ہندوستان کی ۱۱؍سالہ ریسر نے معاہدہ پر خوشی کا اظہار کیا۔
EPAPER
Updated: August 28, 2026, 12:14 PM IST | Agency | New Delhi
ہندوستان کی ۱۱؍سالہ ریسر نے معاہدہ پر خوشی کا اظہار کیا۔
ہندوستانی موٹر اسپورٹس کے طویل عرصے سے حامی ادارے جے کے ٹائر نے جمعرات کو ۱۱؍سالہ ریسر عتیقہ میر کے ساتھ معاہدہ کیا ہے، جو مستقبل کے چمپئن میں سرمایہ کاری کے اپنے دیرینہ عزم کی تجدید کرتا ہے۔اتنی کم عمری میں عتیقہ نے بین الاقوامی کارٹنگ سرکٹ میں گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ انہوں نے یورپ میں کئی ریسیں جیتی ہیں اور اپنے سے بڑی عمر کے عالمی معیار کے ڈرائیوروں کو شکست دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان ہاکی ورلڈ کپ سے فتح کے ساتھ وداع ہونا چاہےگا
عتیقہ، جو ایف ون اکیڈمی کی جانب سے حمایت حاصل کرنے والی پہلی ہندوستانی ہیں، اس وقت یورپ میں مختلف سیریز میں حصہ لے رہی ہیں اور وہ اوکے این جے (OKNJ)زمرے(عمر ۱۲؍ تا ۱۴؍ سال) میں ایف آئی اے (FIA) کی انٹرنیشنل کارٹنگ رینکنگ میں سب سے زیادہ رینکنگ والی خاتون ریسر ہیں۔وہ جے کے ٹائر کی سرپرستی حاصل کرنے والے کامیاب ہندوستانی ڈرائیوروں کی فہرست میں شامل ہو گئی ہیں اور نارائن کارتکین اور کرون چنڈوک کے نقشِ قدم پر چل رہی ہیں۔ واضح رہے کہ کارتیکین اور چنڈوک وہ ۲؍واحد ہندوستانی ہیںجو ایف ون کی بلندیوں تک پہنچے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’مرلی دھرن اور ویٹوری سے بہت کچھ سیکھا‘‘
اس سال کے شروع میں عتیقہ میر چمپئن آف دی فیوچر اکیڈمی کے یورپی مرحلے میں پوڈیم حاصل کرنے والی پہلی ہندوستانی بنیں، اس کے بعد انہوں نے یونان میں شاندار فتح حاصل کی، جہاں وہ اس سیریز کی تاریخ کی صرف تیسری ڈرائیور بنیں جنہوں نے کوالیفائنگ، ہیٹس اور فائنل تینوں میں کامیابی حاصل کی۔حال ہی میں، عتیقہ نے ایف آئی اے یورپی کارٹنگ چمپئن شپ (جسے کارٹنگ کا فارمولا ون سمجھا جاتا ہے) میں ۲؍ مرتبہ ٹاپ ۱۰؍ پوزیشنز حاصل کرنے والی سب سے کم عمر ہندوستانی ریسر بن کر اپنے اعزاز میں ایک اور باب جوڑ لیا۔ان کا سفر موٹر اسپورٹس میں خواتین کی بڑھتی ہوئی موجودگی کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سری لنکا فالو آن کھیلنے پر مجبور، ہندوستان جیت سے۴؍ وکٹ دور
عتیقہ پہلی ہندوستانی اور ایشیائی خاتون ریسر تھیں جنہیں ایف ون اکیڈمی کے’ ڈسکور یور ڈرائیو‘ پروگرام کیلئے منتخب کیا گیا تھا، جو کھیل کے ابھرتے ہوئے نوجوان ٹیلنٹ کے طور پر ان کے مقام کو مزید واضح کرتا ہے۔
عتیقہ میرنے کہا’’جے کے ٹائر کے ساتھ جڑنا بہت خاص احساس ہے۔ میرے والد (آصف میر جو ہندوستان کے پہلے نیشنل کارٹنگ چمپئن تھے) کو بھی اپنے ریسنگ کے دنوں میں جے کے ٹائر کی حمایت حاصل تھی۔ میں ہمیشہ سے ہندوستانی موٹر اسپورٹس میں کمپنی کی شراکت اور نوجوان ریسرز کے لئے پیدا کردہ مواقع کی مداح رہی ہوں۔ میں اس سفر کیلئے پُرجوش ہوں اور بین الاقوامی سطح پر ملک اور جے کے ٹائر کی نمائندگی کرنے، سیکھنے اور بہتری لانے کی منتظر ہوں۔‘‘
جے کے ٹائر اینڈ انڈسٹریز کے منیجنگ ڈائریکٹر انشومان سنگھانیہ نے کہا کہ یہ بڑی ٹائر کمپنی عتیقہ کے تیزی سے ابھرتے ہوئے کریئر میں ان کی حمایت پر خوش ہے۔ سنگھانیہ نے کہا ’’عتیقہ ریسنگ کی اگلی نسل کی نمائندگی کرتی ہیں اور جب وہ عالمی سطح پر کامیابی کیلئے کوشاں ہیں تو ہم ان کی حمایت کرتے ہوئے انتہائی خوشی محسوس کر رہے ہیں۔‘‘