Updated: January 05, 2026, 3:10 PM IST
| Washington
گزشتہ پندرہ سے سولہ گھنٹوں میں امریکہ کی ایک بڑی فوجی کارروائی کے بعد وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی منتقلی ہوئی، کیوبا نے کہا ہے کہ اس آپریشن میں اس کے ۳۲؍ فوجی اور پولیس افسر ہلاک ہوئے؛ عالمی برادری نے یکسر ردِ عمل ظاہر کیا۔کچھ ممالک نے سخت الفاظ میں مذمت کی جبکہ بعض نے صورت حال کو سنبھالنے اور سرحدی حفاظت کے اقدامات کئے۔ عالمی تیل کی مارکیٹ، خطّی سیکوریٹی اور بین الاقوامی سیاست پر فوری اثرات دیکھنے میں آئے۔
گزشتہ شب امریکی فورسیز نے وینزویلا کے چند فوجی اہداف اور دارالحکومت کراکس کے اہم مقامات پر ہوائی اور زمینی کارروائی شروع کی۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس آپریشن کا مقصد صدر نِکولَس مادورو اور ان کے قریب افراد کو گرفتار کرکے نیویارک عدالت میں منشیات اور دہشت گردی سے متعلق الزامات کے سامنے پیش کرنا تھا؛ امریکی صدر کے ترجمان نے بتایا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے امریکہ منتقل کیا گیا ہے۔ اس دعوے اور کارروائی کی تفصیلات مختلف ذرائع میں تفریق رکھتے ہیں، مگر بڑے پیمانے پر دھماکوں اور فوجی طیاروں کی نقل و حمل کی اطلاع ملی۔ عملی طور پر اس آپریشن کے وفاقی اور علاقائی اثرات تیزی سے سامنے آئے۔ کیوبا نے باضابطہ اعلان کیا کہ اس کارروائی میں اس کے ۳۲؍ افسران ہلاک ہوئے ہیں اور ملک نے دو دن کے قومی سو کا اعلان کیا، کیوبا نے واقعے کو ’’حالیہ انسانی و بین الاقوامی نقطۂ نظر سے انتہائی سنگین‘‘ قرار دیا اور امریکہ پر شدید الزام عائد کیا۔ اس اعلان نے مخاصمانہ تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کر دی۔
یہ بھی پڑھئے:دہلی فساد ۲۰۲۰ء: سپریم کورٹ کا عمر خالد، شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار
بین الاقوامی ردِعمل
پوپ لیو نے وینزویلا کی خود مختاری اور انسانی حقوق کے تقاضوں پر زور دیا، اقوامِ متحدہ اور یورپی ممالک میں بھی صورتحال پر تشویش ظاہر کی گئی۔ کئی ممالک ، خصوصاً چین، روس، ایران اور جنوبی افریقہ ، نے کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی جبکہ کچھ پڑوسی ممالک نے اپنی سرحدی حفاظتی تیاریوں میں اضافہ کیا۔ خطّی لیڈروں اور عالمی اداروں نے تشدد کے فوری خاتمے اور انسانی امداد کی ضرورت پر زور دیا۔
عسکری و سیکوریٹی ردِ عمل
شمالی کوریا نے فوری طور پر بالِسٹک میزائل آزمائشیں کیں اور اس کارروائی کی کھل کر مذمت کی ، ناقدین نے اسے خطّی طاقتوں کی سیاسی جغرافیہ میں نئے اشاروں کے طور پر دیکھا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ جوابی اشارے عالمی سطح پر تناؤ بڑھا سکتے ہیں اور علاقائی سیکوریٹی کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
ہم آہنگی اور انسانی پہلو
وینزویلا میں داخلی سطح پر بے چینی، مظاہرے اور لوگ اپنے گھروں سے نکل آئے ، سرکاری ذرائع نے عوام سے پرسکون رہنے کی اپیل کی مگر مختلف شہروں میں بڑا احتجاج اور سڑکوں پر کشیدگی رپورٹ ہوئی۔ انسانی حقوق اور امدادی اداروں نے شہری آبادی کے تحفظ، نقل مکانی کے امکانات اور طبی امداد کے فوری انتظامات پر توجہ مبذول کروائی۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ کے پبلک ٹرانسپورٹ میں نسلی اور مذہبی نفرت پر مبنی جرائم میں اضافہ: ڈیٹا
اقتصادی اثرات
اس آپریشن نے فوری طور پر تیل کی مارکیٹ اور عالمی توانائی منڈی میں ہلچل پیدا کی ، تیل کی قیمتوں میں مختصر ردوبدل دیکھا گیا کیونکہ وینزویلا کے خام تیل کے مستقبل اور رسدِ بازار پر خدشات پیدا ہو گئے۔ مالیاتی اور توانائی تجزیہ کار واقعہ کے آئندہ اثرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
قانونی اور رسمی پہلو
امریکی حکومت نے کہا کہ مادورو کو نیویارک میں وفاقی عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں منشیات اور ’’نارو ٹیرر‘‘ طرز کے الزامات کا سامنا ہے۔ اس قدم نے بین الاقوامی قانون، خود مختاری اور بیرونِ ملک لے جانے قانونی پہلوؤں پر وسیع بحث کو جنم دیا ہے ، اقوام متحدہ میں کچھ ممبر ممالک نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے:بایاں محاذ کی امریکہ کیخلاف ملک گیر احتجاج کی اپیل
اہم واقعات جو پچھلے ۱۶؍ گھنٹوں میں ہوئے
(۱) امریکی فوجی کارروائی اور مادورو کی گرفتاری/منتقلی ، مرکزی واقعہ۔
(۲) کیوبا کی ہلاکتوں کی اطلاع (۳۲؍ کیوبن افسران) اور کیوبا کا زبردست غم و غصّہ۔
(۳) عالمی سطح پر سیاسی ردِ عمل: سخت مذمت (چین، روس، ایران، جنوبی افریقہ)، اور بعض مذہبی/روحانی رہنماؤں اور لیڈروں کی تشویش۔
(۴) شمالی کوریا کی میزائل آزمائشیں اور خطّی عسکری جوابی اشارے۔
(۵) پڑوسی ممالک کی حفاظتی پیش بندی اور ممکنہ انسانی ہجرت کی تیاریاں۔
(۶) تیل اور توانائی منڈیوں میں فوری ردِ عمل ، قیمتوں اور سپلائی خدشات۔
(۷) انسانی حقوق، شہری تحفظ اور ممکنہ انسانی امداد کی ضرورت پر بین الاقوامی فورمز کی توجہ۔