یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ رمضان بچوں کی اخلاقی تربیت کیلئے محض ایک مذہبی مہینہ نہیں بلکہ ایک جامع سماجی تجربہ ہے۔ یہ مہینہ گھروں کو ایک مختصر مگر بامعنی تربیتی ادارہ بنا دیتا ہے، جہاں نصاب تحریر نہیں ہوتا بلکہ جیا جاتا ہے، جہاں سبق سنایا نہیں جاتا بلکہ دکھایا جاتا ہے
رمضان میں گھروں میں پروان چڑھنے والی اخلاقی فضا بچوں کی تربیت میں مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔ تصویر: آئی این این
رمضان المبارک کو عام طور پر عبادات، روزے اور روحانی مشقوں کے مہینے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، مگر یہ نقطۂ نظر اپنی جگہ درست ہونے کے باوجود ادھورا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ رمضان محض فرد کی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ گھروں کے مزاج، خاندانوں کے رویوں اور سماج کی مجموعی اخلاقی فضا پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ خاص طور پر اُن معاشروں میں جہاں خاندان اب بھی تربیت کی بنیادی اکائی مانا جاتا ہے، رمضان ایک ایسا سماجی لمحہ بن جاتا ہے جس میں آنے والی نسلوں کی اخلاقی سمت خاموشی سے متعین ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کیا آپ نے رمضان ٹائم ٹیبل بنایا؟
رمضان میں چونکہ گھریلو معمولات بدل جاتے ہیں، وقت کی پابندی سخت ہوجاتی ہے، بھوک اور تھکن جیسی کیفیات سامنے آتی ہیں، اس لئے یہ مہینہ بچوں کیلئے ایک غیر اعلانیہ مگر انتہائی مؤثر تربیتی ماحول فراہم کرتا ہے۔ اس پورے عمل میں عورت، خصوصاً ماں، کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ گھریلو فضا کی تشکیل، لہجوں کا توازن، روزمرہ کے فیصلوں کا انداز اور اختلافات کو برتنے کا طریقہ بڑی حد تک اسی کے رویوں سے وابستہ ہوتا ہے۔ رمضان میں عورت صرف عبادت گزار نہیں رہتی بلکہ وہ عملاً اس ماحول کی معمار بن جاتی ہے جس میں بچے سانس لیتے ہیں۔ اگر یہ فضا نرمی، برداشت، شکر اور اعتدال پر قائم ہو تو بچے اخلاقیات کو ایک مثبت، قابلِ عمل اور انسانی قدر کے طور پر قبول کرتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر یہی فضا چڑچڑے پن، سختی اور مسلسل تناؤ سے بھری ہو تو اخلاقی تربیت کا عمل متاثر ہو جاتا ہے۔ رمضان کے دوران وقت کا نظم ایک نمایاں سماجی مظہر بن کر سامنے آتا ہے۔ سحر اور افطار کے درمیان ترتیب، انتظار اور پابندی بچوں کے مشاہدے میں رہتی ہے۔ اگر اس نظم کو جبر کے بجائے فہم اور سلیقے کے ساتھ برتا جائے تو بچے وقت کی قدر، وعدے کی پابندی اور صبر جیسے اوصاف عملی طور پر سیکھتے ہیں۔ یہ وہ اخلاقی قدریں ہیں جو کسی رسمی درس کے بغیر، محض روزمرہ زندگی کے تجربے سے ذہن میں راسخ ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح ضبط نفس رمضان کا بنیادی پیغام ہے، مگر اس کا اصل اظہار رویوں میں ہوتا ہے۔ اگر روزے کی حالت میں زبان پر قابو رکھا جائے، اختلاف کو شائستگی سے حل کیا جائے اور غصے کو برداشت میں بدلا جائے تو بچے یہ سیکھتے ہیں کہ طاقت کا اصل مفہوم خود پر قابو پانا ہے۔ یہ سبق موجودہ دور میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، جہاں عدم برداشت اور فوری ردعمل ایک عمومی سماجی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
رمضان بچوں کے اندر سماجی شعور بیدار کرنے کا بھی ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ بھوک کا تجربہ اگر محض ذاتی سطح تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ شکر، احساس اور ہمدردی کے ساتھ جوڑا جائے تو بچے دوسروں کے حالات کو سمجھنے لگتے ہیں۔ کسی ضرورتمند کیلئے افطار کا حصہ الگ رکھنا، بچوں کو خود خیر کے کسی عمل میں شریک کرنا، یا شکرگزاری کے رویے کو فروغ دینا انہیں یہ سکھاتا ہے کہ اخلاقیات صرف ذاتی عبادت تک محدود نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری کا تقاضا بھی کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: یہ نسخے بالوں کے مسائل سے نجات دلائیں
میں اس پہلو کی نشاندہی ضروری سمجھتی ہوں کہ رمضان کے دوران بچوں کے ساتھ موازنہ ایک خطرناک رجحان بن سکتا ہے۔ ہر بچے کی جسمانی طاقت، ذہنی آمادگی اور جذباتی ظرف مختلف ہوتا ہے۔ اگر ان اختلافات کو نظرانداز کرکے یکساں توقعات رکھی جائیں تو احساسِ کمتری جنم لیتی ہے۔ اخلاقی تربیت کا مقصد مقابلہ پیدا کرنا نہیں بلکہ توازن، خود اعتمادی اور دیانت کو فروغ دینا ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب کوشش کو اہمیت دی جائے، نہ کہ صرف نتیجے کو۔
موجودہ دور میں اسکرین کا بڑھتا ہوا استعمال بھی بچوں کی اخلاقی تربیت کیلئے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکا ہے۔ رمضان میں مکمل پابندی کے بجائے اعتدال اور خود مثال قائم کرنا زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر افطار اور سحر کے لمحات اسکرین سے پاک رکھے جائیں اور انسانی گفتگو کو ترجیح دی جائے تو بچے رمضان کو ایک مربوط، باوقار اور پُرسکون تجربے کے طور پر یاد رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: گھر، بچے اور عبادات: توازن کیسے قائم رکھیں؟
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ بچوں کی اخلاقی تربیت میں خاموش قربانیوں کا کردار سب سے گہرا ہوتا ہے۔ بچے بڑوں کے دعوے کم، ان کے طرزِ عمل زیادہ پڑھتے ہیں۔ اگر گھریلو ذمہ داریاں وقار اور شکر کے ساتھ نبھائی جائیں تو قربانی ایک مثبت اخلاقی قدر بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر یہی قربانی شکوے اور تلخی کے ساتھ ہو تو بچے کے ذہن میں اخلاقیات بوجھ کے طور پر ثبت ہو سکتی ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ عورت خود کو مکمل طور پر نظرانداز نہ کرے، کیونکہ خودداری اور توازن کا سبق بھی وہی دے سکتی ہے جو خود اس پر عمل کرے۔
اسی لئے رمضان کو محض عبادات کے دائرے تک محدود کرنے کے بجائے اسے ایک سنجیدہ سماجی موقع کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔