Updated: August 17, 2026, 4:03 PM IST
| Washington
امریکی کالجوں اور جامعات میں تعلیمی سال ۲۷-۲۰۲۶ء کے دوران بین الاقوامی طلبہ کی تعداد میں تقریباً ایک لاکھ ۱۲؍ ہزار کی کمی کا امکان ہے، نئی پیش گوئی کے مطابق غیر ملکی طلبہ کی تعداد گھٹنے سے امریکی معیشت کو تقریباً ۴ء۳؍ ارب ڈالر کی آمدنی کا نقصان اور ۴۰؍ ہزار ملازمتوں میں کمی ہوسکتی ہے، دوسری جانب امریکا میں ہندوستانی طلبہ کی تعداد بھی مسلسل ۱۰؍ ماہ سے کم ہورہی ہے اور جولائی ۲۰۲۶ء میں ۲۹؍ ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی، ماہرین کے مطابق ویزا میں تاخیر، سفری پابندیوں اور نئے امیگریشن قوانین کے باعث امریکہ بین الاقوامی طلبہ کیلئے کم پرکشش منزل بنتا جارہا ہے۔
امریکی کالجوں اور جامعات میں تعلیمی سال ۲۷-۲۰۲۶ء کے دوران بین الاقوامی طلبہ کی تعداد میں تقریباً ایک لاکھ ۱۲؍ ہزار تک کمی واقع ہوسکتی ہے۔ نئی پیش گوئی کے مطابق اس کمی کے نتیجے میں امریکہ کو تقریباً ۴ء۳؍ ارب ڈالر کی آمدنی کا نقصان ہوسکتا ہے اور ملک بھر میں تقریباً ۴۰؍ ہزار ملازمتیں بھی کم ہوسکتی ہیں۔ یہ اندازے بین الاقوامی تعلیم کے ماہرین کی تنظیم نافسا اور جے بی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری کئے گئے ہیں۔ تازہ پیش گوئی سے بین الاقوامی طلبہ کی تعداد میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ہونے والی بحالی کے بعد ایک نمایاں الٹ پھیر کا عندیہ ملتا ہے۔ کووڈ-۱۹؍ وبا کے بعد امریکہ میں غیر ملکی طلبہ کی تعداد مسلسل بحال ہوئی تھی، تاہم رواں موسم خزاں میں مجموعی بین الاقوامی طلبہ کے داخلوں میں تقریباً ۵ء۹؍ فیصد کمی متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’ٹرمپ انتظامیہ ایران پر جوہری حملے پر غور کر رہی ہے‘: مارجوری ٹیلر گرین کا بڑا دعویٰ
زیادہ تر کالجوں میں غیر ملکی طلبہ کی تعداد کم ہونے کا امکان
یہ پیش گوئی انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ایجوکیشن کی ۲۰۲۶ء موسم بہار میں جاری کی گئی بین الاقوامی تعلیمی تبادلے سے متعلق رپورٹ کے اعداد و شمار کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ سروے کے مطابق ۶۳؍ فیصد تعلیمی اداروں کو توقع ہے کہ تعلیمی سال ۲۷-۲۰۲۶ء میں ان کے بین الاقوامی طلبہ کی تعداد کم ہوگی۔ صرف ۱۱؍ فیصد اداروں نے طلبہ کی تعداد میں اضافے کی توقع ظاہر کی، جبکہ ۲۶؍ فیصد اداروں کا کہنا ہے کہ داخلوں کی تعداد تقریباً موجودہ سطح پر برقرار رہ سکتی ہے۔ اگر یہ پیش گوئی درست ثابت ہوتی ہے تو ۲۷-۲۰۲۶ء میں تقریباً ۱۰؍ لاکھ ۵۷؍ ہزار بین الاقوامی طلبہ امریکی کالجوں اور جامعات میں تعلیم حاصل کریں گے۔ یہ تعداد ۲۶-۲۰۲۵ء میں اندازاً ۱۱؍ لاکھ ۶۹؍ ہزار طلبہ کے مقابلے میں تقریباً ایک لاکھ ۱۲؍ ہزار کم ہوگی۔
نافسا کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو افسر فنتا آو نے کہا کہ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ حکومتی پالیسیاں اس بات پر اثر انداز ہوسکتی ہیں کہ بین الاقوامی طلبہ تعلیم حاصل کرنے کیلئے کس ملک کا انتخاب کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’یہ پیش گوئیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں جس کے بارے میں ہم طویل عرصے سے خبردار کرتے رہے ہیں کہ امریکی پالیسیاں اور ضوابط اس بات پر اثر انداز ہوتے ہیں کہ بین الاقوامی طلبہ اپنے مستقبل کیلئے کہاں سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں، اور ان کے فیصلوں کے امریکی معاشرے اور معیشت پر قلیل اور طویل مدتی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’جب بین الاقوامی طلبہ اور اسکالرز کو زیادہ خیرمقدم کرنے والے ممالک کی جانب جانے پر مجبور کیا جاتا ہے تو تمام امریکی اس کا نقصان اٹھاتے ہیں۔ عالمی صلاحیتوں کیلئے امریکہ کی سرفہرست منزل کی حیثیت کمزور ہونے سے طلبہ، اسپتال، تحقیقی تجربہ گاہیں اور معیشت متاثر ہوتی ہے، جبکہ اس بات کا حقیقی خطرہ پیدا ہوتا ہے کہ اگلی بڑی ایجاد امریکی سرزمین پر نہ ہو۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: وہائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ کا استعفیٰ، ٹرمپ کی دھوکہ دہی وجہ: ایران
امریکہ میں ہندوستانی طلبہ کی تعداد ۲۹؍ ماہ کی کم ترین سطح پر
امریکہ میں ہندوستانی طلبہ کی تعداد کم ہوکر ۲۹؍ ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور یہ کمی مسلسل ۱۰؍ ماہ سے جاری ہے۔ امریکی محکمہ داخلی سلامتی کے اعداد و شمار کے تجزیے کے مطابق جولائی ۲۰۲۶ء میں امریکہ میں ہندوستانی طلبہ کی تعداد ۳؍ لاکھ ۳۸؍ ہزار ۲۳۰؍ رہی۔ ستمبر ۲۰۲۵ء سے ہندوستانی طلبہ کی تعداد میں مسلسل کمی ہورہی ہے۔ ستمبر ۲۰۲۵ء سے جولائی ۲۰۲۶ء کے درمیان امریکہ میں ہندوستانی طلبہ کی تعداد میں ۱۲؍ فیصد کمی ہوئی۔ اس سے ایک سال قبل اسی عرصے کے دوران یہ کمی صرف ۴ء۴؍ فیصد تھی۔ اعداد و شمار کے مطابق جولائی ۲۰۲۶ء میں امریکہ میں ہندوستانی طلبہ کی تعداد سالانہ بنیاد پر ۶ء۸؍ فیصد کم رہی۔ یہ کمی خاص طور پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے ہندوستانی طلبہ میں نمایاں رہی۔ جولائی میں ایسے طلبہ کی تعداد سالانہ بنیاد پر ۳ء۱۱؍ فیصد کم ہوکر ۲؍ لاکھ ۶۶؍ ہزار ۱۰۴؍ رہ گئی۔ اس کے باوجود اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ امریکہ میں زیرِ تعلیم ہندوستانی طلبہ کا سب سے بڑا حصہ ہیں۔ امریکہ میں بیچلر ڈگری حاصل کرنے والے ہندوستانی طلبہ کی تعداد میں بھی کمی ہوئی ہے۔
درخواستوں اور داخلوں میں پہلے ہی کمی
حالیہ دیگر اعداد و شمار بھی ظاہر کرتے ہیں کہ کم بین الاقوامی طلبہ امریکی جامعات کا رخ کررہے ہیں۔ ایسوسی ایشن آف امریکن یونیورسٹیز ڈیٹا ایکسچینج کے مطابق رواں موسم خزاں میں امریکی جامعات کے ڈاکٹریٹ پروگراموں کیلئے بین الاقوامی طلبہ کی درخواستوں میں ۲۱؍ فیصد کمی ہوئی، جبکہ بین الاقوامی طلبہ کے داخلوں میں ۱۷؍ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ کامن ایپ نے بھی بتایا ہے کہ تعلیمی سال ۲۷-۲۰۲۶ء کے داخلہ دور کیلئے بین الاقوامی طلبہ کی درخواستوں میں ۹؍ فیصد کمی ہوئی ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ کمی صرف ان طلبہ تک محدود نہیں ہے جنہیں پہلے ہی امریکی جامعات میں داخلہ مل چکا ہے، بلکہ شروع ہی سے کم طلبہ امریکی تعلیمی اداروں میں داخلے کیلئے درخواستیں دے رہے ہیں۔
کووڈ-۱۹؍ کے بعد مضبوط بحالی کے بعد ایک بار پھر کمی
تازہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وبا کے بعد امریکہ میں بین الاقوامی طلبہ کی تعداد میں مضبوط بحالی ہوئی تھی۔ کووڈ-۱۹؍ کے دوران امریکہ میں بین الاقوامی طلبہ کی تعداد کم ہوکر تقریباً ۹؍ لاکھ ۱۴؍ ہزار رہ گئی تھی۔ اس کے بعد مسلسل ۴؍داخلہ ادوار میں طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہوا اور ۲۵-۲۰۲۴ء میں یہ تعداد بڑھ کر ۱۱؍ لاکھ ۷۸؍ ہزار کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی۔ اس سال بین الاقوامی طلبہ نے امریکی معیشت میں تقریباً ۴۳؍ ارب ڈالر کا حصہ ڈالا اور تقریباً ۳؍ لاکھ ۵۶؍ ہزار ملازمتوں کی معاونت کی۔ تاہم ۲۷-۲۰۲۶ء کیلئے بین الاقوامی طلبہ کی جانب سے امریکی معیشت میں حصہ ڈالنے کی رقم کم ہوکر تقریباً ۳ء۳۸؍ ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے، جبکہ ان سے وابستہ ملازمتوں کی تعداد بھی کم ہوکر تقریباً ۲؍ لاکھ ۹۴؍ ہزار رہنے کا اندازہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: حماس کے اعلیٰ سطحی وفد کا مصری حکام کے ساتھ مذاکرات
ویزا کی دستیابی سب سے بڑا مسئلہ
بین الاقوامی طلبہ کیلئے ویزا کی دستیابی بھی تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہندوستان، چین اور متعدد یورپی ممالک میں امریکی قونصل خانوں میں بین الاقوامی طلبہ کیلئے ویزا کیلئے ملاقاتوں کے اوقات محدود یا تاخیر کا شکار ہیں۔ متعدد طلبہ کی جانب سے فوری ملاقات کی درخواستیں کئے جانے کے باوجود انہیں مبینہ طور پر انکار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ صورتحال خاص طور پر اہم ہے کیونکہ ہندوستان اور چین امریکہ میں بین الاقوامی طلبہ بھیجنے والے دو سب سے بڑے ممالک ہیں۔ ویزا کارروائی کے وقت نے بھی ایک نیا مسئلہ پیدا کردیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ۲۰۲۶ء کے فیفا عالمی کپ کے ٹکٹ رکھنے والے افراد کے ویزوں کی کارروائی کو ترجیح دی جائے گی۔ یہ مدت طلبہ اور تبادلے کے پروگراموں سے وابستہ افراد کے ویزوں کے روایتی مصروف ترین موسم سے بھی متصادم ہے، جو عموماً مئی سے اگست تک جاری رہتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں محکمہ خارجہ اس عرصے کے دوران طلبہ اور اسکالرز کی ویزا درخواستوں کو عموماً ترجیح دیتا رہا ہے تاکہ وہ بروقت امریکی جامعات پہنچ سکیں۔
ویزا پابندیاں بھی مشکلات میں اضافہ کررہی ہیں
امریکہ نے ۱۶؍ دسمبر ۲۰۲۵ء کو جاری کئے گئے ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے ۳۹؍ ممالک کے شہریوں پر نئی سفری پابندیاں عائد کی تھیں۔ ان پابندیوں میں ایف طلبہ ویزا درخواست گزاروں یا جے تبادلہ پروگرام کے شرکا کیلئے استثنا شامل نہیں ہے۔ متاثرہ ممالک میں ایران اور نائجیریا بھی شامل ہیں، جو امریکی جامعات کیلئے بین الاقوامی طلبہ کے اہم ذرائع ہیں۔ جو طلبہ کئی برس تعلیم کیلئے کسی ملک کا انتخاب کرتے ہیں، ان کیلئے ایسی پابندیاں امریکہ کو ایک کم یقینی منزل بنا سکتی ہیں۔
طلبہ کیلئے نئے قوانین سے غیر یقینی میں اضافہ
ویزا میں تاخیر ہی بین الاقوامی طلبہ کیلئے واحد تشویش نہیں ہے۔ اگست ۲۰۲۵ء میں محکمہ داخلی سلامتی نے ایف طلبہ اور جے تبادلہ پروگرام کے شرکا کیلئے طویل عرصے سے رائج ’’مدتِ حیثیت‘‘ کے نظام کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ اب محکمہ داخلی سلامتی نے اس تبدیلی کو حتمی شکل دے دی ہے۔ ۱۵؍ ستمبر ۲۰۲۶ء سے طلبہ پر پرانا ڈی/ایس نظام لاگو نہیں ہوگا۔ اس کے بجائے انہیں ایک مقررہ ’’داخلہ ختم ہونے کی تاریخ‘‘ دی جائے گی۔ اس تبدیلی سے طلبہ کیلئے تعلیمی منصوبہ بندی مزید مشکل ہوسکتی ہے، خاص طور پر ان طلبہ کیلئے جو طویل مدتی ڈگری پروگراموں میں داخلہ لیتے ہیں یا جنہیں گریجویشن کے بعد اپنے مستقبل کے بارے میں ابھی فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ اختیاری عملی تربیت، یعنی او پی ٹی، کے حوالے سے بھی کافی غیر یقینی پائی جاتی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ متعدد مرتبہ اس پروگرام میں اصلاحات کی خواہش کا اظہار کرچکی ہے۔ او پی ٹی کو امریکہ میں عملی کام کا تجربہ حاصل کرنے کیلئے بین الاقوامی ایف-۱؍ طلبہ بڑے پیمانے پر استعمال کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: آسٹریلیا: بونڈی بیچ حملے کے بعد نیو ساؤتھ ویلز میں بندوق واپسی اسکیم
نافسا نے پالیسی میں تبدیلیوں کا مطالبہ کیا
نافسا نے امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بین الاقوامی طلبہ اور تبادلہ پروگرام کے شرکا کیلئے بروقت ویزا حاصل کرنا آسان بنایا جائے۔ تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایف اور ایم طلبہ اور جے تبادلہ پروگرام کے شرکا کے ویزا انٹرویوز اور درخواستوں کی کارروائی کو ترجیح دی جائے۔ نافسا نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ ۳۹؍ ممالک پر موجودہ سفری پابندی سے ایف اور ایم طلبہ اور جے تبادلہ پروگرام کے شرکا کو مستثنیٰ قرار دیا جائے، جبکہ ویزا منظوری کیلئے ضروری پسِ منظر کی جانچ اور سکیورٹی جانچ برقرار رکھی جائے۔ تنظیم نے امریکی انتظامیہ سے یہ بھی کہا ہے کہ تمام ایف-۱؍ طلبہ کیلئے اختیاری عملی تربیت، یعنی او پی ٹی، کو برقرار رکھا جائے۔