Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: کریڈٹ کارڈ قرض کا بحران،ادائیگیوں میں تاخیر ۱۵؍  سال کی بلند ترین سطح پر

Updated: June 13, 2026, 10:20 PM IST | Washington

کیا امریکہ ایک بار پھر ۲۰۰۸ء کے معاشی بحران سے گزرنے والا ہے؟ امریکہ میں کریڈٹ کارڈ قرض اور ادائیگیوں میں تاخیر تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ نیویارک فیڈرل ریزرو بینک کے مطابق ۲۰۲۶ء کی پہلی سہ ماہی میں کریڈٹ کارڈ بیلنس کا تقریباً ۱۳؍ فیصد حصہ کم از کم ۹۰؍ دن سے زائد عرصے سے واجب الادا تھا، جو ۲۰۱۱ء کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس
امریکہ میں بڑھتی مہنگائی، بلند شرح سود اور گھریلو اخراجات کے دباؤ نے لاکھوں صارفین کو مالی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں کریڈٹ کارڈ قرضوں کی ادائیگی میں تاخیر گزشتہ ۱۵؍ برس کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہے۔ نیویارک کے فیڈرل ریزرو بینک کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۶ء کی پہلی سہ ماہی کے دوران ملک کے مجموعی کریڈٹ کارڈ قرض کا تقریباً ۱۳؍ فیصد حصہ کم از کم ۹۰؍ دن یا اس سے زیادہ عرصے سے واجب الادا تھا۔ یہ شرح ۲۰۱۱ء کے بعد سب سے زیادہ ہے، یعنی یہ وہ عرصہ ہے جب امریکہ ۲۰۰۸ء کے عالمی مالیاتی بحران کے اثرات سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ امریکی صارفین کی بڑی تعداد اب بھی اپنے مالی معاملات کو سنبھالنے میں کامیاب ہے، لیکن ایک مخصوص طبقہ قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ تلے دب رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق مسئلہ یہ نہیں کہ بڑی تعداد میں نئے افراد ادائیگیوں میں ناکام ہو رہے ہیں، بلکہ وہ صارفین جو پہلے سے مشکلات کا شکار ہیں، مزید گہرے قرض میں پھنس رہے ہیں۔
 
 
آکسفورڈ اکنامکس کی امریکی ماہرِ اقتصادیات گریس زیومر نے کہا کہ ’’یہ صارفین کے ایک مخصوص طبقے میں بڑھتے ہوئے مالی خطرات کی نشاندہی کرتا ہے۔ مسئلہ نئے قرض داروں کا نہیں بلکہ ان افراد کا ہے جو پہلے ہی ادائیگیوں میں تاخیر کا شکار ہیں اور مزید مشکلات میں گھر رہے ہیں۔‘‘ رپورٹ کے مطابق امریکہ میں کریڈٹ کارڈ قرض کا مجموعی حجم اب تقریباً ۲۵ء۱؍ کھرب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جو تاریخی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال کی بنیادی وجہ کورونا وبا کے بعد آنے والی مہنگائی کی شدید لہر ہے۔ ۲۰۲۲ء اور ۲۰۲۳ء کے دوران روزمرہ استعمال کی اشیا اور خدمات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے باعث بہت سے گھرانوں نے اخراجات پورے کرنے کے لیے کریڈٹ کارڈز کا سہارا لیا۔
اسی دوران امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مسلسل اضافہ کیا گیا، جس سے کریڈٹ کارڈ قرض پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگا ہو گیا۔ نتیجتاً لاکھوں افراد کے لیے بقایا رقم ادا کرنا مشکل ہوتا چلا گیا۔ اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۳ء کے وسط میں ۹۰؍ دن سے زائد واجب الادا قرضوں کی شرح تقریباً ۸؍ فیصد تھی، جو ۲۰۲۴ء کے آغاز میں ۷ء۱۰؍ فیصد، ۲۰۲۵ء کے آغاز میں ۳ء۱۲؍ فیصد اور ۲۰۲۶ء کی پہلی سہ ماہی میں بڑھ کر ۱۳؍ فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ شرح اب ۲۰۱۰ء کے اوائل میں ریکارڈ کی گئی ۷ء۱۳؍ فیصد کی سطح کے قریب پہنچ چکی ہے، جو عظیم کساد بازاری کے بعد دیکھی گئی تھی۔
 
 
پرسنل فنانس پلیٹ فارم والیٹ ہب کے بانی اوڈیسیاس پاپاڈیمیٹریو نے کہا کہ ’’اس بات میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ رجحان تشویش کا باعث ہے۔‘‘ والیٹ ہب کے مطابق ایک اوسط امریکی گھرانے پر کریڈٹ کارڈ کا قرض تقریباً ۱۱۱۶۹؍ ڈالر ہے۔ ادھر کریڈٹ کارڈ سود کی شرحیں بھی مسلسل بلند سطح پر برقرار ہیں۔ ۲۰۲۲ء کے آغاز میں اوسط شرح سود ۶ء۱۴؍ فیصد تھی جو اگست ۲۰۲۴ء میں بڑھ کر ۸ء۲۱؍ فیصد تک پہنچ گئی۔ فروری ۲۰۲۶ء میں بھی اوسط شرح تقریباً ۲۱؍ فیصد رہی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے دور میں جمع ہونے والا قرض اور اس پر عائد بلند سود اب لاکھوں صارفین کے لیے دوہرا بوجھ بن چکا ہے۔
تاہم اقتصادی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ موجودہ صورتحال کو ۲۰۰۸ء کے مالی بحران سے براہِ راست جوڑنا درست نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق رہائشی قرضوں میں نادہندگی کی شرح اب بھی اُس دور کے مقابلے میں بہت کم ہے اور مالیاتی نظام کو درپیش خطرات بھی محدود ہیں۔ بینکریٹ کے پرنسپل تجزیہ کار ٹیڈ راسمین نے کہا کہ ’’بہت سے لوگ اب بھی وقت پر ادائیگیاں کر رہے ہیں جبکہ ایک مخصوص طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے۔ اگر کوئی ہر ماہ اپنا مکمل بیلنس ادا کر رہا ہے تو کریڈٹ کارڈ بذاتِ خود کوئی مسئلہ نہیں بنتا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’زیادہ تر تاخیر اُن افراد کی جانب سے سامنے آ رہی ہے جن پر پہلے ہی بڑے قرض موجود ہیں اور جن کے لیے اب ادائیگیاں کرنا مشکل ہو چکا ہے۔‘‘
 
 
فیڈرل ریزرو بینک آف فلاڈیلفیا کے اعداد و شمار بھی اس رجحان کی تصدیق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق واجب الادا قرضوں کی مالیت میں اضافہ ہوا ہے، لیکن نادہندہ کھاتوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ نہیں دیکھا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرض داروں کا ایک محدود طبقہ زیادہ بڑے بقایا جات جمع کر رہا ہے۔ کریڈٹ کارڈ قرض کے ساتھ ساتھ آٹو قرضوں میں بھی تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ۲۰۲۶ء کے آغاز میں آٹو لون بیلنس کا ۶ء۵؍ فیصد حصہ کم از کم ۹۰؍ دن سے زائد عرصے سے واجب الادا تھا، جو ریکارڈ سطح سمجھی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق گاڑیوں کی بڑھتی قیمتیں، مہنگی فنانسنگ اور طویل المدتی قرضوں نے امریکی صارفین پر اضافی مالی دباؤ ڈال دیا ہے۔
اس کے باوجود اقتصادی ماہرین کا ماننا ہے کہ موجودہ حالات اگرچہ تشویشناک ہیں، لیکن ابھی انہیں ۲۰۰۸ء کے بحران جیسی ہمہ گیر معاشی تباہی کا پیش خیمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اوڈیسیاس پاپاڈیمیٹریو نے کہا کہ ’’مجھے نہیں لگتا کہ صورتحال اتنی سنگین ہے جتنی عظیم کساد بازاری سے پہلے تھی، تاہم موجودہ رجحانات پر گہری نظر رکھنا ضروری ہے۔‘‘

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK