رمضان جسم اور روح دونوں کی تربیت کرتا ہے۔ روزے میں انسان بھوکا اور پیاسا رہتا ہے لیکن یہ ہماری کوتاہی ہے کہ ہم سحری و افطار کے وقفے کے دوران بہت زیادہ غیر صحت بخش غذا کھاتے ہیں۔ اس سے وزن بڑھ جاتا ہے۔ رمضان کا آخر عشرہ شروع ہوچکا ہے۔ آپ چند تدابیر اپنا کر اپنا اور گھر والوں کا وزن معتدل رکھ سکتی ہیں۔
افطار میں تلی ہوئی اشیاء اور کولڈرنکس کا کم سے کم استعمال کرنا چاہئے۔ تصویر: آئی این این
رمضان المبارک عبادت، تقویٰ اور ضبط نفس کا مہینہ ہے۔ یہ جسم اور روح دونوں کی تربیت کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے مگر افسوس کہ ہمارے ہاں یہ مہینہ اکثر کھانے پینے کی زیادتی، افطار پارٹیوں اور غیر متوازن غذا کے باعث وزن میں اضافے کا سبب بن جاتا ہے۔ حالانکہ اگر دانشمندی سے معمول ترتیب دیا جائے تو رمضان وزن کم کرنے اور جسم کو متوازن بنانے کا سنہری موقع بھی بن سکتا ہے:
وزن کیوں بڑھتا ہے؟
رمضان میں وزن بڑھنے کی چند بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:
٭افطار کے وقت ضرورت سے زیادہ کھانا ٭تلی ہوئی اشیاء اور میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال ٭سحری میں غیر متوازن اور بھاری غذا ٭پانی کی کمی ٭جسمانی سرگرمی میں کمی ٭بے ترتیب نیند۔
جب دن بھر خالی پیٹ رہنے کے بعد اچانک زیادہ اور مرغن غذا کھائی جاتی ہے تو جسم اضافی کیلوریز کو چربی کی صورت میں ذخیرہ کرنے لگتا ہے، جس سے وزن بڑھ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: راحیلہ عقیل باپے روزہ رکھ کردو ڈھائی سو افراد کیلئے افطار کی اشیاء تیار کرتی ہیں
افطار: اعتدال اور ترتیب ضروری
افطار کا آغاز سنت کے مطابق کھجور اور پانی سے کرنا بہترین ہے۔ کھجور فوری توانائی فراہم کرتی ہے اور معدے کو نرم انداز میں خوراک کے لئے تیار کرتی ہے۔
افطار کے لئے بہتر حکمت عملی:
(۱) پہلے ایک یا ۳؍ کھجور اور ایک گلاس پانی
(۲) ہلکا سوپ یا سلاد
(۳) نمازِ مغرب کے بعد متوازن کھانا
افطار میں سب سے زیادہ نقصاندہ چیزیں تلی ہوئی اشیاء جیسے سموسے، پکوڑے، فرائز اور بازاری اسنیکس ہیں۔ انہیں مکمل ترک کرنا ممکن نہ ہو تو کم از کم مقدار محدود رکھیں۔ گھر میں بیک یا ایئر فرائی متبادل اپنایا جاسکتا ہے۔ میٹھے شربت، کولڈ ڈرنکس اور زیادہ چینی والی اشیاء خون میں شوگر کی سطح اچانک بڑھاتی اور پھر گراتی ہیں، جس سے دوبارہ بھوک لگتی ہے۔ اسکے بجائے سادہ پانی، لیموں پانی، تازہ پھلوں کا بغیر چینی جوس یا ناریل پانی بہتر انتخاب ہے۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان کے اختتام سے قبل خود کو دوبارہ دریافت کرلیں
سحری: دن بھر کی توانائی کا راز
سحری چھوڑ دینا یا صرف چائے پر اکتفا کرنا جسم کے لئے نقصاندہ ہے۔ اس سے میٹابولزم سست پڑ جاتا ہے اور افطار میں زیادہ کھانے کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔
سحری میں شامل کریں:
٭پروٹین: انڈے، دال، چکن، دودھ یا دہی
٭فائبر: دلیہ، براؤن بریڈ، چیا سیڈز
٭صحتمند چکنائی: بادام، اخروٹ
٭پھل اور سبزیاں
نمکین اور زیادہ مسالے دار اشیاء پیاس بڑھاتی ہیں، اسلئے سحری سادہ اور متوازن ہونی چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: عورت: زمین پر رکھا ہواایک چلتا پھرتا آسمان
پانی: خاموش مگر اہم عنصر
اکثر لوگ رمضان میں پانی کم پیتے ہیں، جس سے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات جسم پیاس کو بھوک سمجھ لیتا ہے، اور انسان غیر ضروری کھانا کھا لیتا ہے۔
افطار سے سحری تک وقفے وقفے سے کم از کم ۷؍ سے ۸؍ گلاس پانی پینا مفید ہے۔
کوشش کریں:
٭افطار پر ایک سے ۲؍ گلاس
٭رات میں ۲؍ سے ۳؍ گلاس
٭سحری میں ۲؍ سے ۳؍ گلاس
جسمانی سرگرمی: سستی نہیں، توازن
رمضان میں مکمل آرام کی عادت وزن بڑھنے کا سبب بنتی ہے۔ بھاری ورزش ضروری نہیں، مگر ہلکی پھلکی سرگرمی فائدہ مند ہے۔ ٭افطار کے بعد ۲۰؍ سے ۳۰؍ منٹ کی واک ٭باقاعدگی سے تراویح کی ادائیگی ٭ہلکی اسٹریچنگ
یہ سرگرمیاں میٹابولزم کو فعال رکھتی ہیں اور اضافی کیلوریز جلانے میں مدد دیتی ہیں۔
نیند کا نظم
دیر تک جاگنا، غیر ضروری موبائل استعمال اور بے ترتیب سونا بھی وزن بڑھانے میں کردار ادا کرتا ہے۔ نیند کی کمی ہارمونز کو متاثر کرتی ہے، جس سے بھوک بڑھتی ہے۔ کوشش کریں کہ کم از کم ۶؍ سے ۷؍ گھنٹے معیاری نیند حاصل ہو۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان کا آخری عشرہ خواتین کیلئے بھی بے حد اہم
ذہنی اور روحانی پہلو
رمضان ہمیں ضبط نفس کا درس دیتا ہے۔ جب ہم دن بھر بھوک اور پیاس برداشت کرسکتے ہیں تو افطار کے وقت خود پر قابو کیوں نہیں رکھ سکتے؟ اصل کامیابی یہی ہے کہ ہم اس مہینے کو اعتدال، شکر اور شعور کے ساتھ گزاریں۔
خاص طور پر گھریلو خواتین کے لئے یہ ایک اہم پہلو ہے کہ وہ افطار دسترخوان کو سادگی اور صحت کے اصولوں کے مطابق ترتیب دیں۔ اگر گھر کی میز سادہ اور متوازن ہوگی تو پورا خاندان صحتمند عادات اپنائے گا۔ یوں رمضان نہ صرف روحانی بلکہ خاندانی صحت کی بہتری کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔