• Wed, 25 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

رمضان اور ملازمت پیشہ خواتین: یوں معمولات کو آسان بنائیں

Updated: February 25, 2026, 3:09 PM IST | Nikhat Anjum Nazimuddin | Mumbai

ماہِ صیام میں دن کا وقت اکثر ہمیں محدود معلوم ہوتا ہے اور توانائی بھی عام دنوں کے مقابلے میں کم محسوس ہوتی ہے اس لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ ہر کام کو سوچ سمجھ کر بروقت کیا جائے۔ ملازمت پیشہ خواتین اگر دن کے آغاز میں اپنے معمولات کو ذہنی طور پر ترتیب دے لیں تو بہت سی الجھنیں خودبخود ختم ہوسکتی ہیں

Preparing meals early in the day makes it easier in the evening. Photo: INN
دن کے ابتدائی حصے میں پکوان کی تیاری کرلی جائے تو شام میں آسانی ہوجاتی ہے۔ تصویر: آئی این این

ماہ رمضان المبارک ہماری زندگی میں نظم و ضبط، صبر اور خود آگہی پیدا کرنے والا مہینہ ہے۔ اس دوران روزمرہ معمولات میں فطری طور پر کچھ تبدیلیاں آتی ہیں۔ خصوصاً ان خواتین کے لئے جو ملازمت کے ساتھ ساتھ گھریلو ذمہ داریاں بھی انجام دیتی ہیں۔ دفتر کے مقررہ اوقات، بچوں کی نگہداشت، گھر کے کام اور عبادات سب ایک ساتھ ان کی توجہ کے متقاضی ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں اکثر خواتین ذہنی دباؤ اور جسمانی تھکن محسوس کرتی ہیں۔ اگر اس مہینے میں وقت کی درست ترتیب نہ کی جائے تو عبادات کا ذوق بھی متاثر ہوتا ہے اور گھریلو و پیشہ ورانہ فرائض میں توازن قائم رکھنا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کمزور اور چٹخ کرٹوٹ جانیوالے ناخنوں کو مضبوط اور چمکدار بنانے کے نسخے

* ماہ رمضان المبارک میں دن کا وقت اکثر ہمیں محدود معلوم ہوتا ہے اور توانائی بھی عام دنوں کے مقابلے میں کم محسوس ہوتی ہے اس لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ ہر کام کو سوچ سمجھ کر بروقت کیا جائے۔ ملازمت پیشہ خواتین اگر دن کے آغاز میں اپنے معمولات کو ذہنی طور پر ترتیب دے لیں تو بہت سی الجھنیں خودبخود ختم ہوسکتی ہیں۔ غیر ضروری مصروفیات کو کم کرنا اور ضروری کاموں کو اولیت دینا وقت کے بہتر استعمال کی بنیاد بنتا ہے۔

* سحری اور فجر کے بعد کے اوقات ذہنی سکون اور برکت سے بھرپور ہوتے ہیں۔ اس وقت تلاوت کلام پاک، دعا اور دن بھر کے کاموں کی منصوبہ بندی خواتین کو ایک بہتر آغاز فراہم کرتی ہے۔ بعض اوقات نیند پوری نہ ہونے کا احساس ہوتا ہے، پھر بھی اس وقت کی روحانی کیفیت پورے دن کی تھکن کو قابلِ برداشت بنا دیتی ہے۔ چند لمحے خاموشی میں گزارنا، خود کو سنبھالنے اور مثبت سوچ پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اپنی زندگی میں اِن چھوٹی چھوٹی چیزوں کو نظرانداز نہ کریں

* دفتر کے اوقات میں خود کو منظم رکھنا ملازمت پیشہ خواتین کے لئے سب سے اہم مرحلہ ہوتا ہے۔ ذہنی انتشار کی وجہ سے کام کا بوجھ دگنا محسوس ہوتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ کام کو ترتیب کے ساتھ انجام دیا جائے۔ غیر ضروری گفتگو، کام اور سوشل میڈیا سے دوری اختیار کرکے توجہ مرکوز رکھی جاسکتی ہے۔ نسبتاً مشکل اور توجہ طلب کام دن کے ابتدائی حصے میں مکمل کر لینے سے بعد کے اوقات میں دباؤ کم محسوس ہوتا ہے۔

* گھریلو ذمہ داریوں کے حوالے سے سادگی اختیار کرنا رمضان کے سکون کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ افطار اور سحری کے لئے پیچیدہ اور وقت طلب تیاریوں کے بجائے سادہ اور غذائیت سے بھرپور کھانوں کو ترجیح دینا وقت اور توانائی دونوں کی بچت کرتا ہے۔ پہلے سے تیاری کر لینا اور گھر کے دیگر افراد کو ذمہ داریوں میں شریک کرنا خواتین کے بوجھ کو ہلکا کرتا ہے۔ آپ افراد خانہ سے مدد لے سکتے ہیں۔ اس مہینے میں باہمی تعاون کا جذبہ گھریلو فضا کو خوشگوار بناتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان کے دوران بچوں کی اخلاقی تربیت کیسے کی جائے؟

* اکثر خواتین یہ محسوس کرتی ہیں کہ ملازمت اور گھریلو کاموں کے باعث عبادات کے لئے وقت نہیں بچتا حالانکہ عبادت کا تعلق نیت سے بھی ہے۔ جب نیت خالص ہو تو روزمرہ کے کام بھی باعث ِ اجر بن جاتے ہیں۔ پابندی کے ساتھ کی گئی عبادت دل پر گہرا اثر چھوڑتی ہے۔ اذکار، درود اور استغفار کو معمولات میں شامل کر لینا روحانی سکون کا ذریعہ بنتا ہے اور اس کے لئے الگ وقت نکالنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔

* افطار کے بعد عموماً جسمانی تھکن نمایاں ہو جاتی ہے۔ اس وقت خود کو غیر ضروری مصروفیات میں الجھانے کے بجائے سادہ معمول اپنانا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ افراد خانہ کے ساتھ چند پُرسکون لمحات گزارنا، بچوں سے گفتگو کرنا یا مختصر آرام (پاور نیپ) کرنا ذہن کو تقویت دیتا ہے۔

* تراویح کے بعد مناسب وقت پر سونا اگلے دن کی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے اور جسمانی طاقت بحال رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کیا آپ نے رمضان ٹائم ٹیبل بنایا؟

* ملازمت پیشہ خواتین اکثر خود سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کر لیتی ہیں، اور خود سے وابستہ توقعات مکمل نہ ہو تو احساسِ ناکامی پیدا ہونے لگتا ہے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر دن ایک جیسا نہیں ہوتا اور کچھ کام مکمل نہ ہوپانا کوئی معیوب بات نہیں ہے۔ اپنی جسمانی اور ذہنی صحت کا خیال رکھنا بھی ذمہ داری کے دائرے میں آتا ہے۔ آپ کو افراد خانہ کے ساتھ اپنے ساتھ بھی محبت اور نرمی سے پیش آنے کی ضرورت ہے۔ تب ہی آپ ماہ رمضان جیسے بابرکت مہینے سے برکتیں سمیٹ سکتی ہیں، خوش اور مطمئن رہ سکتی ہیں۔

وقت کی درست منصوبہ بندی کے ذریعے ملازمت پیشہ خواتین رمضان کو ایک زائد ذمہ داری کے طور پر لینے کے بجائے ایک نعمت کے طور پر گزار سکتی ہیں۔ سادگی، اعتدال اور خود آگہی اس مہینے کو آسان اور بامقصد بنا دیتی ہے۔ جب آپ وقت کو سمجھداری سے استعمال کریں گی تو ذمہ داریاں بھی آسانی سے نبھا سکتی ہیں، ان شاء اللہ۔ اور رمضان کی برکتیں دل و دماغ تک اترتی چلی جاتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK