Inquilab Logo Happiest Places to Work

تمام اسکولوں میں چاکلیٹ، چپس اور کولڈ ڈرنک پر پابندی

Updated: July 30, 2026, 12:33 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

ایف ڈی اے کمشنر تکارام منڈے کا ماسٹر اسٹروک، اسکولوں کے احاطے اور اس سے ۵۰؍ میٹر کے دائرے میں ایسی اشیاء کی فروخت، نمائش اور تشہیر کو بھی ممنوع قرار دیا۔

FDA Commissioner Takaram Munde giving details about the ban at a press conference. Photo: INN
ایف ڈی اے کے کمشنر تکارام منڈے پریس کانفرنس میں پابندی سے متعلق تفصیل بتاتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے ممبئی سمیت   ریاست  بھر میں اب تک   ہوٹلوں ، ریسٹورنٹ ، بیکریوں اور حفظان صحت کے اصولوں کو بالائے طاق رکھنے والے اسٹیبلشمنٹ پر کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے ۔ اب  اس نے سرکاری اور غیر سرکاری اسکولوں میں چاکلیٹ ، چپس اور کولڈڈرنک پر پابندی عائد کردی ہے۔ تمام اسکولوں کے انتظامیہ کو   ایف ڈی اے کمشنر تکارام منڈے نے سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے   طلبہ کی صحت کا خیال رکھنے اور انہیں صحت بخش کھانا فراہم کرنے یا لانے کیلئے پابند بنانے کا فرمان جاری کیا ہے ۔

  ایف ڈی اے کی کارروائیوں کے اسباب اور تفصیلات فراہم کرنے کے دوران کمشنر تکارام منڈے نے کہا کہ ’’ اسکولوں  کے طلبہ کی صحت کے  ساتھ بھی کھلواڑ کیا جارہا ہے ۔ اس پر بھی روک لگنا ضروری ہے  اس لئے ہم نے تمام اسکولوں جن میں سرکاری، امدادی اور نجی سبھی اسکول شامل ہیں،  کے  انتظامیہ کو حفظان صحت کےاصولوں پر سختی سے عمل کرنے کا فرمان جاری کیا  ہے اور ہر اسکول انتظامیہ کو اس پر عمل کرنا لازمی قرار دیا ہے ۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: تکارام منڈے کا خوف بھیونڈی ڈھابوں تک پہنچا، کھانے ’بے رنگ‘ ہوئے

ضوابط پر عمل درآمد نہ ہونے پریہ فیصلہ کیا گیا

ایف ڈی اے کمشنر نے ریاست کے تمام اسکولوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اسکول  کے احاطے میں یا اس  کے اطراف چاکلیٹ، چپس، کولڈ ڈرنکس اور کھانے پینے کی دیگر مضر صحت   اشیاء کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کردیں۔ انہوںنے یہ بھی کہا کہ یہ فیصلہ۲۰۲۰ءکے مرکزی ضابطوں پر بڑے پیمانے پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث کیا گیا  ہے۔ایف ڈی اے کے چیف نے اس سلسلہ میں اسکول انتظامیہ کو مزید ہدایات جاری کرتے ہوئے اسکولوں کے احاطے میں  اور اس سے ۵۰؍ میٹر کے دائرے میں کھانے پینے کی ایسی   اشیاء کی فروخت، نمائش یا تشہیر کو بھی ممنوع قرار  دیا ہے جن میں سیر شدہ چکنائی، فیٹ، اضافی چینی یا سوڈیم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے ۔ایجنسی نے سرکاری، امدادی اور نجی تمام اسکولوں کو غذائیت سے متعلق معیارات پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے اسکولوں کے مینومیںپھل، سبزیاں، اناج، دالیں اور دودھ سے بنی غذائیں   طلبہ کے ٹفن میں شامل کرنے کی ہدایت دی ہے ۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تُکارام مُنڈے نے کہا کہ’’ طلبہ کیلئے غیر صحت بخش قرار دی گئی   اشیاء کی مکمل فہرست ایف ڈی اے کی ویب سائٹ پرموجود ہے۔تاہم طلبہ کے لئےاسکولوں کے اطراف صحت کیلئے مضر چیزیں جن میں کولڈ ڈرنکس، چاکلیٹ اور کیفین والے مشروبات بھی شامل ہیں ، کی فروخت پر مکمل طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔‘‘ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصدطلبہ کو مضر صحت  چیزوں سے محفوظ رکھنا اور صحت بخش کھانے  فراہم کرنے کا پابند بنانا ہے ۔

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: ٹورینٹ پاور نے ۲۶۶؍ عمارتوں کو نوٹس جاری کیا

اسکولوں کو ہدایات

ایف ڈی اے   چیف نے اس ضمن میں  مزید کہا ہے کہ اسکولوں کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ  ان کے احاطے میں فراہم کی جانے والی تمام چیزیں انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ اینڈ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف نیوٹریشن کی  ہدایات کے مطابق ہوں  جس میں مناسب مقدار میں میکرونیوٹرینٹس، مائیکرو نیوٹرینٹس اور پانی   شامل ہو۔شہر اور ریاست کے تمام سرکاری اور غیر سرکاری اسکولوں کے لئے ایف ڈی اے کے  جاری کردہ اس نئے فرمان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ہدایت پری پرائمری، پرائمری، سیکنڈری، ہاسٹلز اور ریاستی بورڈ، سی بی ایس ای ، آئی سی ایس ای یا کسی بھی دوسرے بورڈ  کے تمام تعلیمی اداروں کیلئے ہے۔اس کے علاوہ تمام اسکولوں کو ایف ڈی اے کی جاری کردہ ان ہدایتوں پر مکمل طور پر عمل کرنا ہوگا ۔

جاری کردہ ہدایت کے مطابق تعلیمی اداروں کے داخلی دروازوں پر انتباہی بورڈ آویزاں کئے جائیں۔فوڈ بزنس آپریٹرز کے لائسنس نمایاں جگہ پر لگائے جائیں۔فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز (لائسنسنگ اینڈ رجسٹریشن) ریگولیشنز  ۲۰۱۱ء کے تحت صفائی کے تمام اصولوں پر عمل کیا جائے۔اسکولوں کے کمپیوٹرس اور ڈیجیٹل نظام میں مصنوعات کے اشتہارات نہ ہوں۔ 

یہ بھی پڑھئے: مولانا آزاد میٹرنیٹی ہوم شروع نہ ہونے سے ناراضگی

’’یہ ضوابط ۲۰۲۱ء سے نافذ ہیں‘‘

آخر میںتکارام منڈے نے مذکورہ بالا ہدایت پر عمل کرنے کے لئے موقع دیئے جانے کے سوال پر کہا کہ ’’ مذکورہ رہنما اصول اور قواعد یا اسے آپ ضابطہ بھی کہہ سکتے ہیں،  ۲۰۲۱ء سے نافذ ہیں لیکن اکثر اسکول اس پر عمل نہیں کرتے ہیں ۔ اس لئے فوڈ سیفٹی افسر کو بھی سال میں دو بار اسکولوں کا معائنہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK