Inquilab Logo Happiest Places to Work

فیفا ۲۰۲۶ء: شائقین کو پانی کی مہر بند بوتلیں لانے کی اجازت

Updated: June 06, 2026, 7:02 PM IST | Ottawa

فیفا نے ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے لیے اپنی سابقہ پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور کنیڈا میں ہونے والے میچوں کے دوران شائقین فیکٹری سے مہر بند ڈسپوزایبل پانی کی بوتلیں اسٹیڈیم میں لا سکیں گے۔ نئی ہدایات کے مطابق ۵۹۰؍ ملی لیٹر تک پانی پر مشتمل نرم پلاسٹک کی بوتلوں کواجازت ہوں گی، تاہم دوبارہ استعمال ہونے والی اور سخت ساخت والی بوتلوں پر پابندی برقرار رہے گی۔

Photo: X
تصویر: ایکس

فیفا نے ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے لیے اپنے اسٹیڈیم ضوابط میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے شائقین کو مہر بند ڈسپوزایبل پانی کی بوتلیں اسٹیڈیم کے اندر لے جانے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ فیصلہ اس سے قبل سامنے آنے والی تنقید اور شدید گرمی کے خدشات کے بعد کیا گیا ہے، جب فیفا نے دوبارہ استعمال ہونے والی پانی کی بوتلوں پر پابندی عائد کر دی تھی۔ تازہ ترین پالیسی کے مطابق امریکہ اور کنیڈا میں ہونے والے ورلڈ کپ میچوں میں شرکت کرنے والے تماشائی ۲۰؍ اونس (۵۹۰؍ ملی لیٹر) تک پانی پر مشتمل نرم پلاسٹک کی فیکٹری سیل شدہ بوتل اپنے ساتھ لا سکیں گے۔ تاہم سخت ساخت والی بوتلیں، دھاتی کنٹینرز اور دوبارہ استعمال ہونے والی پانی کی بوتلیں بدستور ممنوع قرار دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ورلڈکپ :’صفر ڈالر‘ ادا کرنے والے شائقین سے فیفا نے درست ادائیگی کا مطالبہ کیا

فیفا کے چیف آپریٹنگ آفیسر Heimo Schirgi نے اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس اصول کا مقصد اسٹیڈیمز میں حفاظت اور سیکوریٹی کو بہتر بنانا ہے، کیونکہ بوتلیں ان اشیا میں شامل ہیں جنہیں ممکنہ طور پر پھینکا جا سکتا ہے اور جو شائقین یا دیگر افراد کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔‘‘ یہ اعلان فیفا کے اسٹیڈیم ضابطہ اخلاق میں حالیہ ترمیم کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس سے قبل جاری کردہ ہدایات میں واضح کیا گیا تھا کہ ایک لیٹر تک گنجائش رکھنے والی خالی اور شفاف دوبارہ استعمال ہونے والی پلاسٹک بوتلیں اسٹیڈیم میں لائی جا سکتی ہیں۔ تاہم بعد میں یہ شق ضابطے سے حذف کر دی گئی، جس پر شائقین اور کھیلوں کے مبصرین نے شدید اعتراضات اٹھائے تھے۔ تنقید کرنے والوں کا مؤقف تھا کہ ورلڈ کپ کے دوران بعض میزبان شہروں میں درجہ حرارت ۳۰؍ ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر سکتا ہے، جس کے باعث شائقین کے لیے مناسب ہائیڈریشن کو یقینی بنانا ضروری ہوگا۔ خاص طور پر دن کے اوقات میں ہونے والے میچوں کے دوران پانی تک آسان رسائی کو صحت اور حفاظت کے لیے اہم قرار دیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: فیفا ورلڈ کپ: تعلق کسی اور ملک سے، نمائندگی کسی اور ملک کی!

فیفا نے گرمی سے متعلق خدشات کو کم کرنے کے لیے اضافی اقدامات کا بھی اعلان کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق تمام میزبان شہروں میں ہائیڈریشن اسٹیشنز، مسٹنگ ایریاز اور کولنگ زونز قائم کیے جائیں گے تاکہ شائقین شدید گرمی کے دوران خود کو ٹھنڈا رکھ سکیں۔ اس کے علاوہ فیفا نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اسٹیڈیمز کے اندر فروخت ہونے والے پانی کی قیمتیں انہی مقامات پر منعقد ہونے والی دیگر تقریبات کے دوران وصول کی جانے والی قیمتوں کے مطابق ہوں گی۔ یہ فیصلہ فیفا کی جانب سے اپنی ابتدائی پالیسی پر نظرثانی کا نتیجہ ہے۔ پہلے شائقین کو پانی کی بوتلیں لانے سے روکنے کی پالیسی پر بڑے پیمانے پر تنقید کی گئی تھی، جس کے بعد تنظیم نے شائقین کی سہولت اور صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے قواعد میں نرمی کی۔

یہ بھی پڑھئے: لاس اینجلس اولمپک اور پیرالمپک کھیلوں کی تیاریوں میں اہم پیش رفت

یاد رہے کہ فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء تاریخ کا سب سے بڑا عالمی فٹ بال ٹورنامنٹ ہوگا، جس کی مشترکہ میزبانی امریکہ، کنیڈا اور میکسیکو کر رہے ہیں۔ ٹورنامنٹ کا آغاز جمعرات کو ہوگا، جہاں میکسیکو کا مقابلہ جنوبی افریقہ سے ہوگا۔ دفاعی چیمپئن ارجنٹائنا قطر میں ۲۰۲۲ء کا عالمی کپ جیتنے کے بعد اپنے اعزاز کا دفاع کرنے کے لیے میدان میں اترے گی۔ فیفا کا تازہ ترین فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی ادارہ شائقین کی سہولت، صحت اور تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، خاص طور پر ایسے ٹورنامنٹ میں جہاں لاکھوں افراد مختلف موسمی حالات میں میچز دیکھنے کے لیے اسٹیڈیمز کا رخ کریں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK