انگلینڈ کا فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے فائنل میں پہنچنے کا خواب ادھورا رہ گیا۔ سیمی فائنل میں ارجنٹائنا کے خلاف۱۔۲؍گول کی شکست کے بعد انگلش کپتان ہیری کین شدید مایوس دکھائی دیئے۔
EPAPER
Updated: July 16, 2026, 11:11 AM IST | Atlanta
انگلینڈ کا فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے فائنل میں پہنچنے کا خواب ادھورا رہ گیا۔ سیمی فائنل میں ارجنٹائنا کے خلاف۱۔۲؍گول کی شکست کے بعد انگلش کپتان ہیری کین شدید مایوس دکھائی دیئے۔
انگلینڈ کا فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے فائنل میں پہنچنے کا خواب ادھورا رہ گیا۔ سیمی فائنل میں ارجنٹائنا کے خلاف۱۔۲؍گول کی شکست کے بعد انگلش کپتان ہیری کین شدید مایوس دکھائی دیئے۔ کین نے کہا کہ۰۔۱؍گول کی برتری حاصل کرنے کے باوجود جس انداز میں ٹیم ہاری، وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ ۱۹۶۶ء کے بعد یہ تیسرا موقع ہے جب انگلینڈ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں شکست کھا کر فائنل تک نہ پہنچ سکا۔ اس سے قبل ۱۹۹۰ء اور۲۰۱۸ء میں بھی انگلینڈ کا سفر سیمی فائنل پر ختم ہوا تھا۔ اب انگلینڈ تیسری پوزیشن کے پلے آف میں فرانس کا سامنا کرے گا۔
میچ کے بعد ہیری کین نے کہا’’اس ٹورنامنٹ میں ہمارے کئی یادگار لمحات رہے۔ ہم نے اچھا کھیل پیش کیا اور ایک اور سیمی فائنل تک پہنچے۔ ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ ہم جیت کے بہت قریب ہیں، لیکن ٹورنامنٹ کے آخری مرحلے میں ہمیں وہ آخری کمی پوری کرنی ہوگی جو ہمیں کامیابی سے دور رکھتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا ’’ایسے ٹورنامنٹس بہت تھکا دینے والے ہوتے ہیں۔ ان میں بے حد محنت، دباؤ اور ذہنی مضبوطی کی ضرورت ہوتی ہے۔ گزشتہ چھ سے سات ہفتوں کے دوران ہم نے یہ سب کچھ دکھایا، لیکن آخری قدم ہم سے رہ گیا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: فیفا ورلڈ کپ: ارجنٹائنامسلسل دوسری بار فائنل میں ، انگلینڈ باہر
انگلینڈ نے دوسرے ہاف کے آغاز میں انتھونی گورڈن کے گول کی بدولت ۰۔۱؍گول کی برتری حاصل کر لی تھی، لیکن میچ کے آخری سات منٹ میں ارجنٹائنا نے زبردست واپسی کی۔ اینزو فرنانڈیز نے ۸۵؍ویں منٹ میں اسکور برابر کیا، جبکہ انجری ٹائم میں لاؤتارو مارٹینیز نے فیصلہ کن گول کر کے ارجنٹائنا کو۱۔۲؍گول سے فتح دلائی اور مسلسل دوسری بار ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچا دیا۔
کین نے کہا کہ ’’میں بہت افسردہ ہوں۔ اپنے ساتھی کھلاڑیوں کے لیے، پوری ٹیم کے لیے دکھ محسوس کر رہا ہوں۔ ہم نے زیادہ تر وقت اچھا کھیل پیش کیا۔ جب ہم ۰۔۱؍گول سے آگے ہوئے تو ایسا لگا کہ ہم صرف برتری بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اس سطح پر یہ کافی نہیں ہوتا۔ یہاں تک پہنچنے کے لیے ہم نے بے پناہ محنت کی۔ کھلاڑیوں نے اپنی جان لڑا دی، دوڑے، پسینہ بہایا، خون اور آنسو سب کچھ دے دیا، لیکن آج جس انداز میں ہم ہارے، وہ واقعی تکلیف دہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’گراؤنڈ پر بلّا اُٹھایا تو پاپا، دادا جی، ماں اور بہن کا چہرا نگاہوں میں تھا‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ انگلینڈ کو گیند پر دباؤ برقرار رکھنے میں مشکلات پیش آئیں۔ پہلے ہاف اور دوسرے ہاف کے آغاز میں ہم نے ارجنٹینا پر اچھا دباؤ ڈالا، خاص طور پر میدان کے اوپری حصے میں، جس کی بدولت ہم گیند واپس حاصل کر کے کھیل پر بہتر کنٹرول قائم کر سکے۔ کین کے مطابق گول کھانے کے بعد ارجنٹائنا نے اپنے حملے مزید تیز کر دیے اور زیادہ کھلاڑیوں کو آگے بھیج کر مسلسل دباؤ بنایاجبکہ انگلینڈ زیادہ تر وقت دفاع کرنے پر مجبور رہا۔
انہوں نے کہا’’ہم نے ارجنٹائنا کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن آخر میں کامیاب نہ ہو سکے۔ جب ہم نے برتری حاصل کی تو ہمارا پیغام یہی تھا کہ مزید حملے کریں اور دوسرا گول اسکور کریں۔ لیکن جب انہوں نے دو گول کر دیے تو ہم واپسی کی کوشش کے باوجود دوبارہ کھیل کا مومینٹم حاصل نہیں کر سکے۔