• Sat, 14 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایک طبع زاد اور غیر مطبوعہ کہانی: میڈم بیجو

Updated: February 13, 2026, 10:23 AM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

ایک طبع زاد اور غیر مطبوعہ کہانی’’میڈم بیجو‘‘ (Madame Bijoux)

Photo: INN
تصویر: آئی این این

پیرس (فرانس) کی سڑکیں کبھی خاموش نہیں ہوتیں البتہ وہ یہ طے کرتی ہیں کہ کس کی آواز سنی جائے گی، اور کس کا وجود پس منظر میں تحلیل ہو جائے گا۔ وہ عورت جسے بعد میں دنیا Madame Bijoux (میڈم بیجو) کے نام سے جاننے لگی، انہی سڑکوں کا حصہ بن گئی تھی۔ اسے اپنا انجام معلوم تھا نہ یہ کہ دنیا اسے کس طرح یاد رکھے گی۔ وہ سر سے پاؤں تک زیورات میں لدی رہتی تھی، اور یہی عادت بعد میں اس کی پہچان بن گئی۔

۱۹۳۰ء کی دہائی کے آغاز میں، وہ پیرس کی ایک عام عورت تھی۔ اس قدر عام کہ کسی تصویر میں اس کا چہرہ محفوظ ہے نہ کسی سرکاری ریکارڈ میں اس کا نام نمایاں ہے۔ وہ ایک چھوٹے سے کرائے کے فلیٹ میں رہتی تھی۔ صبح مخصوص وقت پر نکلتی، اور شام کو مخصوص وقت پر لوٹتی۔ اتوار کو گھر کے کام کرتی اور کبھی کبھار کسی کتاب کی دکان میں کچھ دیر کیلئے ٹھہر جاتی۔ 

اسے زیورات کا شوق تھا۔ جب بھی وقت ملتا اپنے لئے ہار اور انگوٹھیاں خریدتی مگر ان کی نمائش نہیں کرتی تھی۔ اسے دھات کی مضبوطی اسلئے پسند تھی کہ یہ چیزیں کبھی نہیں ٹوٹتیں۔ اس کیلئے انگوٹھیاں پہننا روزمرہ کا عمل تھا، جیسے گھڑی باندھنا، جوتے پہننا، پرفیوم لگانا، اور کاجل لگانا وغیرہ۔ لیکن پھر برا وقت آیا۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: سینڈ مین

زندگی اس پر اچانک تنگ نہیں ہوئی۔ یہ وہ زوال تھا جو خاموشی سے ہر کسی کی زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔ پہلے اس کی ملازمت گئی۔ وجہ تھی اس کمپنی کا بند ہوجانا، جہاں وہ کام کرتی تھی۔ اس نے نئی ملازمت پانے کی پوری کوشش کی، مگر ڈھلتی عمر، بدلتی منڈی، اور بڑھتا ہوا مقابلہ اس کے راستے میں دیوار بن گئے۔ کچھ عرصہ اس نے جمع پونجی سے گزر بسر کی۔ پھر بچت بھی ختم ہوگئی، اور پھر طویل انتظار شروع ہوا۔ وہ انتظار جس کیلئے انسان بوڑھا ہوجاتا ہے۔ انتظار آہستہ آہستہ خود اعتمادی کو کھا جاتا ہے۔ 

فلیٹ کا کرایہ ادا کرنے کی تاریخیں بدلنے لگیں۔ ان میں بے قاعدگی آگئی۔ مالک مکان نے پہلے نرمی برتی، پھر نوٹس بھیجا۔ دوستوں نے ابتدا میں سہارا دیا، پھر اس سے فاصلے بڑھا لئے۔ پیرس جیسے شہر میں ناکامی ذاتی نہیں سمجھی جاتی مگر تنہائی ضرور ذاتی ہو جاتی ہے۔

پھر ایک دن ایسا آیا جب وہ فلیٹ خالی کر گئی۔اس نے کسی سے نہیں کہا کہ اسے مالک مکان نے نکال دیا ہے۔ اس نے صرف اتنا کہا کہ ’’مَیں اب یہاں نہیں رہ سکتی۔‘‘ مفہوم واضح تھا، اس کے پاس کرایہ ادا کرنے کیلئے رقم نہیں تھی۔ اب اسے اپنی زندگی سڑک پر گزارنی تھی۔ اس نے اپنے بیگ میں چند کپڑے رکھے، کچھ کاغذات، اور اپنے زیورات جن سے اسے خاصا انس تھا۔ برے وقت میں بھی اس نے اپنے زیورات خود سے الگ نہیں کئے۔ وہ چاہتی تو انہیں بیچ کر کچھ عرصہ اور گزار سکتی تھی لیکن زیورات اس کی زندگی کا محور تھے۔ وہ اس کے ساتھ یوں رہے جیسے روح اور جسم کا رشتہ۔ 

پیرس کی سڑکیں بے رحم نہیں مگر بے حس ضرور ہیں۔ وہ آپ کا وجود برداشت کرتی ہیں لیکن اسے اپناتی نہیں۔ جان لیجئے کہ فٹ پاتھ پر زندگی گزارنا فیصلہ نہیں، ایک سمجھوتہ ہوتا ہے۔ ایک مجبوری ہوتی ہے۔ جیسے ہی وہ سڑک پر پہنچی، اس نے انگلیوں سے انگوٹھیاں اتارنا چھوڑ دیا۔یہ کوئی علامتی عمل نہیں تھا۔ یہ ایک اندرونی مزاحمت تھی۔ جیسے کوئی شخص کہے’’تم مجھ سے سب کچھ چھین سکتے ہو، مگر میری پہچان نہیں۔‘‘ شروع میں لوگ اسے نظرانداز کرتے تھے۔ پھر انہوں نے اسے پہچاننا شروع کردیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسے چہرے سے نہیں زیورات سے پہچانا گیا۔ اس کے متعلق کہا جاتا:

’’وہ عورت جو ہمیشہ انگوٹھیاں پہنتی ہے۔‘‘ 

’’وہ زیورات والی عورت۔‘‘

’’ وہ انگوٹھی والی عورت۔‘‘

وہ ہر وقت فٹ پاتھ پر نہیں بیٹھتی تھی۔ فٹ پاتھ پر بیٹھنے سے اسے چند سکے ضرور مل جاتے تھے لیکن زندگی بھر کام کاج کرنے والی عورت کیلئے اس طرح پیسہ کمانا اسے درست معلوم نہیں ہوا لہٰذا کبھی کبھی وہ قریب واقع کیفے میں چلی جاتی۔ کیفے میں وہ گاہکوں کو عجیب وغریب مگر دلچسپ انداز میں کہانیاں سناتی۔ لوگ اس کا انتظار کرتے تھے کہ آج مزیدار کہانی سننے کو ملے گی۔ اتنا ہی نہیں کبھی وہ لوگوں کے ہاتھ دیکھتی، اور ان کی قسمت کے بارے میں پیشین گوئیاں کرتی۔ خدا جانے یہ کبھی سچ ہوتی تھیں یا نہیں، یا، واقعی اسے ہاتھ کی لکیریں پڑھنے کا فن آتا تھا یا نہیں۔ مگر اس کی خود اعتمادی لوگوں کو اس کی بات سننے پر مجبور کردیتی تھی۔ وہ کبھی ماضی کے قصے سناتی، اور کبھی کسی ایسی زندگی کا ذکر کرتی جو صرف کتابوں میں اچھی لگتی ہے۔ وہ خود کو کبھی رقاصہ کہتی، کبھی کسی کی معشوقہ، اور کبھی کسی بڑے تھیٹر کی پردہ نشین حسینہ۔ 

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: شہزادی اور گوبلن

اس کے ہاں حقیقت اور فسانہ الگ الگ نہیں تھے؛ وہ دونوں کو اس مہارت سے جوڑ دیتی کہ سننے والا فیصلہ ہی نہیں کر پاتا تھا۔ یہی اس کی کمائی تھی۔ اور یہی بقا کیلئے جدوجہد۔ اسے شاید خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ اس کی کون سی بات حقیقت اور کون سی فسانہ۔ 

اس کا نام کیا تھا؟اصل نام شاید ہی کسی کو معلوم ہو۔ کسی نے کیفے میں ایک دن اسے ’’میڈم بیجو‘‘ کے نام سے پکارا۔ فرانسیسی زبان میں بیجو کا معنی ہے زیور، یعنی زیور والی محترمہ۔ یہ نام اسے طنزیہ نہیں دیا گیا لیکن اس میں احترام بھی نہیں تھا۔ اور پھر یہی نام اس کی شناخت بن گیا۔ یہ پیرس کی جانب سے ایک ’’عارضی لقب‘‘ تھا۔ میڈم نے اس نام کی مخالفت نہیں کی۔ سڑک پر مخالفت کرنے کیلئے توانائی لگتی ہے اور توانائی قیمتی ہے۔ میڈم اپنی توانائی ان چیزوں پر صرف نہیں کرنا چاہتی تھی۔

وہ زیورات کیوں پہنتی تھی؟یہ سوال ہر اس شخص کے ذہن میں آیا جس نے اسے غور سے دیکھا۔

کچھ نے کہا: یہ ذہنی بیماری ہے۔

کچھ نے کہا: یہ ضد ہے۔

کچھ نے کہا: یہ دکھاوے کی آخری کوشش ہے۔

مگر حقیقت زیادہ سادہ اور زیادہ دردناک تھی۔وہ زیورات اس لئے پہنتی تھی کیونکہ وہ احساس کمتری کا شکار نہیں ہونا چاہتی تھی۔ جب سب کچھ بدل رہا ہو تو انسان کسی ایک چیز کو تھام لیتا ہے، پھر چاہے وہ چیز بے معنی ہی کیوں نہ ہو۔ انگوٹھیاں اس کیلئے یادداشت تھیں۔ ہر انگوٹھی ایک دور کی نمائندہ تھی۔ یہ انگوٹھیاں اس کے اچھے دنوں کی یادیں تھیں۔ کوئی انگوٹھی سالگرہ پر خریدی تھی تو کوئی مہینے کی پہلی تاریخ کو۔ کوئی کسی چھوٹی بچی سے تو کوئی کسی معمر سیلز مین سے۔ ہر انگوٹھی میں یادیں بسی تھیں۔ سڑک پر زندگی گزارنے والے کیلئے یادیں ہی تو سب سے اہم ہوجاتی ہیں۔ میڈم ان یادوں کو اپنے آپ سے کیسے الگ کرلیتی؟ 

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: پُراسرار ملکہ، پُر اسرار دُنیا

انہیں اتارنا اس کیلئے شکست تسلیم کرنے جیسا تھا، اور وہ ابھی اس کیلئے تیار نہیں تھی۔ وقت کے ساتھ سڑک نے اپنا اثر دکھانا شروع کردیا۔ اب اس کی نیند ٹوٹنے لگی۔ یادداشت بکھرنے لگی۔ سوچ کا تسلسل کمزور ہونے لگا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب لوگ اس کے قریب آنے سے کترانے لگے۔ اس کی گفتگو ٹکڑوں میں بٹنے لگی۔ کبھی وہ کسی ایسے شخص سے بات کرتی جو موجود نہیں تھا۔ کبھی وہ گھنٹوں خاموش رہتی، بس اپنی انگوٹھیوں کو دیکھتی رہتی مگر حیرت انگیز بات یہ تھی کہ زیورات کبھی کم نہیں ہوئے۔ اگر کچھ بدلا تو بس یہ کہ وہ زیادہ ہو گئے۔ گاہکوں سے ملنے والے سکوں سے وہ ایک وقت کا کھانا اور کچھ انگوٹھیاں خرید لیتی۔ یوں محسوس ہوتا جیسے وہ اپنی بکھرتی ہوئی ذات کو دھات کے وزن سے باندھ رہی ہو۔

اس زمانے میں پیرس کی راتوں کو محفوظ کرنے والا ایک شخص بھی تھا۔ وہ تصویروں میں شہر کی خاموش چیخیں قید کرتا تھا۔ وہ ہنگری نژاد فرانسیسی فوٹوگرافر تھا، جسے دنیا بعد میں ’’براسائی‘‘ کے نام سے جاننے لگی۔ ۱۹۳۲ء میں جب اس نے ’’پیرس دی نیوٹ‘‘ کیلئے پیرس کی راتوں کو محفوظ کرنا شروع کیا تو میڈم بیجو اس کے کیمرے کے سامنے محض ایک بے گھر عورت نہیں تھی بلکہ ایک مکمل علامت تھی۔ زیورات میں لدی، چہرے پر سختی اور آنکھوں میں وہ تھکن جو صرف زندگی دیتی ہے۔ اسی دوران وہ لمحہ آیا جس نے اس کی زندگی کو بدلے بغیر امر کر دیا۔ فوٹوگرافر اس کے قریب سے گزرتے ہوئے ٹھہر گیا۔ وہ کچھ دیر اسے غور سے دیکھتا رہا۔ اس نے جب کیمرہ اپنی آنکھوں سے لگایا تو سوچ رہا تھا کہ تصویر کیلئے میڈم اپنا انداز اور ادا بدلے گی۔ کیمرہ کافی دیر تک اس کی آنکھوں سے لگا رہا لیکن میڈم کے انداز میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ وہ بس بیٹھی رہی، بالکل سیدھی، خاموش، جسم پر پوری تھکن عیاں کئے ہوئے۔ 

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: آفتاب کے مشرق میں، ماہتاب کے مغرب میں

کلک۔ کیمرے نے ہلکی سی آواز نکالی اور میڈم بیجو اس میں ہمیشہ کیلئے قید ہوگئی۔ کلک کی آواز ہلکی تھی، مگر اس کے اثرات بھاری تھے۔ اس تصویر میں وہ مسکرا نہیں رہی تھی۔ اس نے خود کو بہتر دکھانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ یہی وجہ تھی کہ تصویر جھوٹ سے پاک تھی۔ شائع ہونے کے بعد، یہ تصویر شہر کی ان گنت تصویروں میں الگ پہچانی گئی۔ یہ غربت کی تصویر نہیں تھی، یہ وقت کی تصویر تھی۔ وہ وقت جو انسان کو توڑتا ہے لیکن مٹا نہیں پاتا۔ اس تصویر نے اسے سڑک کی عورت کے طور پر نہیں بلکہ ایک وجود کے طور پر محفوظ کیا۔ ایک ایسی عورت جو ٹوٹ چکی تھی، مگر اپنی ذات کو مٹی نہیں ہونے دیا۔

لوگوں نے تصویر دیکھی۔ اس کی خوب تعریف کی۔ ایک دوسرے کو دکھایا۔ 

کچھ نے کہا، ’’کتنی باوقار ہے!‘‘

کچھ نے کہا، ’’اس کی آنکھوں میں کتنا درد ہے!‘‘ 

مگر میڈم بیجو کی زندگی نہیں بدلی۔

تصویر نے اس کی کہانی سنائی، مگر اسے سہارا نہیں دیا۔ یہ شہرت صرف ایک کھڑکی ثابت ہوئی، اس کیلئے دروازہ نہیں بنی۔ یہ بھی سچ ہے کہ سڑک پر رہنے والے کیلئے توجہ بھی ایک عارضی چیز ہوتی ہے۔

وہ اب بھی وہیں بیٹھی تھی۔ انگوٹھیاں اب بھی اس کی انگلیوں میں تھیں۔ لیکن اس کے اندر کچھ ٹوٹ چکا تھا۔

پھر ایک دن، وہ سڑک سے غائب ہوگی۔ پیرس میں یہ کوئی حیران کن بات نہیں۔ سڑک پر رہنے والے لوگ اکثر غائب ہو جاتے ہیں۔ کوئی بیمار ہو جاتا ہے، کوئی ہاسٹل چلا جاتا ہے، کوئی خاموشی سے مر جاتا ہے۔

میڈم بیجو کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ اس کا کوئی حتمی ریکارڈ نہیں ہے۔ کوئی ایسی قبر نہیں جس پر اس کا نام لکھا ہو۔ اور اگر لکھا بھی ہوگا تو اس کے اصل نام سے کوئی واقف نہیں۔ لیکن دنیا کیلئے میڈم کی تصویررہ گئی۔

انگوٹھیوں کا کیا ہوا؟ وہ شاید کہیں کسی سرکاری بیگ یا بینک میں رکھ دی گئیں، بغیر یہ جانے کہ وہ صرف زیور نہیں تھیں، ایک زندگی کا خلاصہ تھیں۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: ماہی گیر اور اس کی روح

میڈم بیجو کی کہانی نہ مکمل سانحہ ہے، نہ مکمل حسن۔ یہ اس دنیا کی کہانی ہے جو لوگوں کو تو دیکھتی ہے، مگر انہیں سنبھال نہیں پاتی۔ وہ عورت جس کے پاس آخر میں کچھ نہیں تھا، لیکن اس نے اپنے قیمتی سامان یعنی انگوٹھیوں کو کبھی نہیں اتارا۔ یہی اس کی فتح تھی اور یہی اس کا المیہ۔ وہ اسلئے خوبصورت نہیں تھی کہ اس کی زندگی خوبصورت تھی بلکہ اس لئے خوبصورت تھی کہ اس نے بکھرنے کے باوجود خود کو مٹنے نہیں دیا۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ آج بھی، جب کوئی اس تصویر کو دیکھتا ہے، تو اسے صرف ایک بے گھر عورت نظر نہیں آتی بلکہ ایک ایسا انسان نظر آتا ہے جو سب کچھ ہار کر بھی خود سے دستبردار نہیں ہوا۔

پیرس میں، بیسویں صدی کے آخری برسوں میں، وہ ایک عام عورت تھی۔ ایسی عام کہ کوئی اسے یاد رکھنے کی ضرورت محسوس نہ کرتا۔ وہ دکانوں کے شیشوں میں اپنا عکس دیکھ کر رکتی تھی، کبھی ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ، کبھی بے دلی سے۔ وہ ان ہاتھوں کو غور سے دیکھتی تھی جن کی انگلیوں پر صرف انگوٹھیاں تھیں۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ دنیا اسے ان انگوٹھیوں ہی سے یاد رکھے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK