عورت صرف کھانا بنانے یا گھر سنبھالنے تک محدود نہیں، بلکہ وہ اپنے گھر کی اخلاقی فضا، دینی ماحول اور تربیتی نظام کی نگران بھی ہے۔ اس کی گفتگو، انداز، صبر، برداشت اور حکمت عملی بچوں کے ذہن پر گہرے اثرات چھوڑتی ہے۔ باشعور عورت بچوں کے ساتھ ساتھ گھر کے بڑوں کی بھی ذہن سازی میں کارگر ثابت ہوتی ہے۔
بلاشبہ عورت خلوص دل سے رشتے نبھاتی ہے تو آپسی تعلقات مستحکم ہوتے ہیں۔ تصویر: آئی این این
اسلام نے عورت کو محض گھر کی زینت نہیں بلکہ ایک ذمہ دار، باوقار اور بااختیار شخصیت کے طور پر پیش کیا ہے۔ نبی کریمؐ ایک حدیث ہے جس کا مفہوم ہے عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں کی نگراں ہے اور اس سے ان کے بارے میں سوال ہوگا۔ یہ حدیث عورت کے مقام، ذمہ داری اور کردار کو انتہائی جامع انداز میں بیان کرتی ہے۔
عورت: گھر کی معمار
گھر ایک عمارت کی مانند ہے جس کی بنیاد تربیت، محبت، نظم و ضبط اور دینی اقدار پر قائم ہوتی ہے۔ اس بنیاد کو مضبوط بنانے میں عورت کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے، جہاں سے اس کی شخصیت، اخلاق اور سوچ کی تشکیل ہوتی ہے۔ اگر ماں ذمہ داری، دیانت اور شعور کے ساتھ اپنی تربیتی ذمہ داریاں ادا کرے تو معاشرہ صالح افراد سے مزین ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’بلیک میجک پیسٹ‘ خواتین کی صحت کو بہتر بناتا ہے
عورت صرف کھانا بنانے یا گھر سنبھالنے تک محدود نہیں، بلکہ وہ اپنے گھر کی اخلاقی فضا، دینی ماحول اور تربیتی نظام کی نگران بھی ہے۔ اس کی گفتگو، انداز، صبر، برداشت اور حکمت عملی بچوں کے ذہن پر گہرے اثرات چھوڑتی ہے۔ باشعور عورت بچوں کے ساتھ ساتھ گھر کے بڑوں کی بھی ذہن سازی میں کارگر ثابت ہوتی ہے۔ صاف گوئی اور دور اندیشی سے گھریلو معاملات سلجھا کر وہ گھر والوں کے لئے بہترین رہبر بن سکتی ہے۔
اولاد کی تربیت: سب سے بڑی امانت
اولاد اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور امانت ہے۔ ماں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں میں ایمان، اخلاق، ادب اور انسانیت کے اوصاف پیدا کرے۔ نماز کی عادت، سچائی کی تعلیم، بڑوں کا احترام، چھوٹوں سے شفقت.... یہ سب ماں کی تربیت سے ہی پروان چڑھتے ہیں۔
اگر ماں اپنی ذمہ داری سے غفلت برتے تو بچے صرف جسمانی طور پر نہیں بلکہ اخلاقی و فکری طور پر بھی کمزور رہ جاتے ہیں۔ اسی لئے حدیث میں عورت کی نگرانی کو خصوصی طور پر بیان کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس رکھے۔
یہ بھی پڑھئے: بچوں کی صحت کا خیال ہے تو موبائل کا استعمال کم کروائیے
شوہر کے گھر کی نگہبانی
عورت شوہر کے گھر کی امین ہوتی ہے۔ گھر کا نظم، اخراجات میں اعتدال، رازوں کی حفاظت، سکون کا ماحول قائم رکھنا.... یہ سب اس کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔
ایک سمجھدار اور باشعور عورت گھر کو جنت نظیر بناسکتی ہے جبکہ غفلت یا بے اعتدالی گھر کے سکون کو متاثر کر دیتی ہے۔
جدید دور میں عورت کی ذمہ داری
آج کے دور میں جہاں عورت تعلیم یافتہ اور مختلف میدانوں میں سرگرم ہے، وہاں اس کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اسے گھر، بچوں، معاشرتی تعلقات اور دینی اقدار کے درمیان توازن قائم کرنا ہوتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے اس دور میں بچوں کی تربیت مزید حساس ہوگئی ہے، اس لئے ماں کو خود بھی باخبر اور باشعور ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ جب وہ جدید دور کی خرابیوں سے باخبر ہوگی تب ہی بچوں کو ان سے دور رکھنے میں کامیاب ہوپائے گی۔
جوابدہی کا احساس
اسلام کی تعلیم یہی ہے کہ ہر فرد ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال ہوگا۔ عورت کے لئے یہ احساس اسے اپنی ذمہ داریوں میں سنجیدہ، متوازن اور محتاط بناتا ہے۔ جب عورت اپنی نگرانی کا شعور اپناتی ہے تو گھر امن، محبت اور تربیت کا مرکز بن جاتا ہے۔
عورت: رشتوں کو جوڑنے والی
اللہ تعالیٰ نے رشتوں کو جوڑنے یعنی صلہ رحمی کا حکم دیا ہے اور اسے ایمان کا حصہ قرار دیا ہے۔ خاندان، والدین اور رشتہ داروں سے اچھا سلوک، محبت اور ان کی مدد کرنا رزق اور عمر میں برکت کا باعث ہے، جبکہ رشتہ توڑنا ناپسندیدہ عمل ہے۔ جب عورت خلوص دل سے رشتے نبھاتی ہے تو آپسی تعلقات مستحکم ہوتے ہیں۔
بعض دفعہ خواتین رشتوں میں بدگمانی پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ آپس میں فساد پیدا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ بہتر ہے کہ عورت صلہ رحمی کا رویہ اپنائے۔ رشتوں کو جوڑنے کی کوشش کرے۔ اس کا براہِ راست اثر پورے کنبہ پر پڑتا ہے۔ بچے بھی رشتوں کی قدر کرنا سیکھتے ہیں اور ہمارا رب بھی ہم سے راضی ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فریج میں دودھ رکھنے کا درست طریقہ کیا ہے؟
نتیجہ:
عورت معاشرے کی بنیاد ہے۔ وہ ماں بھی ہے، معلمہ بھی، مربیہ بھی اور گھر کی نگراں بھی۔ اگر عورت اپنی ذمہ داری کو سمجھ لے تو ایک صالح گھرانہ وجود میں آتا ہے اور صالح گھرانے ہی ایک بہترین معاشرے کی تشکیل کرتے ہیں۔
اسلام نے عورت کو عزت، وقار اور ذمہ داری دی ہے۔ یہی ذمہ داری دراصل اس کا مقام بلند کرتی ہے۔ ایک باشعور عورت اپنے گھر کو سنوار کر پورے معاشرے کو سنوار سکتی ہے۔