• Mon, 23 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گھر، بچے اور عبادات: توازن کیسے قائم رکھیں؟

Updated: February 23, 2026, 2:46 PM IST | Ansari Ayesha Abshar Ahmad | Mumbai

باشعورہونے کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنا بھی خیال رکھیں اور اپنے گھر والوں کے لئے بھی آسانیاں فراہم کریں اور نیکی و تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کے مددگار بنیں۔ رمضان المبارک کے بے پایاں فیوض و برکات سے مستفید ہونے کی پوری کوشش کریں۔

Prefer simple dishes for iftar so that you have time for other tasks. Photo: INN
افطار میں سادہ پکوانوں کو ترجیح دیں تاکہ دیگر کاموں کے لئے وقت مل سکے۔ تصویر: آئی این این

رمضان المبارک کا مہینہ اپنی تمام تر برکتوں اور رحمتوں کے ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ان عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے جو اس نے اپنے بندوں کو عطا کی ہیں۔ نیکیوں اور بھلائیوں کے اس موسم بہار سے پوری طرح فیض یاب ہونے کیلئے ضروری ہے کہ ہم خواتین خصوصی طور پر رمضان کی اہمیت کو سمجھیں اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے منصوبہ بندی کریں۔ اس کی ایک ایک نورانی مبارک ساعتوں سے مستفید ہونے کیلئے خواتین کو کافی فکرمندی، تگ و دو کرنی ضروری ہے۔ اس ماہ مبارک کے فیوض و برکات، انوارات سے خواتین اسی وقت بہرہ مند ہوسکتی ہیں جب وہ اپنے گھر، بچے اور عبادات میں توازن برقرار رکھ سکیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’سیل‘‘ کے دوران خریداری کرتے وقت اِن باتوں کا خیال رکھیں

عموماً خواتین بڑی خوش اسلوبی اور بشاشت سے رمضان المبارک کے ایام میں اضافی ذمہ داریوں کو نبھاتی ہیں اور حسن انتظام سے بے شمار مختلف کام انجام دیتی ہیں۔ خواتین سال میں ایک دفعہ آنے والے گنتی کے چند روحانی ایام بہار کیلئے شوق اور سرگرمی سے تیاری کرکے گھر کا ماحول سازگار بناتی ہیں۔ اگر کبھی ان مشقت سے تناؤ اور پریشانی محسوس ہو تو یہ خیال رکھیں کہ رؤف و رحیم مولا کریم نے گھر کے کاموں کو بھی بلا اجر نہیں رکھا۔ جس طرح مرد کا خاندان کے لئے روزی کما کر لانا ایک طرح عبادت ہے اسی طرح خاتون کا اپنے گھر کی نگہداشت کرنا اور بیک وقت دو پر مشقت کام روزہ اور گھر سنبھالنا بے اجر نہیں رہتا یہ بھی عبادت ہے۔ دن رات کے معمول کے ۲۴؍ گھنٹوں میں ڈھیروں کام بلکہ اضافی کاموں اور اضافی عبادت کے لئے ہمت، طاقت اور وقت حاصل کرنے کے لئے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تاکہ ہماری تربیت اور تزکیہ ہو۔ خواتین یہ ملحوظ رکھیں کہ اگر اس ماہ مبارک کی قدر و قیمت کو سمجھتے ہوئے اپنے اوقات گزاریں اور تعلق بااللہ اور تعلق بالقرآن، ہمدردی، غمگساری کے ساتھ رمضان المبارک سے مستفید ہوں تو تقویٰ پرہیزگاری، روحانی فوائد تو حاصل ہوں گے ہی ساتھ ہی دنیاوی اعتبار سے یہ نہایت مفید ہے اور بے شمار جسمانی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔ جیسے روزے میں سال بھر جسم کے مختلف خلیوں میں جو فاسد مادے پیدا ہوتے ہیں، وہ جسم سے خارج ہوجاتے ہیں۔ روزوں کی وجہ سے بھولنے کی بیماری، ذیابیطس اور دل کے امراض میں درستگی ہوجاتی ہے۔ وزن کم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ جسم ڈیٹاکس ہو کر میٹابولزم بہتر بنتا ہے اور چہرے کی صحت بہتر بنتی ہے۔ روزہ ذہنی اور جذباتی طور پر توجہ اور ارتکاز کو بڑھاتا ہے۔ تناؤ، افسردگی کو کم کرکے سکون کو فروغ دیتا ہے۔ روزہ خواتین کی جسمانی، ذہنی اور جذباتی صحت کیلئے بے مثال فوائد پیش کرتا ہے۔ روزہ جسم کی مرمت، دماغ کی صفائی اور روح کی بیداری ہے۔ خواتین گھر کی بنیاد ہیں۔ گھر والوں اور خود ان کی اپنی صحت کا دارومدار ان ہی پر ہوتا ہے۔ لہٰذا رمضان کو صرف لذت کام و دہن کا مہینہ ہی نہ بنا لیں کہ ماہ مقدس کی مبارک ساعتیں کچن کی پوری نذر ہوجائیں لہٰذا گھر، عبادت میں توازن برقرار رکھنے کے لئے بجٹ پہلے سے بنا لیں اور اسے زیادہ نہ بڑھنے دیں تاکہ ہم منہ پر قابو رکھ سکیں۔ پھر ہم بہت آسانی سے عبادات کو وقت دے سکیں گے۔ ساتھ ہی جب ہمارا گھریلو بجٹ قابو میں ہوگا تو ہم دوسروں کی مدد بھی زیادہ فراخدلی اور خوشدلی کے ساتھ کرسکیں گے۔

یہ بھی پڑھئے: سحری میں اِن چار غذاؤں سے پرہیز کرنا چاہئے

ایک چیک لسٹ بنالیں اور اس میں تمام کام جو ضرری ہیں تحریر کرلیں جیسے گھر کے کام، پکوانوں کی تیاری، عید کی خریداری وغیرہ۔ یہ سب کام پہلے انجام دیں۔ اپنا جائزہ لیں کہ مَیں کس طرح اپنے رمضان کو بہتر سے بہتر بنا سکتی ہوں؟ کن کاموں میں مشغول رہنا ہے اور کن باتوں سے دور رہنا ہے۔ ذاتی احتساب کا یہ جذبہ ہمارے ایمان میں اضافے کا سبب بنے گا۔

افطار میں زیادہ پکوانوں کے بجائے سادہ غذا پر توجہ دیں تاکہ صحت اچھی رہے اور وقت بچے۔ بہتر ہوگا کہ پکوانوں کے مینو پہلے تیار کرلیں۔

گھر کے دیگر افراد جیسے بچوں اور شوہر کی مدد لیں جیسے افطار لگانا، پھل کاٹنا، دسترخوان بچھانا اور سمیٹنا جیسے چھوٹے کاموں میں انہیں شامل کریں۔ بچوں کے لئے رمضان کی سرگرمیاں (رنگ بھرنا، رمضان کہانی) تلاش کریں تاکہ وہ مصروف رہیںا ور آپ سکون سے عبادت کریں۔

عبادت کا شیڈول بنا لیں جیسے ہر نماز کے بعد تلاوت کا ایک مخصوص حصہ پڑھنے کا معمول بنا لیں، نوافل، اذکار پڑھتے رہیں۔ دعا کریں۔ اپنی خود کی صحت کا خصوصی خیال رکھیں۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان کی عین وقت کی تیاریاں؛ چند کارآمد باتیں

غرضیکہ وقت کی صحیح منصوبہ بندی، صحت کا خیال اور خاندانی تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش سے رمضان کی برکتوں کو زیادہ بہتر طریقے سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس مقدس مہینے کو عبادات، صحت اور گھریلو ذمہ داریوں کے درمیان توازن کے ساتھ گزارنا ہی حقیقی کامیابی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK