتاریاں

Updated: July 27, 2026, 9:57 PM IST | Washington

امریکہ میں غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کارروائیوں میں ایک بار پھر تیزی آ گئی ہے، جہاں آئی سی ای روزانہ ۱۴۰۰؍سے زائد افراد کو گرفتار کر رہی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسی کے باعث ان کارروائیوں پر تنقید اور سیاسی تنازع بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

امریکی امیگریشن حکام نے ایک بار پھر ملک بھر میں گرفتاریاں تیز کر دیں، جہاں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے اہلکار اب روزانہ۱۴۰۰؍ سے زائد افراد کو گرفتار کر رہے ہیں۔ وفاقی ریکارڈ کے مطابق، جولائی کے پہلے ۱۱؍دنوں میں آئی سی ای نے۱۶؍ ہزار ۲۱۳؍افراد کو گرفتار کیا، یعنی اوسطاً روزانہ۱۴۰۰؍ سے زیادہ گرفتاریاں۔ یہ اضافہ اس کے بعد سامنے آیا ہے جب جون میں بھی آئی سی ای نے اوسطاً روزانہ۱۳۰۰؍سے زیادہ گرفتاریاں کیں۔ اس ماہ تقریباً۴۰؍ ہزار افراد گرفتار کئے گئے، جو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران ایک ماہ میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ یہ تیزی ایسے وقت میں آئی ہے جب محکمہ ہوم لینڈ سکیوریٹی کے سیکریٹری مارک وین ملن نے موسمِ بہار میں آنے والی مختصر سست روی کے بعد امیگریشن قوانین پر عمل درآمد مزید سخت کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی میزائل کے ذخائر میں کمی، ٹرمپ کا اپنی فوج کو ایران پر حملے روکنے کا حکم

امیگریشن کے خلاف کارروائیاں مزید تیز
مارک وین ملن نے اب لاس اینجلس اور منی ایپولس جیسے شہروں میں بڑے پیمانے پر ایک ہی جگہ کئے جانے والے آپریشنز سے ہٹ کر ملک بھر میں بکھری ہوئی کارروائیوں کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ جنوری میں لاس اینجلس اور منی ایپولس میں ہونے والے آپریشنز شدید تنقید کی زد میں آ گئے تھے، کیونکہ امیگریشن اہلکاروں کی فائرنگ سے دو امریکی شہری، رینی گڈ اور الیکس پریٹی، ہلاک ہو گئے تھے۔ نئی حکمت عملی کے تحت کارروائیاں مختلف ریاستوں میں بیک وقت جاری ہیں، تاہم، اس کے نتیجے میں ہلاکت خیز واقعات میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس ماہ وفاقی حکام نے دو تارکینِ وطن کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا، جن میں ایک ہیوسٹن اور دوسرا ریاست مین میں مارا گیا۔ امیگریشن پالیسی کے ماہر اور کیٹو انسٹی ٹیوٹ کے ڈیوڈ بیئر نے بلوم برگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:’’یہ سب کچھ پہلے سے بھی زیادہ شدت اختیار کر چکا ہے۔ ہم وہی طرزِ عمل دیکھ رہے ہیں جو لاس اینجلس، شکاگو اور منی ایپولس میں دیکھا گیا تھا، فرق صرف یہ ہے کہ اب یہ کارروائیاں پورے ملک میں بکھری ہوئی ہیں۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ٹیکساس کا شہر کارپس کرسٹی شدید آبی بحران کی زد میں، ماہرین کا انتباہ

آئی سی ای کی کارروائیوں پر نئی تنقید
جنوری میں ہونے والی فائرنگ کے بعد امریکہ بھر میں احتجاج ہوئے تھے۔ ڈیموکریٹک ارکانِ کانگریس اور تارکینِ وطن کے حقوق کیلئےکام کرنے والی تنظیموں نے اندھا دھند گرفتاریوں اور شناخت کی غلطیوں پر شدید تنقید کی تھی۔ ان واقعات کے باعث کانگریس میں آئی سی ای کی فنڈنگ پر بھی شدید اختلافات پیدا ہوئے، جس کے بعد ادارے نے منی ایپولس کے علاقے میں اپنی کارروائیاں محدود کر دی تھیں۔ اگرچہ اس کے بعد کسی ایک شہر میں دوبارہ بڑے پیمانے کا آپریشن نہیں کیا گیا، تاہم، حالیہ فائرنگ کے واقعات نے آئی سی ای اور ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسی پر نئی تنقید کو جنم دیا ہے۔ حکومت نے ان فائرنگ کے واقعات کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ امیگریشن اہلکاروں اور عوام کے تحفظ کیلئے ضروری تھیں۔ مارک وین ملن نے ایک مرحلے پر آئی سی ای کو گاڑیوں کو روک کر تلاشی لینے کی کارروائیاں روکنے کا حکم دیا تھا، تاہم، بعد میں صدر ٹرمپ نے یہ فیصلہ منسوخ کر دیا۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ-ایران تنازع کا نیا محاذ، حوثیوں کا سعودی تیل کی تنصیبات پر حملہ

گرفتاریاں بڑھیں، مگر ہدف سے اب بھی کم
اگرچہ حالیہ ہفتوں میں گرفتاریوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، لیکن یہ رفتار اب بھی صدر ٹرمپ کے اس ہدف سے کافی کم ہے جس کے تحت ہر سال۱۰؍ لاکھ سے زائد افراد کو گرفتار اور ملک بدر کرنے کا منصوبہ ہے۔ امیگریشن پر سخت مؤقف رکھنے والے حلقے مزید سخت کارروائیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ قدامت پسند ادارے ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے وزٹنگ فیلو مائیک ہاول نے کہا:’’گرفتاریوں کی تعداد کہیں زیادہ ہونی چاہئے۔ ‘‘انہوں نے گزشتہ برس بھی ٹرمپ انتظامیہ کی مبینہ ’جعلی‘ ملک بدری کے اعداد و شمار پر تنقید کی تھی۔ ان کے مطابق:’’اب تک ملک بدری کے اعداد و شمار لاکھوں میں ہونے چاہئیں تھے۔ ‘‘ہاول نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ کام کی جگہوں پر امیگریشن قوانین پر مزید سختی سے عمل درآمد کیا جائے، کیونکہ ان کے بقول غیر قانونی امیگریشن کی ایک بڑی وجہ روزگار کے مواقع ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: عرب لیگ کا انتباہ: مشرقِ وسطیٰ ’دھماکہ خیز لمحے‘ کے قریب، ٹرمپ سے اسرائیل کو لگام دینے کا مطالبہ کیا

آئی سی ای میں اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ
وسیع پیمانے پر بھرتیوں کے بعد آئی سی ای کے اہلکاروں کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔ یہ بھرتیاں گزشتہ سال ریپبلکن حمایت یافتہ اخراجاتی بل کے ذریعے فراہم کئےگئے فنڈز سے ممکن ہوئیں، جس کے نتیجے میں ادارہ اپنی کارروائیوں میں مزید تیزی لانے کے قابل ہوا۔ حالیہ آپریشنز سے آگاہ ایک شخص نے ان کارروائیوں کو’انتہائی تیز رفتار اور بھرپور نتائج دینے والی مہم‘ قرار دیا۔ مارک وین ملن نے بارہا آئی سی ای کی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو رضاکارانہ طور پر امریکہ چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے اس ماہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا:’’ہماری پہلی ترجیح اپنے اہلکاروں کو محفوظ رکھنا اور مجرموں کو ہماری سڑکوں سے ہٹانا ہے۔ غیر قانونی تارکینِ وطن جہاں بھی ہوں گے، انہیں گرفتار کرکے ملک بدر کیا جائے گا۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK