• Thu, 08 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

وینزویلا: نوبیل امن انعام پر اختلاف، ٹرمپ اور وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر میں دوری

Updated: January 06, 2026, 7:06 PM IST | Washington

وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر اور نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماشاڈو کے حالیہ بیانات اور امریکی مداخلت کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ نوبیل انعام، ڈونالڈ ٹرمپ سے تعلقات اور واشنگٹن کی وینزویلا پالیسی پر سامنے آنے والی رپورٹس نے نئے سوالات کھڑے کر دیئےہیں۔

Machado and Trump. Photo: INN
ماشاڈو اور ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این

وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر اور نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماشاڈو نے پیر کو کہا کہ انہوں نے آخری بار براہِ راست امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے اکتوبر میں بات کی تھی۔ ماشاڈو نے فاکس نیوز کو بتایا، ’’میں نے صدر ٹرمپ سے۱۰؍ اکتوبر کو بات کی تھی، اسی دن جب انعام کا اعلان ہوا تھا، اس کے بعد سے نہیں۔ ‘‘ٹرمپ نے کہا کہ سنیچر کوامریکی فوجی کارروائی کے نتیجے میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ، خاتونِ اول سیلیا فلوریس، کو گرفتار کر لیا گیا ہے، اور ساتھ ہی یہ عزم ظاہر کیا کہ ضرورت پڑنے پر امریکی فوج کے ذریعے عارضی طور پر ملک پر امریکی کنٹرول قائم کیا جائے گا۔ انعام کے بارے میں بات کرتے ہوئے ماشاڈو نے کہا کہ انہوں نے جیتنے کے فوراً بعد یہ انعام ٹرمپ کے نام منسوب کر دیا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: امریکی تیل کمپنیوں کو وینزویلا میں سرمایہ کاری کی ہدایت

نوبیل کمیٹی نے۲۰۲۵ء کا نوبیل امن انعام ماریا کورینا ماشاڈو کو وینزویلا میں جمہوری حقوق کے دفاع اور آمرانہ نظام سے جمہوریت کی جانب پُرامن انتقال کو فروغ دینے کی کوششوں پر دیا۔ انہوں نے کہا:’’میرا ماننا ہے کہ وہ (ٹرمپ) اکتوبر میں ہی اس کے مستحق تھے۔ اب ذرا تصور کریں ! میرا خیال ہے کہ انہوں نے دنیا کو ثابت کر دیا ہے کہ ان کا مطلب کیا ہے۔ یعنی ۳؍ جنوری تاریخ میں اس دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا جب انصاف نے آمریت کو شکست دی۔ یہ ایک سنگِ میل ہے۔ "جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے ٹرمپ کو نوبیل امن انعام دینے کی پیشکش کی ہے، تو ماشاڈو نے کہا کہ ابھی ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا:’’میں یقیناً یہ انعام انہیں دینا چاہتی ہوں اور ان کے ساتھ شیئر کرنا چاہتی ہوں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ۲۰۲۶ء میں یوکرینی ڈرونز نے روس پر روزانہ حملے کئے ہیں: ماسکو

نوبیل امن انعام سے جڑا معاملہ: ٹرمپ کا وینزویلا کی اپوزیشن لیڈرماشاڈو سے فاصلہ : رپورٹ
امریکی فوجی مداخلت کے بعد، جس کے نتیجے میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کیا گیا، صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا ماشاڈو سے فاصلہ اختیار کر لیا ہے۔ یہ بات وہائٹ ہاؤس کے قریبی ذرائع کے حوالے سے دی واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کی ہے۔ اخبار کے مطابق وہائٹ ہاؤس کے قریب دو عہدیداروں نے کہا کہ ماشاڈو کا۲۰۲۵ء کا نوبیل امن انعام قبول کرنا جسے ٹرمپ طویل عرصے سے خود حاصل کرنے کے خواہاں تھے اور اس کیلئے کھل کر مہم بھی چلا رہے تھے ٹرمپ کی نظر میں ایک ’’سنگین غلطی‘‘تھا، جس کے باعث انہیں ان کی سیاسی حمایت سے محروم ہونا پڑا۔ ایک عہدیدار کے مطابق اگر ماشاڈو نے ٹرمپ کی خاطر یہ انعام مسترد کر دیا ہوتا تووہ آج وینزویلا کی صدر ہوتیں۔ 
ماشاڈو نے اکتوبر۲۰۲۵ء میں نوبیل انعام ٹرمپ کے نام منسوب کیا تھا اور وینزویلا کی اپوزیشن تحریک کیلئے ان کی ’فیصلہ کن حمایت‘ کی تعریف کی تھی، ساتھ ہی مادورو حکومت پر دباؤ ڈالنے میں ان کے کردار کو اجاگر کیا تھا۔ جب ٹرمپ سے ماشاڈو کے قومی لیڈر بننے کے امکانات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے سرد مہری سے جواب دیا: ’’میرے خیال میں ان کیلئے لیڈر بننا بہت مشکل ہوگا۔ ملک کے اندر انہیں نہ حمایت حاصل ہے اور نہ احترام۔ وہ ایک اچھی خاتون ہیں، لیکن ملک میں انہیں وہ عزت حاصل نہیں۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: دنیا کے سب سے بڑے تیل ذخائر کے باوجود وینزویلا غریب کیوں؟

اگرچہ امریکی میڈیا میں ٹرمپ کے ماشاڈو سے فاصلے کو نوبیل انعام کے فیصلے سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم، واشنگٹن کی وینزویلا پالیسی بظاہر کسی ایک اپوزیشن لیڈر کی حمایت کے بجائے ایک منظم اور قابو میں سیاسی انتقالِ اقتدار کے انتظام پر مرکوز ہے۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے حالیہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ بریفنگ میں کہا کہ امریکی شمولیت کا مقصد براہِ راست حکمرانی نہیں بلکہ پالیسی کا انتظام ہے، اور زمینی حقائق سے نمٹنا ہے، جن میں امریکی مفادات سے ہم آہنگ عبوری حکام سے رابطہ بھی شامل ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے بیورو برائے ویسٹرن ہیمسفیئر افیئرز نے وینزویلا کے سیاسی اور فوجی اداروں کے ان عناصر کے ساتھ قابلِ پیش گوئی شراکت داری کو ترجیح دی ہے جو اقتدار کی منظم منتقلی میں مدد کر سکتے ہیں، بجائے اس کے کہ صرف ان اپوزیشن لیڈروں پر انحصار کیا جائے جن کی داخلی حمایت امریکی مداخلت کے بعد کے حالات میں متنازع ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK