Inquilab Logo Happiest Places to Work

تہران میں شریف یونیورسٹی پر امریکی-اسرائیلی حملہ، عالمی سطح پرغم و غصے میں اضافہ

Updated: April 07, 2026, 4:00 PM IST | Tehran

امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں تہران کی شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کو شدید نقصان پہنچنے پر عالمی سطح پر مذمت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ماہرین اور عالمی شخصیات نے اس کارروائی کو ممکنہ جنگی جرم قرار دیتے ہوئے شہری تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔

A damaged part of Sharif University. Photo: INN
شریف یونیورسٹی کا ایک تباہ شدہ حصہ۔ تصویر: آئی این این

بین الاقوامی سطح پر مذمت میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ امریکہ اور اسرائیل کے ایک حملے میں تہران کی شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو ایران کے نمایاں تعلیمی اداروں میں شمار ہوتی ہے۔ امریکی کانگریس کی رکن یاسمین انصاری نے اس حملے پر تنقید کرتے ہوئے اسے’’ایران کا ایم آئی ٹی ‘‘ قرار دیا اور گنجان آباد دارالحکومت میں واقع ایک یونیورسٹی کو نشانہ بنانے پر سوال اٹھایا۔ شریف یونیورسٹی، جو سائنس، انجینئرنگ اور مصنوعی ذہانت (AI) کے پروگراموں میں اپنی بہترین کارکردگی کیلئے مشہور ہے، کو مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ ابتدائی میڈیا رپورٹس کے مطابق کئی لیبارٹریاں تباہ ہو گئی ہیں، کیمپس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے اور اردگرد کی سڑکیں گڑھوں سے بھر گئی ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حالیہ حملوں میں ملک بھر میں کم از کم۳۴؍ افراد ہلاک ہوئے، جن میں چھ بچے بھی شامل ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: آرٹیمس -۲ ؍میں خلا باز اپنے ساتھ ’کھلونا‘ کیوں لے گئے؟

ہیومن رائٹس واچ کے سابق ڈائریکٹر کینتھ روتھ نے کہا کہ یہ حملہ ممکنہ طور پر جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے اور اسے’’غزہ کی طرحُ‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا:’’اسرائیل نے ایران کی ممتاز شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کو نشانہ بنایا، جو تہران اور اصفہان میں گزشتہ ہفتے کے دوران ایرانی جامعات پر حملوں کا تسلسل ہے، اور یہ ایرانی معاشرے کی جنگی جرم کے طور پر تباہی کی کوشش ہے۔ ‘‘ ہندوستان کے نیشنل ہیرالڈ اخبار نے اس حملے کو ’امریکہ-اسرائیل کا ایک اور جنگی جرم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی غم و غصہ بڑھ رہا ہے۔ اداریے میں کہا گیا کہ شریف یونیورسٹی نے بین الاقوامی شہرت یافتہ اسکالرز پیدا کئےہیں، جن میں فیلڈز میڈل جیتنے والے بھی شامل ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی سوشل میڈیا پر بیان بازی پر امریکی سیاستداں برہم

معروف امریکی ماہر تعلیم ولی نصر نے کہا کہ شریف یونیورسٹی جدیدیت اور ترقی کی علامت ہے۔ 
انہوں نے کہا:’’اس کے فارغ التحصیل طلبہ میں ریاضی میں فیلڈز میڈل جیتنے والی پہلی خاتون، مریم میرزاخانی بھی شامل ہیں۔ یہ ایک قومی علامت رہی ہے اور اس کے فارغ التحصیل طلبہ کو مغربی دنیا کے بہترین انجینئرنگ پروگرامز میں داخلہ ملا ہے۔ اس طرح کی بے دریغ تباہی کا مقصد صرف ایران قوم کو نشانہ بنانا ہو سکتا ہے۔ ‘‘واشنگٹن میں قائم کوئنسی انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو نائب صدر اور جیو پولیٹیکل ماہر تریتا پارسی نے اس حملے کو’شرمناک‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا:’’امریکہ/اسرائیل نے تہران میں شریف یونیورسٹی کو بمباری کا نشانہ بنایا۔ یہ نہ صرف ایران کی بہترین یونیورسٹی ہے بلکہ سول انجینئرنگ کے شعبے میں دنیا کی ٹاپ۱۰۰؍ یونیورسٹیوں میں شامل ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: امریکی دھمکیاں نظر انداز، ایران ہرمز کونہ کھولنے پر قائم

بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی
سوشل میڈیا پر مختلف ممالک کے صارفین نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی قرار دیا۔ ۱۰۰؍ سے زائد امریکی قانونی ماہرین اور بین الاقوامی وکلاء نے ایک کھلا خط بھی جاری کیا ہے جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ جامعات اور شہری ڈھانچے پر بار بار حملے بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت جنگی جرائم ہو سکتے ہیں۔ اوونا اے ہیتھاوے، فلپ السٹن، جوناتھن ٹریسی اور ولیم جے ایسیوس جیسے افراد اس خط کے دستخط کنندگان میں شامل ہیں۔ بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس کی صدر میرجانا سپولیارچ نے بھی شہری اہداف کو نشانہ بنانے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا:’’ضروری بنیادی ڈھانچے کی وسیع تباہی ہو چکی ہے اور کوئی بھی جنگ جو حدود کے بغیر لڑی جائے، قانون کے خلاف اور ناقابل دفاع ہے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا:’’ریاستوں کو جنگ کے قوانین کا احترام کرنا چاہئے۔ دنیا ایسی سیاسی ثقافت کو قبول نہیں کر سکتی جو زندگی پر موت کو ترجیح دے۔ میں فریقین سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ تمام فوجی کارروائیوں میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو محفوظ رکھیں۔ یہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ان کی ذمہ داری ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ: جاپان کا ہرمز میں تحفظ کا مطالبہ، ایشیاء متبادل راستوں کی تلاش میں

ایرانی ردعمل
ایرانی حکام نے شریف یونیورسٹی پر حملے کی سخت مذمت کی۔ نائب صدر محمد رضا عارف نے اسے ’ٹرمپ کی دیوانگی اور جہالت کی علامت‘ قرار دیا اور کہا کہ ایران کی سائنسی صلاحیت کو فوجی کارروائی سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ سائنس کے وزیر حسین سیمائی سراف نے اس حملے کو ’انسانیت کے خلاف جرم‘ قرار دیا۔ شریف یونیورسٹی کے صدر مسعود تاجریشی نے کہا کہ ادارہ تباہی کے باوجود دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ پر’جنگی جرائم کی ترغیب‘ دینے کا الزام لگایا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا:’’امریکہ-اسرائیل حملہ آوروں نے ایران کے ایم آئی ٹی کو بمباری کا نشانہ بنایا۔ یہ دیگر جامعات پر حملوں کا تسلسل ہے۔ ‘‘انہوں نے خبردار کیا:’’حملہ آور ہماری طاقت دیکھیں گے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK