Inquilab Logo Happiest Places to Work

بچوں کو سالگرہ کے دن زیادہ سے زیادہ نیکی کی ترغیب دلائیں

Updated: June 25, 2026, 4:28 PM IST | Khola Siddiqui

خلاف شرع کاموں سے بچتے ہوئے محض شکر گزاری کے طور پر کہ اللہ نے ہمیں اپنے پاکیزہ دین میں پیدا کیا، اس دن کو مخصوص کئے بغیر کسی بھی دن غریبوں کو کھانا کھلا دیں تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

Children are usually excited for their birthdays and this excitement is created by parents. Guide them properly from a young age. Photo: INN
عام طور پر بچے اپنی سالگرہ کیلئے پُرجوش ہوتے ہیں اور یہ جوش والدین ہی پیدا کرتے ہیں، کم عمر ہی سے ان کی درست رہنمائی کیجئے۔ تصویر: آئی این این

معاشرے میں سالگرہ پارٹیوں کا بڑھتا رواج

ہمارے مسلم معاشرہ میں بڑھتی ہوئی فرسودہ رسومات اور بے جا تقریبات آہستہ آہستہ ایک ناسور کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ مادہ پرستی کے اس دور میں سالگرہ منانے اور سالگرہ پارٹیوں کا بڑھتا ہوا رجحان معاشرہ کیلئے باعث ِ تشویش ہے۔ کچھ سال قبل تک سالگرہ کی تقریبات کا انعقاد صرف چند جدید طرزِ زندگی اختیار کرنے والے خاندانوں تک ہی محدود تھا، بلکہ سنجیدہ طبیعت اور تہذیب یافتہ لوگ ایسی تقریبات میں شرکت کو بھی معیوب سمجھتے تھے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ رسم بے حد عام ہوتی جا رہی ہے، جو مذہبی اور ثقافتی اقدار سے دوری کا سبب بن رہی ہے۔ اور ہماری روز مرہ زندگیوں پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ سالگرہ پارٹی جیسی فضول رسم کے چند بے حد نمایاں نقصانات مندرجہ ذیل ہیں:

فضول خرچی: مہنگائی کے اس دور میں، جب اکثر لوگ معاشی تنگی کا شکار ہیں، چند گھنٹوں کی تقریب کیلئے ہزاروں روپے کی سجاوٹ، مہنگے کیک اور دیگر غیر ضروری اخراجات پر خرچ کئے جاتے ہیں۔ یہ نہ صرف بجٹ کو متاثر کرتا ہے بلکہ فضول خرچی کی عادت بھی پیدا کرتا ہے۔ اسلام میں فضول خرچی کو ناپسند کیا گیا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: بے شک فضول خرچ شیطان کے بھائی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: بچوں کی تربیت اور سادگی کا شعور: فکرانگیز تحریر

ظاہری نمائش و نام و نمود: سالگرہ کی تقریبات میں اکثر لوگ دوسروں کی دیکھا دیکھی اور مقابلے کے جذبے سے بے جا نمائش کرتے ہیں، جس سے ریاکاری اور تفاخر کو فروغ ملتا ہے۔

بچّوں میں ضد اور احساسِ کمتری: ایسی تقریبات بچوں میں مہنگے تحائف اور شاندار انتظامات کی خواہش پیدا کرتی ہیں۔ اگر کسی بچے کی سالگرہ سادہ انداز میں منائی جائے تو وہ اپنے ہم عمر بچوں کے سامنے احساسِ کمتری کا شکار ہوسکتا ہے۔

صحت پر منفی اثرات: اکثر دیکھا گیا ہے کہ سالگرہ پارٹیوں میں کولڈ ڈرنکس، فاسٹ فوڈ اور دیگر جنک فوڈز کا استعمال عام ہوتا ہے، جو بچوں اور بڑوں دونوں کی صحت کے لئے نقصاندہ ہے۔

نامناسب سرگرمیاں: ایسی تقریبات میں مرد و زن کا اختلاط، موسیقی اور دیگر غیر شرعی امور بھی شامل ہوتے ہیں، جو اسلامی تعلیمات و اخلاقیات کیخلاف ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: پارٹی، نمائش اور فضول خرچی: بچنے کی ضرورت ہے

غیر قوموں کی نقالی: سالگرہ منانے، کیک کاٹنے، موم بتیاں جلانے اور ’’ہیپی برتھ ڈے‘‘ کے گیت گانے کا رواج مغربی اقوام سے آیا ہے۔ یہ اسلامی تہذیب کا حصہ نہیں ہے۔ رسولؐ اللہ کے زمانہ سے لے کر صحابہ کرام، تابعین و تبع تابعین اور اُن کے بعد سلف صالحین میں سے کسی نے نہ اپنا یوم ِ پیدائش منایا اور نہ ہی اس جیسے کسی عمل کی کوئی ترغیب دلائی بلکہ یہ تمام فرسودہ تقریبات کا آغاز مستشرقین قوموں کی جانب سے جاری کردہ ہے۔ اور غیر قوموں کی مشابہت کی سخت وعید اللہ کے نبی نے ہمیں بتلائی ہے۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا: ’’جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی، وہ انہی میں سے ہے۔‘‘ آج افسوس اس بات پر ہے کہ مسلم معاشرہ پر جتنا اس عمل کی قباحت واضح ہوتی جا رہی ہے، اتنا ہی اس کا رواج بھی بڑھتا جا رہا ہے۔

دین اسلام کی معتدل مزاجی: خوشی منانا اور تقریبات کا انعقاد چونکہ انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ اس لئے دین فطرت نہ ہمیں خوشی کے اظہار سے روکتا ہے اور نہ غم کے موقع پر صبر کے ساتھ غم کے اظہار سے منع کرتا ہے۔ البتہ اسلام ہر اس عمل کو ناپسند کرتا ہے جس میں بے جا اسراف، نمود و نمائش یا شریعت کی خلاف ورزی پائی جائے۔

اگر ہم مروجہ رسوم و بدعات، اور اسی طرح غیروں کی مشابہت اور دیگر خلاف شرع کاموں سے بچتے ہوئے محض شکر گزاری کے طور پر کہ اللہ نے ہمیں اپنے پاکیزہ دین میں پیدا کیا، اس دن کو مخصوص کئے بغیر کسی بھی دن غریبوں کو کھانا کھلا دیں تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اسلام میں بہت سی دعوتیں اور اجتماعات سنت اور باعث ِ اجر ہیں، لیکن سالگرہ منانے کا کوئی شرعی ثبوت موجود نہیں۔ عقیقہ کرنا ایک سنت و مستحب عمل ہے، لیکن افسوس کہ ہمارے سماج کا ایک بڑا باحیثیت طبقہ اس مستحب دعوت کو زیادہ خاطر میں نہیں لاتا جبکہ اسکے برعکس سالگرہ پارٹی جیسی بے بنیاد فضول رسومات کے انعقاد میں پیسہ پانی کی طرح خرچ کر دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: فریج میں رکھا ہوا کھانا استعمال کرتے وقت محتاط رہیں

اکثر دیکھا گیا ہے کہ بچے سالگرہ کے دن کو لے کر زیادہ پُر جوش ہوتے ہیں۔ اور اس جوش کو بھی والدین نے ہی اُن کے اندر پیدا کیا ہوتا ہے۔ والدین کو چاہئے کہ بچّوں کے اندر سالگرہ کے دن کو لے کر خوشی کے بجائے ایک فکر پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ اُنہیں سمجھائیں کہ ہماری زندگی کا ایک سال کم ہوگیا ہے اس پر خوشی کس بات کی؟ مزید اُنہیں سالگرہ کے دن زیادہ سے زیادہ نیکی کی ترغیب دلائیں۔ بچوں کے ساتھ اس دن کوئی اچھی چیز بنا کر اُن کے ہاتھوں سے غرباء میں تقسیم کروائیں۔ اور انہیں اس نیکی کی خوشی کو محسوس کروائیں اس کے علاوہ خاص سالگرہ کے دن کے بجائے کسی اور موقع پر اُن کو سرپرائز تحفہ دیں۔ مزید متبادل کے طور پر اور بچوں میں مہمان نوازی کی عادات ڈالنے کیلئے وقتاً فوقتاً خاندان والوں اور اعزا و اقرباء کی دعوت کرتی رہیں۔ اور عیدالفطر و عید الاضحی کی دعوتوں کو اسپیشل بنانے کی کوشش کریں تاکہ بچے سال بھر سالگرہ کے دن کا انتظار کرنے کے بجائے ان دعوتوں اور خاص مواقع کا انتظار کریں۔ اس طرح ہمیں غیروں کی نقالی اختیار کرنے کے بجائے اپنی دینی روایات، سنتوں اور جائز خوشیوں کو فروغ دینا چاہئے۔

اللہ تعالیٰ مسلم معاشرہ سے اس رسم بد کا خاتمہ فرمائے اور ہمیں دین ِ اسلام کی صحیح تعلیمات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہر قسم کی غیر شرعی رسومات و بدعات اور فضول روایات سے ہمیشہ محفوظ رکھے (آمین)۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK