Inquilab Logo Happiest Places to Work

’لاڈلی بہنوں‘ کی تعداد بتدریج کم کرنے کا حکومت پر الزام

Updated: July 14, 2026, 12:12 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

۸۰؍ لاکھ کے بجائے ۹۲؍ لاکھ خواتین کے نام اسکیم سے خارج کردیئے جانے کا انکشاف۔ ان میں ۶۲؍ لاکھ ایسی خواتین شامل ہیں جنہیں ای- کے وائی سی پُر نہ کرنے پر ہٹایا گیا ہے۔

A large number of women have been excluded from the `Ladli Behna` scheme for not filling e-KYC. (file photo)
ای- کے وائی سی پُر نہ کرنے پربڑی تعداد میں خواتین کو ’لاڈلی بہن‘ اسکیم سے ہٹادیا گیا ہے۔ (فائل فوٹو)

لاڈلی بہن اسکیم کی مقبولیت کی وجہ سے    اقتدارمیں آنے والی مہایوتی   ان بہنوںکی تعداد میں مبینہ طورپر بتدریج کمی کر رہی ہے ۔اطلاع کے مطابق ۸۰؍ لاکھ کے بجائے ۹۲؍ لاکھ بہنوں کا نام اسکیم سے خارج کر دیا گیا ہے ۔ ان میں ۶۲؍ لاکھ ایسی  خواتین ہیں جنہیں ای- کے وائی سی  پُر نہ کرنے کی بنا پر جبکہ ۱۷؍فیصد کے خاندان کی سالانہ آمدنی ڈھائی لاکھ روپے سے زیادہ ہونے اور ۴ء۸؍ فیصد خواتین کے خاندان کا کوئی ایک فرد سرکاری ملازم ہونے پر انہیںاسکیم سے ہٹادیا گیا ہے ۔ 

سیاسی مبصرین اور ماہرین کے مطابق اس اسکیم کی وجہ سے ہی ریاست میں مہایوتی حکومت دوبارہ اقتدار میں آئی ہے لیکن اب خواتین کی  بڑی تعداد کو اس اسکیم سے باہر کاراستہ دکھایا جا رہا ہے ۔  وزیر اعلیٰ کی لاڈلی بہن اسکیم میں رجسٹرڈ ۱۰؍ میں سے اوسطاً ۴؍ خواتین کو اسکیم سے مستفید ہونے والو ں کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے ۔ مجموعی طور پر اب تک ۹۲؍ لاکھ خواتین کو اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے ۔ یہ تعداد حکومت کی طرف سے اعلان کردہ ۸۰؍ لاکھ سے کہیں زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ملک کا نظام تعلیم وصولی کا ذریعہ بن گیا ہے: راہل گاندھی

جن ۹۲؍ لاکھ خواتین کو اسکیم سے نکالا گیاہے ، ان میں تقریباً ۶۲؍ لاکھ ایسی خواتین ہیں جنہوں نے اپنا ای -کے وائی سی نہیں کرایا ہے ۔اس کے علاوہ ان میں کم از کم اُجرت سے زیادہ کمانے والے ملازمین، دیگر فلاحی اسکیموں سے مستفید ہونے والے اور عمر کی حد سے تجاوز کرنے والی خواتین شامل ہیں ۔ان میں تقریباً ۱۶؍لاکھ خواتین کا تعلق ایسے کنبے سے ہےجن کی سالانہ آمدنی ڈھائی لاکھ روپے سے زیادہ ہے ۔۴؍لاکھ ۴۲؍ ہزار ایسی خواتین ہیں جن کے خاندان کے افراد سرکاری ملازمت کرتے ہیں ۔۳؍لاکھ ۶۰؍ہزار ایسی خواتین ہیں جو دیگر اسکیموں مثلاً سنجے گاندھی نرا دھار یوجنا وغیرہ سے مستفید ہو رہی ہیں ۔ انہیں بھی لاڈلی بہن اسکیم سے نکال دیا گیا ہے ۔ایک ہی خاندان کے ایک سے زیادہ افراد جو لاڈلی بہن اسکیم سے استفادہ کر رہے تھے ، ایسی ڈھائی لاکھ خواتین کو اسکیم سے  ہٹا دیا گیا ہے۔ تقریباً ایک لاکھ ۸۰؍ ہزار خواتین جن کی عمر ۶۵؍سال سے زیادہ ہوگئی ہےاورجو اسکیم کیلئے اہل نہیں ہیں ، انہیں بھی اسکیم سے باہر کر دیا گیا ہے ۔اس کے علاوہ ضلعی سطح کی اسکریننگ اور تصدیق کے عمل کے دوران ایک لاکھ ۷۰؍ہزار خواتین کو نااہل قرار دیا گیا ہے ۔

مہیلا بچت گٹ سے وابستہ مدنپورہ کی عائشہ انصاری نے انقلاب کو بتایا کہ ’’ لاڈلی بہن اسکیم سے غریب خواتین کی کچھ مالی مدد ہو جا تی تھی لیکن اب ایسا محسوس ہو رہا کہ مہایوتی حکومت پر یہ اسکیم بوجھ بن رہی ہے جس کی وجہ سے لاڈلی بہنوں کی تعداد میں بتدریج کمی کی جا رہی ہے جو مایوس کن ہے ۔اگر یہی کرنا تھاتو پھر غریب اور لاچار بہنوں کی چند قسطوں سے مدد ہی کیوں کی گئی ۔ کیا حکومت کو اس با ت کا اندازہ نہیں ہے کہ جن ۶۲؍لاکھ بہنوں نے ای- کے وائی سی نہیں کروایا ہے، ان میں بیشتر اس کارروائی کی تکمیل کی اہل نہیں ہیں ۔اگر وہ ڈیجیٹل کارروائی پوری نہیں کرسکیں ہیں تو کیا وہ اسکیم کی اہل بھی نہیں ہیں ۔‘‘  

یہ بھی پڑھئے: میرا روڈ: بھیانک آتشزدگی میں جھلس جانے والی معمر خاتون کی موت

تصدیق اور اخراج کے کام میں شریک عہدیداروں کے مطابق ان استفادہ کنندگان کے ناموں کو خارج کرنے سے پہلے انہیں کل ۱۴؍ ہزار کروڑ روپے دیئے جاچکے ہیں۔ اوسطاً  ان خواتین کو ۱۰؍ماہ کی قسط مل چکی ہیں ۔

  لاڈلی بہن یوجنا ۲۰۲۴ء میں نافذ کی گئی  تھی ۔ بجٹ میں اس اسکیم کیلئے تقریباً ۶۰؍ ہزار کروڑ روپے کا سپلیمنٹری فنڈ فراہم کیا گیا تھا ۔ اس اسکیم کے تحت ۲۱؍ سے ۶۵؍ سال کی عمر کی خواتین کو ۱۵۰۰؍ روپے ماہانہ دیئے جاتے ہیں جن کی خاندانی آمدنی ڈھائی لاکھ روپے سے کم ہے ۔ سرکاری ملازمین، انکم ٹیکس دہندگان اور دیگر فلاحی اسکیموں  سے استفادہ کرنے والوں کو اس اسکیم سے باہر رکھا گیاہے ۔

فی الحال اس اسکیم سے ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ خواتین مستفید ہو رہی ہیں۔ شروع میں فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد ۲؍کروڑ ۴۵؍لاکھ تھی ۔ اس کے بعد ستمبر ۲۰۲۵ء میں دوبارہ جانچ شروع کی گئی اور بڑی تعداد میں استفادہ کنندگان کے ناموں کو خارج کر دیا گیا۔ سی اے جی نے بھی اپنی رپورٹ میں اس اسکیم کے مالیاتی انتظام پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK