Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسکرین سے باہر کی حقیقی دُنیا کیسے دریافت ہو؟

Updated: March 31, 2026, 2:53 PM IST | Khalida Fodkar | Mumbai

اگر ہمارے بچے، اہل خانہ یا ہم خود بھی موبائل فون کے عادی ہیں تو یہ باعث ِ تشویش ہے، اب ضرورت ہے کہ مسئلے کی سنگینی کو سمجھ کر اس کے تدارک کی مؤثر تدبیر کریں۔ کمروں میں قید موبائل فون کی دُنیا میں مصروف رہنے کے بجائے آؤٹ ڈور سرگرمیوں جیسے جسمانی کھیل کود، ورزش، تعلیمی و تفریحی سیر کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے۔

Make a rule that no one will use a mobile phone when everyone is together or eating. Photo: INN
جب سب اکٹھے ہوں یا کھانا کھا رہے ہوں تو کوئی بھی موبائل فون استعمال نہیں کرے گا، ایسا کوئی اصول بنائیں۔ تصویر: آئی این این

موبائل فون بلاشبہ ایک ایسی جدید ٹیکنالوجی ہے جو وقت حاضر اور مستقبل کی اہم ترین ضرورت بن گئی ہے۔ حتیٰ کہ موبائل صارفین کی تعداد کروڑوں اربوں میں پہنچ چکی ہے۔ اپنی مالی حیثیت اور استطاعت کے مطابق سستے مہنگے یا قیمتی موبائل اب ہرکسی کے ہاتھوں میں ہیں۔ موبائل کے پھیلاؤ نے جہاں سہولتیں فراہم کی ہیں، جینے، سیکھنے اور دنیا سے جڑنے کے طریقے سکھائے ہیں وہیں دوسری جانب ہزاروں اندیشے، خدشات اور نقصانات کی راہیں بھی ہموار کی ہیں۔ دیگر ایجادات کی مانند یہ ایجاد بھی نفع رسانی کے ساتھ ساتھ کچھ ضرر رسانی بھی اپنے پہلو میں رکھتی ہے۔ یہ بات ہم انسانوں کے شعور کو طے کرنی ہے کہ کسی بھی سہولت خصوصاً موبائل اور اسکرینوں کا استعمال کب تک نافع ہے اور کب یہ نقصان کی حدوں میں داخل ہو جاتا ہے۔ کچھ اخلاقی، نفسیاتی اور معاشرتی حدود کی پاسداری کے ضابطے ہم کو خود پر لاگو کرنے ہیں تاکہ یہ رحمت زحمت میں نہ بدل جائے کیونکہ اگر دور حاضر کے کسی ایسے فتنہ کا ذکر کریں جس میں بلا امتیاز عمر اور حیثیت ہر انسان مبتلا ہے تو وہ موبائل کی لت کے سوا کوئی نہیں۔ یہ ایک جدید نفسیاتی مسئلہ ہے جس میں ہر وقت اسکرین دیکھنے کی خواہش سماجی اور جذباتی زندگی کو بہت متاثر کرتی ہے۔ اس کے اثرات اس قدر شدید ہیں کہ اس لت کو اب ایک مرض شمار کیا جانے لگا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ازدواجی زندگی کا حسن: چھوٹی باتیں، بڑے اثرات

اس میں کوئی شک نہیں کہ مواصلات، تعلیم اور تفریح کے پہلو سے اس فون کے فوائد بہت ہیں۔ ہماری زندگی میں اس کی جگہ مقدم ہے مگریہ بھی سچ ہے کہ اس کا حد سے زیادہ استعمال خطرات کو جنم دیتا ہے۔ خصوصاً چھوٹے بچے تو آج کل موبائل کی اس ڈیجیٹل دنیا میں اس قدر ڈوب چکے ہیں کہ ان کی جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور تعلیمی نشونما داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ موبائل پر کھیلے جانے والے گیمز کی عادت کے منفی اثرات اس قدر خوفناک ہیں کہ اب انہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اب ان خود ساختہ مسائل کا حل بھی ہمیں ہی نکالنا ہے۔ اس ضمن میں پہلی تدبیر تو بچوں کے تعلق سے ہو کہ ان کی موجودگی میں والدین اپنا اسکرین ٹائم کم کردیں، تب ہی نصیحت بھی کارگر ہوسکتی ہے۔ اگر وہ خود موبائل ٹی وی میں مصروف رہیں گے تو بچوں کو روکنے کا کوئی جواز نہیں بنتا، بچوں سے موبائل چھین لینا بھی مسئلہ کا حل نہیں کیونکہ اس طرزعمل کو بچے سزا سمجھتے ہیں جس سے بغاوت اور سرکشی جیسے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔ سختی کے بجائے نرمی اور پیار سے سمجھانا، بچوں کو کوئی پسندیدہ اور مفید جسمانی و ذہنی سرگرمی مہیا کرنا، ان کے ساتھ وقت گزارنا موبائل کا نعم البدل بن سکتا ہے۔ بچوں کو بات چیت، کہانیوں اور جسمانی سرگرمی والے کھیل کود میں مصروف کرکے ان کا دھیان موبائل گیمز سے ہٹایا جاسکتا ہے۔ بچوں کو توجہ، رفاقت اور دلچسپ مصروفیت مل جائے تو پھر وہ اسکرینوں سے بندھے نہیں رہتے۔

یہ بھی پڑھئے: پھول والی ہیئر کلپ نوعمر لڑکیوں میں کافی مقبول

موبائل ٹی وی اور کمپیوٹروں کی چمکتی دمکتی متحرک اسکرینوں کے سحر سے بچے اور بڑے تب ہی آزاد ہوں گے جب اتنا ہی سحر انگیز اور مرغوب کوئی متبادل سامنے ہوگا۔ کمروں میں قید ہمارے سست وجود کو جو ڈجیٹل دنیا اور اس کی رنگینیوں کو تفریح مان بیٹھے ہیں، آؤٹ ڈور سرگرمیوں جیسے جسمانی کھیل کود، ورزش، تعلیمی و تفریحی سیر کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں گھروں میں ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں موبائل کا استعمال صرف ضرورت تک محدود ہو۔

ہر مرض کی دوا بن چکا یہ موبائل اب بذات خود ایک مرض بنتا جا رہا ہے جس کا علاج یہی ہے کہ ہم اس پر سے اپنا انحصار کم کریں، مطالعے کے لئے حقیقی کتابوں کی طرف لوٹیں، تلاوت کے لئے موبائل کو ترک کرکے قرآنی مصحف سے دوبارہ رشتہ جوڑیں۔ اسکرینوں سے جڑی ہوئی مصروفیات کے نعم البدل تلاش کریں۔

ہماری روٹین اور ہمارے گھروں کے ٹائم ٹیبل میں کچھ وقفے، کچھ پیریڈ ’نو اسکرین ٹائم‘ کے ضرور ہوں۔ ناشتے اور کھانے کے دوران، رات سونے سے پہلے اور جب بھی اہل خانہ اکٹھے ہوں تو وہ وقت ’نو اسکرین ٹائم‘ ہو، ہمارا اپنا فیمیلی ٹائم ہو جب ہر فرد کے ہاتھ اور نگاہیں اسکرین سے دور ہوں۔ اس دوران آپس میں گفتگو ہو، تبادلۂ خیال اور ہنسی مذاق ہو، کوئی اجتماعی سرگرمی یا کھیل ہو۔ اسکرین سے دوری کا یہ وقفہ دوران سفر بھی ہو سکتا ہے آس پاس کے ماحول، باہر کے خوبصورت مناظر اور حقیقی رونقوں سے لطف اندوز ہونا ایک نیا اور بہتر تجربہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے: عورت بھی نگراں ہے اپنی ذمہ داریوں کی...

اسکرین ٹائم کو محدود کرکے ہم اپنا اتنا وقت اور توانائی ضرور بچا لیں گے جو ہمیں اس جیتی جاگتی کائنات کی خوبصورتی کو محسوس کرنے اور اس کا حصہ بننے کے قابل بناسکتی ہے۔ ذرا اپنی ذات کے خول اور اپنی اسکرینوں کے قید خانے سے باہر نکل کر دیکھیں۔ حقیقی چلتی پھرتی دنیا کی رونقیں اور آپسی رشتوں کی رفاقتیں، محبتیں سب ہماری منتظر ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK