Updated: July 25, 2026, 8:02 PM IST
| Los Angeles
برائن جانسن کے خود کو ’’نوزائیدہ کلون‘‘ بنانے کے دعوے نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی، تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ انسانی کلوننگ نہیں بلکہ اسٹیم سیل ٹیکنالوجی سے متعلق ایک سائنسی عمل ہے۔ اس پیش رفت نے ری جینیریٹو میڈیسن کی حقیقی صلاحیتوں اور اس کی موجودہ حدود پر بھی سوالات اٹھا دیئے ہیں۔
برائن جانسن۔تصویر: آئی این این
برائن جانسن نے ایک بار پھر ایکس پر یہ دعویٰ کرکے نئی بحث چھیڑ دی کہ’’میں نے ابھی خود کو بطور ایک نوزائیدہ کلون کر لیا ہے۔ ‘‘انہوں نے مزید لکھا کہ ان کے بقول یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں انہیں یہ صلاحیت دے سکتی ہے کہ وہ ’اپنا ہی بلڈ بوائے‘ بن سکیں، اپنے کلون پر نئی تھراپیوں کی آزمائش کریں، پیوندکاری کیلئے اعضا تیار کریں، نئے علاج دریافت کریں اور نوجوان خلیات اپنے جسم میں داخل کریں۔ ‘‘جانسن نے کہا، ’’فی الحال یہ ننھا برائن (Baby Bryan) ایک پیٹری ڈش میں موجود ہے۔ کچھ لوگوں کو یہ خوفناک یا کسی ڈسٹوپیائی مستقبل کی جھلک محسوس ہو سکتی ہے، لیکن دوسرے اسے صحت کے مستقبل کی ناگزیر سمت سمجھیں گے۔ ‘‘انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس تجربے میں پہلے ان کے خون کا نمونہ لیا گیا، پھر اس سے خلیات الگ کئےگئے، ان پر یاماناکا فیکٹرز (Yamanaka Factors) کا استعمال کیا گیا، جس سے ان کی ایپی جینیٹک عمر کو ری سیٹ کرکے انہیں دوبارہ جنینی (Embryonic-like) حالت سے مشابہ بنا دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: موت کو شکست دینے کی کوشش مہنگی؛ برائن جانسن کو ہارمون تھیراپی پر پچھتاوا
جانسن کے مطابق، اب یہ خلیات پلوری پوٹینٹ (Pluripotent) ہیں، یعنی انہیں جسم کے سیکڑوں مختلف اقسام کے خلیات، مثلاً اعصابی، دل کے عضلاتی اور ریٹینا کے خلیات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول اس سے وہ مستقبل میں اپنے جسم کو عضو بہ عضو دوبارہ تعمیر کر سکیں گے، بینائی یا سماعت بحال کر سکیں گے، گردوں، جگر اور پھیپھڑوں کی کارکردگی بہتر بنا سکیں گے، جلد کو دوبارہ صحت مند بنا سکیں گے، اور چونکہ یہ خلیات انہی کے اپنے ہیں اس لئے جسم انہیں مسترد نہیں کرے گا، جبکہ بیرونی خلیات میں ردِعمل کا خطرہ موجود رہتا ہے۔
جانسن نے مزید کہا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ خلیات میں ایپی جینیٹک خرابیاں جمع ہوتی رہتی ہیں، جو مختلف بیماریوں اور جسمانی خرابیوں کا باعث بنتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ ٹیکنالوجی بڑھاپے کے عمل کو الٹنے کا راستہ فراہم کر سکتی ہے۔ انہوں نے اپنی صحت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک لاعلاج بیماری کی تشخیص ان کی زندگی کے بہترین تجربات میں سے ایک ثابت ہوئی کیونکہ اس نے جسم کو مضبوط بنانے اور اس کی مرمت کے نئے امکانات ان کے سامنے کھول دیے، اور یہ تجربہ اسی سمت میں پہلا قدم ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’دی اوڈیسی‘‘کے بعد کرسٹوفر نولن کا اگلا خواب؟ ہارر فلم بنانے کا اشارہ
ماہرین نے دعوے کی وضاحت کی
تاہم، سوشل میڈیا صارفین اور سائنسدانوں نے فوری طور پر اس دعوے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ برائن جانسن نے کسی انسانی کلون کو تخلیق نہیں کیا۔ انہوں نے دراصل یاماناکا فیکٹرز کی مدد سے بالغ خلیات کو دوبارہ انڈیوسڈ پلوری پوٹینٹ اسٹیم سیلز (iPSCs) میں تبدیل کیا ہے۔ یہ ایسے اسٹیم سیلز ہیں جو جسم کے مختلف اقسام کے خلیات میں تبدیل ہو سکتے ہیں، مگر یہ کسی نئے یا الگ انسان کی تخلیق نہیں کرتے۔ موجودہ سائنسی معلومات کے مطابق انسانی کلوننگ اب بھی ممکن نہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوالات اٹھا دیئے ہیں کہ جدید ری جینیریٹو میڈیسن واقعی آج کہاں تک پہنچ چکی ہے، کون سی ٹیکنالوجیز ابھی تجرباتی مرحلے میں ہیں، اور سائنسی امکانات اور عوامی غلط فہمی کے درمیان حد کہاں قائم ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سلمان خان کی ’’ماتر بھومی‘‘ کا نام پھر تبدیل، نئے پوسٹر سے ہدایتکار کا نام غائب
انڈیوسڈ پلوری پوٹینٹ اسٹیم سیلز (iPSCs) کیا ہوتے ہیں؟
ایلیٹ کیئر کلینک کے کنسلٹنٹ فزیشن ڈاکٹر پالیٹی شیوا کارتھک ریڈی (MBBS، MD، FAIG) کے مطابق، iPSCs ایسے بالغ خلیات ہوتے ہیں جنہیں یاماناکا فیکٹرز نامی مخصوص جینز کی مدد سے دوبارہ اسٹیم سیل جیسی حالت میں واپس لایا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس عمل کے بعد جلد یا خون جیسے بالغ خلیات دوبارہ جسم کے مختلف اقسام کے خلیات میں تبدیل ہونے کی صلاحیت حاصل کر لیتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی ایک اہم سائنسی پیش رفت ہے کیونکہ اس کے ذریعے جنینی اسٹیم سیلز استعمال کئے بغیر بیماریوں کا مطالعہ اور نئی ری جینیریٹو تھراپیز پر تحقیق ممکن ہو جاتی ہے۔ تاہم ڈاکٹر ریڈی کے مطابق iPSCs کو انسانی کلون قرار دینا سائنسی طور پر غلط ہے۔
ان کے الفاظ میں، ’’کلون سے مراد ایک ایسا مکمل جاندار ہے جو جینیاتی طور پر کسی دوسرے جاندار کی عین نقل ہو، جبکہ iPSCs صرف کسی فرد کے اپنے خلیات کو دوبارہ پروگرام کرکے حاصل کئے گئے اسٹیم سیلز ہوتے ہیں۔ یہ خود بخود مکمل انسان میں تبدیل نہیں ہوتے اور نہ ہی کسی شخص کا نیا وجود یا نوزائیدہ ورژن ہوتے ہیں۔ برائن جانسن نے صرف اپنی جینیاتی خصوصیات رکھنے والے لیبارٹری میں تیار کردہ خلیات بنائے ہیں، نہ کہ اپنا نوزائیدہ کلون۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: ۴؍ برس کی تاخیر، ہما قریشی، مرنال ٹھاکر کی ’’پوجا میری جان‘‘ زی ۵؍ پر ریلیز ہوگی
کون سی اسٹیم سیل تھراپیز حقیقت کے قریب ہیں؟
ڈاکٹر ریڈی کے مطابق iPSC ٹیکنالوجی کے بعض استعمال ابتدائی طبی مراحل میں داخل ہو چکے ہیں، جبکہ بہت سے شعبے ابھی تحقیق کے مرحلے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ مضبوط شواہد امراضِ چشم (Ophthalmology) میں موجود ہیں جہاں اسٹیم سیلز سے تیار کردہ ریٹینا کے خلیات کو بینائی سے متعلق بعض بیماریوں کے علاج کیلئے آزمایا جا رہا ہے اور ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں۔ اسی طرح پارکنسنز، ریڑھ کی ہڈی کی چوٹوں اور بعض قلبی بیماریوں کے علاج کیلئے بھی اسٹیم سیل پر مبنی طریقۂ علاج پر کلینیکل ٹرائلز جاری ہیں۔ البتہ گردے، جگر یا پھیپھڑوں جیسے پیچیدہ اعضا کو مکمل طور پر دوبارہ تیار کرنا یا پیوندکاری کیلئے مکمل فعال اعضا بنانا ابھی تحقیق تک محدود ہے۔ ڈاکٹر ریڈی نے بتایا کہ سائنسداں لیبارٹری میں آرگینوئیڈز (Organoids) یعنی اعضا سے مشابہ چھوٹے ڈھانچے ضرور تیار کر چکے ہیں، لیکن یہ ابھی مکمل انسانی اعضا کا متبادل نہیں بن سکتے۔ اسی طرح اسٹیم سیل کے ذریعے سماعت کی بحالی بھی اب تک تحقیق کا موضوع ہے، کوئی مستند اور معمول کا علاج نہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کے امکانات بہت وسیع ہیں، لیکن موجودہ طبی شواہد اس دعوے کی تائید نہیں کرتے کہ انسان مستقبل قریب میں اپنے جسم کو عضو بہ عضو معمول کے مطابق دوبارہ تعمیر کر سکے گا۔