کانگریس کا پُرزور مطالبہ ، دہلی پردیش کانگریس کا شدید احتجاج ،مودی حکومت پرخواتین ریزرویشن بل کے نام پر عوام کو گمراہ کرنے کا الزام۔
EPAPER
Updated: April 20, 2026, 12:14 PM IST | Mumbai
کانگریس کا پُرزور مطالبہ ، دہلی پردیش کانگریس کا شدید احتجاج ،مودی حکومت پرخواتین ریزرویشن بل کے نام پر عوام کو گمراہ کرنے کا الزام۔
کانگریس نے اتوار کو مودی حکومت پرخواتین ریزرویشن کے نام پرملک کے عوام کو گمراہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے شدید احتجاج کیا اورموجودہ لوک سبھا میں ہی خواتین کو ۳۳؍ فیصد ریزرویشن دینے کا مطالبہ کیا۔کانگریس نے کہا کہ سیاسی وجوہات کی بناء پرمودی حکومت نے اب تک خواتین ریزرویشن کوروکے رکھا ۔اس مطالبہ کے ساتھ دہلی کانگریس نے احتجاج بھی کیا۔
مہیلا کانگریس نے اتوارکو لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کی موجودہ نشستوں پر ہی۳۳؍فیصد خواتین ریز رویشن نافذ کرنے کے مطالبے کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس دوران کانگریس لیڈران اور کارکنان نے بی جے پی ہیڈکوارٹر تک جا کر احتجاج کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے بیریکیڈنگ لگا کر انہیں پہلے ہی روک دیا۔
یہ بھی پڑھئے: پونے: تیندوے کے حملے روکنے کیلئے جنّر میں راجستھان کے جوائی ماڈل کے نفاذ پر غور
احتجاج کی قیادت کرتے ہوئے مہیلا کانگریس کی قومی صدر الکا لامبا نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ خواتین ریزرویشن کو فوری طور پر نافذ کیا جائے۔الکا لامبا نے کہا کہ۲۰۲۳ء میں خواتین ریزرویشن کو منظور کرانے میں کانگریس پارٹی کا بھی تعاون رہا لیکن اب بی جے پی کی نیت خراب ہے ۔ ابھی جو ترمیمی بل لایا گیا وہ خواتین ریزرویشن بل نہیں بلکہ حد بندی کا بل تھا۔ ابھی جب مردم شماری ہی نہیں ہوئی تو حکومت ابھی حد بندی کر کے اپنی من مانی کرنا چاہتی ہے لیکن کانگریس پارٹی ایسا نہیں ہونے دے گی۔
کانگریس ہمیشہ خواتین ریزرویشن کے حق میں رہی : الکا لامبا
الکا لامبا کے مطابق کانگریس ہمیشہ سے خواتین ریزرویشن کے حق میں رہی ہے، اسی لئے ہم نے ۲۰۲۳ء میں ہی خواتین ریزرویشن بل منظور کروا دیا تھا لیکن اب نریندر مودی اپنی بات سے پلٹ رہے ہیں اور لوک سبھا میں جنوبی ہندوستانی ریاستوں کی نشستیں کم کرنا چاہتے ہیں، اسی لیے اب یہ حد بندی بل لایا گیا۔ کانگریس پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر آپ کو حد بندی کرنی ہے تو پہلے آپ مردم شماری کرائیں اور مردم شماری کے بعد ہی حلقہ بندی کریں، تاکہ تمام ریاستوں کو اپنی مناسب نمائندگی مل سکے۔ الکا لامبا نے کہا کہ خواتین ریزرویشن کو ہمیشہ کانگریس نے ہی آگے بڑھایا۔ خواتین کو پنچایتوں میں ریزرویشن کانگریس نے دیا۔ ملک کو پہلی خاتون وزیر اعظم کانگریس نے دی۔ پہلی خاتون صدر کانگریس نے بنائی ۔ بی جے پی نے جوڑ توڑ کی سیاست کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ جب خواتین ریزرویشن بل ۲۰۲۳ء میں ہی منظور ہو چکا ہے تو اس کو ابھی لانے کی کیا ضرورت تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ٹی سی ایس کیس ملزم کےرشتہ داروں کا ہراسانی معاملے کی آڑ میں دفتری سیاست کا الزام
’’حکومت کی نیت کچھ اور تھی ‘‘
کانگریس لیڈر کے مطابق یہ حد بندی کا بل تھا، جس کی آڑ میں مودی حکومت ریاستی اسمبلیوں اور لوک سبھا میں اپنی من مانی کے مطابق نشستوں کو بڑھانا چاہتی ہے تاکہ وہ اقتدار میں برقرار رہ سکے۔ الکا لامبا نے کہا کہ حکومت کی نیت نہیں ہے کہ وہ۵۴۳؍ نشستوں پر خواتین ریزرویشن نافذ کرے اور۱۸۰؍ خواتین لوک سبھا تک پہنچ سکیں۔قابل ذکر ہے کہ احتجاج کے دوران کانگریس کارکنان اور لیڈران کی پولیس کے ساتھ سخت نوک جھونک بھی ہوئی۔ اس احتجاج میں دہلی پردیش کانگریس اور مہیلا کانگریس کی کارکنان اور عہدیداران شریک ہوئیں۔ واضح رہے کہ کانگریس کے اس احتجاج کے دوران پولیس نے دین دیال اپادھیائے مارگ پر ایک طرف کی ٹریفک کو روک دیا تھا۔اس احتجاج میںکانگریس جنرل سیکریٹری اورشعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش اور دہلی کانگریس صدر دیویندر یادو بھی موجود تھے۔
حکومت ۳۰؍ مہینے تک خاموش رہی :جے رام رمیش
جے رام رمیش نے اس موقع پر کہا کہ جب یہ بل (ناری شکتی وندن ادھینیم) منظور کیاگیا تھا ،اس وقت ہم نے مطالبہ کیاتھاکہ اسے ۲۰۲۴ء کے لوک سبھا انتخابات سے نافذ کر دیا جائے۔ اس وقت یہ مطالبہ نظر انداز کردیاگیااورکہا گیا کہ تاریخ بعد میں نوٹیفائی کی جائے گی ۔اس کے بعد وہ ۳۰؍ مہینوں تک خاموش رہے اوراچانک ۱۶؍ اپریل کی رات بل کو نوٹیفائی کر دیا گیا۔‘‘جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ جب حکومت پر یہ واضح ہوگیاکہ اپوزیشن کے اتحاد کی وجہ سےحد بندی کے قوانین منظور کئے جاسکتے تو اس نےفوراً خواتین ریزرویشن بل پر نوٹیفکیشن جاری کرنے میںعافیت سمجھی اوراب دعویٰ کررہی ہےکہ کانگریس خواتین ریزرویشن کے خلاف ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کانگریس نے ہرے زہریلے سانپ پال رکھے ہیں: نونیت رانا
حکومت حد بندی کے منصوبے کو آگے بڑھانا چاہتی ہے : سپریہ
کانگریس نے خواتین ریزرویشن کے معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ خطاب کو نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملک کو گمراہ کر رہے ہیں اور اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پارٹی کی سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی چیئرپرسن سپریہ شرینیت نے اتوار کو پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت خواتین کے حقوق کی آڑ میں تفریقی اور غیر جمہوری حد بندی کے منصوبے کو آگے بڑھانا چاہتی ہے۔سپریہ شرینیت نے کہا کہ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں غیر معمولی طور پر کانگریس کا بار بار ذکر کیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپوزیشن کے دباؤ میں ہیں۔ ان کے مطابق کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے منصوبوں کو بے نقاب کر دیا ہے اور عوام کے سامنے اس کی حقیقت رکھ دی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خواتین ریزرویشن کو اصل مقصد کے بجائے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت واقعی خواتین کو با اختیار بنانا چاہتی ہے تو وہ پارلیمنٹ کی تمام۵۴۳؍ نشستوں میں سے ایک تہائی یعنی۱۸۱؍ نشستیں خواتین کے لیے مختص کیوں نہیں کرتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اس معاملے میں حکومت کا ساتھ دینے کیلئے تیار ہے، بشرطیکہ نیت صاف ہو اور کوئی اضافی شرط نہ لگائی جائے۔