Inquilab Logo Happiest Places to Work

جی ایم مومن ویمنس کالج: ’آئی ایس او‘ سے سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والا پہلا ادارہ

Updated: March 08, 2026, 11:48 AM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Mumbai

خواتین کو اعلیٰ تعلیم دلانے والے بھیونڈی کے اس ادارے کو ممبئی یونیورسٹی کے تحت جاری ۹۰۵؍ کالجز میں ’لیڈ‘ کا لج کا درجہ بھی حاصل ہے اور اس لحاظ سے بھی یہ پہلا ’مسلم مائناریٹی گرلز کالج‘ ہے، یہاں پر مینجمنٹ اسٹڈیز اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت کئی اہم شعبوں میں اعلیٰ تعلیم کاانتظام ہے۔

The head of the institution, Principal Dr. Tabassum Sheikh, and the magnificent college building can be seen in the second picture. Photo: INN
ادارے کی سربراہ پرنسپل ڈاکٹر تبسم شیخ اور دوسری تصویر میں کالج کی شاندار عمارت دیکھی جاسکتی ہے۔ تصویر: آئی این این

شہر بھیونڈی پاورلوم صنعت کے سبب ریاست کا ’مانچسٹر‘ کہلاتا ہے۔ شہر کی گلیوں میں پاورلوم مشینوں کی مسلسل گونج سنائی دیتی ہے اور یہی صنعت یہاں کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے۔ مگر اسی صنعتی شور کے درمیان ایک ایسا تعلیمی مرکز بھی قائم ہے جو خاموشی سے معاشرے میں مثبت تبدیلی کی بنیاد رکھ رہا ہے۔ یہ ادارہ ہے جی  ایم (غلام محمد) مومن ویمنس کالج، جو خواتین کی تعلیم اور بااختیاری کی ایک نمایاں مثال بن چکا ہے۔ ایسے میں عالمی یومِ خواتین کے موقع پر اس ادارے کی خدمات کا جائزہ لیا جانا ضروری معلوم ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: راشٹرپتی بھون سے چندریان تک: بدلتے بھارت کی معمار خواتین

 ایک صدی پرانی تعلیمی تحریک 

جی ایم مومن ویمنس کالج ضلع تھانے کی معروف تعلیمی تنظیم کوکن مسلم ایجوکیشن سوسائٹی کی تعلیمی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ اس سوسائٹی کی بنیاد ۱۰؍ اکتوبر ۱۹۲۷ء کو بھیونڈی میں رکھی گئی تھی۔ گزشتہ تقریباً ایک صدی سے یہ ادارہ تعلیم کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے۔ سوسائٹی کا بنیادی مقصد ضلع تھانے کے عوام کو تعلیمی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ سوسائٹی کے موجودہ صدر الماظ فقیہ کی قیادت میں یہ ادارہ مسلسل تعلیمی ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ اسی تعلیمی مشن کو مزید مضبوط بنانے کیلئے جولائی۱۹۸۹ء میں جی ایم مومن ویمنس کالج قائم کیا گیا۔ یہ علاقے کا پہلا مسلم اقلیتی خواتین کا کالج تھا، جس نے لڑکیوں کیلئے اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھولنے میں اہم کردار ادا کیا۔ کالج کا نصب العین ہے’علم کی شمع کو فروغ دینا‘۔اس کالج کو ممبئی یونیورسٹی کے تحت جاری۹۰۵؍ کالجز میں ’لیڈ‘ کالج کا درجہ بھی حاصل ہے۔ یونیورسٹی نےصوفایہ کالج،اکبر پیر بھائی کالج، رائل کالج، جھن جھن والا کالج اور چیتنا کالج سمیت مجموعی طور پر ۵۵؍ کالجز کو ’لیڈ‘ کالج کا درجہ عطا کیا ہے۔ ان تمام کالجز میں یہ واحد ’مسلم مائناریٹی گرلز‘ کالج ہے۔

بطور’ لیڈ‘ کالج یہ ادارہ اپنے کلسٹر کے دیگر کالجوں کو تعلیمی پروگرامس، یونیورسٹی کے سرکلرز اور مختلف اقدامات کے حوالے سے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ بالخصوص قومی تعلیمی پالیسی۲۰۲۰ء کے نفاذ کے  دوران کالج نے دیگر اداروں کو مؤثر رہنمائی فراہم کی ہے۔ سوسائٹی کی چیئرپرسن صہبا پٹھان، جنرل سیکریٹری دانیا ل قاضی اور نائب صدر ایڈوکیٹ یاسین مومن سمیت دیگراراکین ادارے کی ترقی اور استحکام کیلئے مسلسل کوشاں ہیں تاکہ اس کے بانیوں کے تعلیمی خواب کو حقیقت کا روپ دیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھئے: صدف کانڈے ڈاکٹر ہیں اور روزہ کے ساتھ کلینک اور گھر بخوبی سنبھالتی ہیں

  خواتین کو بااختیار بنانے کی کوشش 

ابتدا میں محدود تعداد سے شروع ہونے والا یہ ادارہ اب ایک بڑا تعلیمی مرکز بن چکا ہے۔ اس وقت کالج میں تقریباً دو ہزار طالبات زیر تعلیم ہیں۔ کالج میں آرٹس، سائنس، کامرس، مینجمنٹ اسٹڈیز، انفارمیشن ٹیکنالوجی، بایوٹیکنالوجی اور انٹر ڈسپلنری اسٹڈیز جیسے شعبوں میں انڈر گریجویٹ اور  پوسٹ گریجویٹ کی تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف پی ایچ ڈی پروگرام بھی یونیورسٹی آف ممبئی سے منسلک ہیں۔ انتظامیہ کا مقصد صرف ڈگری فراہم کرنا نہیں بلکہ طالبات کو عملی زندگی کیلئے تیار کرنا بھی ہے۔ اسی لیے یہاں ڈپلومہ، سرٹیفکیٹ اور مہارت پر مبنی کورسز بھی شروع کئے گئے ہیں تاکہ طالبات معاشی طور پر خودمختاربن سکیں۔

 جدید انفراسٹرکچر 

جی ایم مومن ویمنس کالج کے پاس جدید تعلیمی سہولیات سے آراستہ ایک ترقی یافتہ کیمپس ہے۔ یہاں جدید سائنسی لیباریٹریاںاور تعلیمی تحقیق کیلئے سازگار ماحول موجود ہے۔کیمپس میں ایک بڑا کھیل کا میدان، دو تعلیمی عمارتیں، جمخانہ، وسیع آڈیٹوریم، طالبات کیلئے الگ کامن روم اور طالبات و عملے کیلئے دو کینٹین بھی موجود ہیں۔انہیں سہولیات کی بنا کر ادارے کو کئی اہم سرٹیفکیٹس بھی نوازا گیا ہے۔یہ کالج ان چند اداروں میں شامل ہے جنہیں مختلف سرکاری اداروں کی جانب سے تعلیمی اور تحقیقی ترقی کیلئے خصوصی گرانٹس حاصل ہوئی ہیں۔ ان میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی)، ڈپارٹمنٹ آف بایوٹیکنالوجی (ڈی بی ٹی) کے اسٹار اسکیم،فنڈ فار امپروومنٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر (ایف آئی ایس ٹی) اور راشٹریہ اُچّترشکشا ابھیان شامل ہیں۔اس کے علاوہ کالج کو نیشنل اسیسمنٹ اینڈ ایکریڈیٹیشن کونسل (NAAC) کی جانب سے’بی پلس پلس‘ گریڈ سے نوازا گیا ہے۔ ایک اور اعزاز یہ ہے کہ اس کالج کو ملک میں سب سے پہلے’آئی ایس او21001:2018 کے تحت ایجوکیشنل آرگنائزیشن مینجمنٹ سسٹم (ای او ایم ایس) کا سرٹیفکیشن حاصل ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: روزہ میں ہائیڈریٹ رہنے کے تین آسان طریقے

باصلاحیت اساتذہ اور فعال قیادت

ادارے کی ترقی میں اس کے تدریسی اور غیر تدریسی عملے کا اہم کردار ہے۔ یہاں خدمات انجام دینے والے کئی اساتذہ پی ایچ ڈی ڈگری کے حامل ہیں اور مختلف تحقیقی سرگرمیوں میں سرگرم ہیں۔متعدد اساتذہ یونیورسٹی آف ممبئی کے بورڈ آف اسٹڈیز کے رکن بھی ہیں اور تحقیقی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ تدریس کے ساتھ ساتھ وہ یونیورسٹی اور کالج کی مختلف تعلیمی و انتظامی کمیٹیوں میں بھی فعال کردار ادا کرتے ہیں۔کالج کی پرنسپل ڈاکٹر تبسم شیخ بھی یونیورسٹی آف ممبئی میں فلسفہ کے بورڈ آف اسٹڈیز کی رکن ہیں۔ وہ خواتین اور محروم طبقات کی فلاح کیلئے کام کرنے والی ایک سماجی تنظیم سے وابستہ ہیں۔ انہیں بین الاقوامی سطح پر نائجیریا اور فرانس سمیت کئی ممالک کے دوروں کا تجربہ بھی حاصل ہے۔

 تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابیاں 

جی ایم مومن ویمنس کالج اپنی تعلیمی کارکردگی کیلئے بھی معروف ہے۔ یونیورسٹی آف ممبئی کے امتحانات میں یہاں کی کامیابی کی شرح تقریباً ۱۰۰؍ فیصد رہی ہے۔کالج کے قیام کے بعد سے اب تک۹؍ طالبات یونیورسٹی میں میرٹ لسٹ میں جگہ بنا چکی ہیں جبکہ ۳۰؍ طالبات رول آف آنر میں شامل ہو چکی ہیں۔حالیہ کامیابیوں میں۲۳۔۲۰۲۲ء میں ٹی وائی بی ایس سی ریاضی میں ۲؍ یونیورسٹی ٹاپرز اور۲۴۔۲۰۲۳ء میں ٹی وائی بی ایس سی فزکس میں ایک گولڈ میڈلسٹ شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: زینت ایڈوکیٹ ہیں، کئی ذمہ داریاں نبھاتی ہیں مگر روزہ ترک نہیں کرتیں

دیگر اہم سرگرمیاں

کالج کی طالبات نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ثقافتی اور کھیلوں کے میدان میں بھی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔انٹرکالجیٹ اُڑان فیسٹیول میں کالج نے۲۰۰۹ء سے مسلسل انعامات حاصل کئے ہیں۔ اسی طرح یوتھ فیسٹیول میں بھی  نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ طالبات نے کرکٹ اور باکسنگ جیسے کھیلوں میں یونیورسٹی کی نمائندگی بھی کی ہے۔ اس کے علاوہ کالج کی این ایس ایس یونٹ کو یونیورسٹی، ریاستی اور قومی سطح پر بہترین یونٹ کے اعزازات مل چکے ہیں۔ تحقیقی ماحول کو فروغ دینے کیلئے کالج ہر سال قومی اور بین الاقوامی کانفرنسوں کا انعقاد بھی کرتا ہے اور مختلف علاقائی، قومی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ ’ایم او یوز‘ پر دستخط بھی کیے گئے ہیں۔

خواتین کے روشن مستقبل کی امید

اپنی مسلسل کامیابیوں اور معیاری تعلیم کے باعث یہ کالج آج شہر میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والی طالبات کی پہلی ترجیح بن چکا ہے۔ یہاں سے فارغ التحصیل طالبات مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں اور معاشرے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔خواتین کے عالمی دن کے موقع پر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جی۔ ایم۔ مومن ویمنز کالج جیسے ادارے معاشرے میں خاموش مگر گہرا انقلاب برپا کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK