مائیں اور بڑی بہنیں بچوں میں وقت کی پابندی، ذمہ داری، صفائی اور مطالعے کی عادت پیدا کریں۔ اگر بچہ سال کے آغاز ہی سے منظم زندگی گزارنے لگے تو اس کی آدھی کامیابی وہیں سے شروع ہو جاتی ہے۔
EPAPER
Updated: June 09, 2026, 5:12 PM IST | Dr. Sharmeen Ansari | Mumbai
مائیں اور بڑی بہنیں بچوں میں وقت کی پابندی، ذمہ داری، صفائی اور مطالعے کی عادت پیدا کریں۔ اگر بچہ سال کے آغاز ہی سے منظم زندگی گزارنے لگے تو اس کی آدھی کامیابی وہیں سے شروع ہو جاتی ہے۔
بچے کے دل میں امید کا چراغ روشن کیجئے
تعلیمی سال کے آغاز پر سب سے پہلے بچے کے دل کو تیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بعض بچے نئی جماعت کے نام سے خوش ہوتے ہیں اور بعض ڈر جاتے ہیں۔ انہیں یہ خوف ہوتا ہے کہ نصاب مشکل ہوگا، اساتذہ سخت ہوں گے یا وہ دوسروں سے پیچھے رہ جائینگے۔ ایسے وقت میں ماں کا ایک پیار بھرا جملہ بچے کے دل کا سارا بوجھ ہلکا کرسکتا ہے۔ بچے کو یہ احساس دلائیے کہ کامیابی صرف ذہانت سے نہیں بلکہ مسلسل کوشش سے حاصل ہوتی ہے۔ اسے یقین دلائیے کہ اگر وہ محنت کریگا تو آپ ہر قدم پر اسکے ساتھ کھڑی ہوں گی۔ یاد رکھئے، جس بچے کے دل میں امید زندہ ہو، وہ راستے کی مشکلات سے نہیں گھبراتا۔
صرف کتابیں نہ خریدیے، عادتیں بھی بنائیے
اکثر گھروں میں نئے تعلیمی سال کی تیاری کا مطلب نئی کتابیں، کاپیاں، بیگ اور یونیفارم خریدنا سمجھا جاتا ہے۔ یہ سب ضروری ہیں، لیکن اصل تیاری اس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ مائیں اور بڑی بہنیں بچوں میں وقت کی پابندی، ذمہ داری، صفائی اور مطالعے کی عادت پیدا کریں۔ اگر بچہ سال کے آغاز ہی سے منظم زندگی گزارنے لگے تو اس کی آدھی کامیابی وہیں سے شروع ہو جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسکول جانے والے بچوں کی محبت آمیز رہبری کیجئے!
بڑی بہن اپنا کردار پہچانے
گھر کی بڑی بہن محض ایک بہن نہیں ہوتی بلکہ اکثر وہ چھوٹے بہن بھائیوں کی پہلی دوست، پہلی مشیر اور پہلی استاد بھی ہوتی ہے۔ چھوٹے بچے بڑی بہن کی ہر بات، ہر عادت اور ہر انداز کو غور سے دیکھتے ہیں۔ اگر بڑی بہن مطالعے کی شوقین ہوگی تو بچے بھی کتابوں سے محبت کریں گے۔ اگر وہ وقت کی پابند ہوگی تو بچے بھی نظم و ضبط سیکھیں گے۔ اس لئے نئے تعلیمی سال کے آغاز پر بڑی بہن کو چاہئے کہ وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ بیٹھے، ان کی کتابیں ترتیب دے، ان کا ٹائم ٹیبل بنانے میں مدد کرے اور انہیں اس نئے سفر کے لئے پرجوش بنائے۔
گھر میں تعلیمی ماحول پیدا کیجئے
بچے نصیحت سے زیادہ ماحول سے سیکھتے ہیں۔ اگر گھر میں ہر وقت موبائل، شور شرابہ اور غیر ضروری مصروفیات ہوں گی تو بچے کی توجہ بھی منتشر رہے گی۔ لیکن اگر گھر میں مطالعے، گفتگو اور سیکھنے کا ماحول ہوگا تو بچے کے اندر بھی علم کی قدر پیدا ہوگی۔ ہر ماں کو خود سے یہ سوال کرنا چاہئے کہ کیا میرا گھر بچوں کو پڑھنے کی ترغیب دیتا ہے یا ان کی توجہ بٹاتا ہے؟
بچوں کا موازنہ نہ کیجئے
نئے تعلیمی سال کے آغاز پر بعض والدین بچوں پر غیر ضروری توقعات کا بوجھ ڈال دیتے ہیں۔ ’’اس سال پہلی پوزیشن لانی ہے۔‘‘ ’’فلاں بچے سے آگے نکلنا ہے۔‘‘ ایسی باتیں بعض اوقات بچے کے دل میں خوف پیدا کر دیتی ہیں۔ ہر بچہ منفرد ہوتا ہے۔ کسی کی رفتار تیز ہوتی ہے، کسی کی آہستہ؛ لیکن اگر وہ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے تو یہی اس کی کامیابی ہے۔ لہٰذا بچوں کا موازنہ دوسروں سے کرنے کے بجائے ان کی اپنی ترقی پر توجہ دیں۔
یہ بھی پڑھئے: گرم چیزیں پیستے وقت شیف پنکج بھدوریا کا بتایا یہ نسخہ کارآمد ثابت ہوسکتا ہے
صحت کا خیال بھی تعلیمی تیاری کا حصہ ہے
ایک تھکا ہوا، کمزور یا نیند سے محروم بچہ اچھی تعلیم حاصل نہیں کرسکتا۔ نئے تعلیمی سال کے آغاز سے پہلے بچوں کے کھانے پینے، سونے جاگنے اور جسمانی سرگرمیوں پر توجہ دیجئے۔ انہیں صبح کا ناشتہ کرنے کی عادت ڈالئے، مناسب نیند دلوائیے اور موبائل کے غیر ضروری استعمال سے بچائیے۔ صحتمند جسم ہی ایک متحرک اور یکسو ذہن پیدا کرتا ہے۔
بچوں کی بات سنئے
آج کے بچے پہلے سے زیادہ سہولیات رکھتے ہیں لیکن اکثر ان کے پاس اپنی بات سنانے والا کوئی نہیں ہوتا۔ روزانہ چند منٹ بچوں کے ساتھ ضرور گزارئیے۔ ان سے پوچھئے کہ انہیں کس بات کی خوشی ہے، کس بات کا خوف ہے اور وہ اس سال کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کبھی کبھی بچے کو نصیحت سے زیادہ ایک سننے والے دل کی ضرورت ہوتی ہے۔
دعا کو اپنی تیاری کا حصہ بنائیے
ماں کی دعا دنیا کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے۔ کتابیں راستہ دکھا سکتی ہیں، اساتذہ علم دے سکتے ہیں، لیکن ماں کی دعا وہ حوصلہ عطا کرتی ہے جو مشکل ترین راستوں کو بھی آسان بنا دیتی ہے۔ نئے تعلیمی سال کے آغاز پر اپنے بچوں کیلئے صرف بستہ تیار نہ کیجئے بلکہ دعا کا ایک خزانہ بھی ان کے ساتھ روانہ کیجئے۔
یہ بھی پڑھئے: جسمانی طور پر فعال رہیں، صحت اچھی رہے گی
عزیز ماؤ اور بڑی بہنو!
آپ کی محبت، آپ کی تربیت، آپ کی رہنمائی، آپ کا حوصلہ اور آپ کی دعا وہ سرمایہ ہے جو بچے کو زندگی بھر فائدہ دیتا ہے۔ اسلئے نئے تعلیمی سال کی تیاری صرف ظاہری سامان تک محدود نہ رکھئے بلکہ اپنے بچوں کے دلوں میں امید، نظم و ضبط، اعتماد اور سیکھنے کا شوق بھی پیدا کیجئے۔ کیونکہ کامیاب تعلیمی سال اچھی کتابوں سے نہیں، بلکہ اچھی ماؤں اور ذمہ دار بڑی بہنوں کی محنت اور توجہ سے شروع ہوتے ہیں۔