Updated: September 26, 2026, 9:59 PM IST
| Kolkata
الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق، بی جے پی نے بنگال کے انتخابات میں ۹۹ء۲۸۶ کروڑ روپے خرچ کئے جو ۴ ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام ایک علاقے میں اس کے کل اخراجات کا ۵۴ فیصد حصہ بنتا ہے۔ تاہم، اس بات کی کوئی وضاحت نہیں ہو سکی کہ آیا اولی پب کا واقعہ یا ”بٹن“ ویڈیو معاوضے کے عوض تیار کئے گئے تھے یا نہیں۔
شمیک ادھیکاری اور سائک چکرورتی۔ تصویر: ایکس
الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار سے انکشاف ہوا ہے کہ مغربی بنگال کے متعدد معروف سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے ریاستی انتخابات سے قبل پیڈ پروموشنز (معاوضے کے عوض تشہیر) کی مد میں بی جے پی سے ادائیگیاں حاصل کیں، جن میں ریلز، ویڈیوز، ترانے اور سیاسی تجزیے شامل تھے۔
یہ بھی پڑھئے: گیانیش کمار کے خلاف ملک گیر احتجاج، اپوزیشن و نوجوان لیڈرز کا کارروائی کا مطالبہ
اعداد و شمار کے مطابق، بنگالی اداکار اور انفلوئنسر سائک چکرورتی کو بی جے پی نے ۵ء۲ لاکھ روپے ادا کئے۔ یاد رہے کہ جنوری میں چکرورتی نے الزام لگایا تھا کہ پارک اسٹریٹ کے اولی پب (Olypub) ریستوران میں ان کے مٹن اسٹیک کے آرڈر کے بدلے انہیں بیف پیش کیا گیا۔ یہ واقعہ بعد میں ایک فرقہ وارانہ اور سیاسی تنازع کی شکل اختیار کرگیا تھا، جس کے نتیجے میں متعلقہ ویٹر کو جیل بھیج دیا گیا تھا۔
ایک اور انفلوئنسر، شمیک ادھیکاری، جنہیں "نان سین" (Nonsane) کے نام سے جانا جاتا ہے، کو بی جے پی نے ۱۳ لاکھ روپے دیئے۔ جنوری میں، انہوں نے آر جی کر ریپ اور قتل کیس کے بعد ترنمول حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے ”بٹن“ نامی ویڈیو پوسٹ کیا تھا اور ووٹرز پر زور دیا تھا کہ وہ ”سمجھداری سے بٹن دبائیں۔“ اس ویڈیو کو بی جے پی لیڈران نے بڑے پیمانے پر شیئر کیا۔ ادھیکاری کو بعد میں فروری میں غیر قانونی قید اور ریپ کے الزامات کے تحت گرفتار کر لیا گیا تھا، اس گرفتاری نے سیاسی انتقام کے الزامات کو جنم دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: بنگال میں بی جے پی کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے عیسائیوں پر ۶۰ حملے ریکارڈ کئے گئے: انڈیا ہیٹ لیب
الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق، بی جے پی نے بنگال کے انتخابات میں ۹۹ء۲۸۶ کروڑ روپے خرچ کئے جو ۴ ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام ایک علاقے میں اس کے کل اخراجات کا ۵۴ فیصد حصہ بنتا ہے۔ تاہم، اس بات کی کوئی وضاحت نہیں ہو سکی کہ آیا اولی پب کا واقعہ یا ”بٹن“ ویڈیو معاوضے کے عوض تیار کئے گئے تھے یا نہیں۔
بی جے پی کے ایک ذرائع نے بتایا کہ ایک پولیٹیکل کنسلٹنسی فرم نے پارٹی کی جانب سے انفلوئنسرز سے رابطہ کیا تھا، جس میں ادائیگی سوشل میڈیا رسائی اور مخصوص علاقائی ہدایات (briefs) کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ بی جے پی کی مغربی بنگال یونٹ کے ترجمان دیبجیت سرکار نے ان ادائیگیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ پارٹی فنڈز سے کی گئی تھیں اور تمام مناسب ضوابط کی پیروی کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ترنمول کانگریس کے نام ونشان کا معاملہ، الیکشن کمیشن کو وقت مقرر کرنے کی ہدایت
قانونی اور ابلاغی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈسکلیمر (وضاحتی نوٹس) کی عدم موجودگی کے باعث ایسا بامعاوضہ مواد ”مبہم دائرے“ (grey area) میں آتا ہے۔ انہوں نے اسے ناظرین کیلئے ممکنہ طور پر گمراہ کن قرار دیا۔ ان انکشافات نے سی پی ایم، ترنمول اور سول سوسائٹی کے گروہوں کی جانب سے احتجاج کو جنم دیا ہے، متعدد اپوزیشن لیڈران نے بی جے پی اور اس میں ملوث انفلوئنسرز دونوں پر سخت تنقید کی ہے۔