شہر مالیگاؤں کے لئے ایک جملہ بہت کثرت سے بولا جاتا ہے کہ یہ مسجدوں اور میناروں کا شہر ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن ایسے بے شمار ایسے مدارس بھی ہیں جو بچیوں اور خواتین کیلئے مختص ہیں اور جن میں ابتدائی قاعدہ سے لے کر ناظرہ تک اور تجوید و قرأت سے لے کر حفظ تک کی کلاسیز ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شہر میں جہاں قاریہ خواتین کی کمی نہیں وہیں الحمدللہ قرآن مجید کو سینوں میں محفوظ کرنے والی خواتین بھی بے شمار ہیںجو دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم بھی حاصل کررہی ہیں۔
شہر مالیگاؤں کے لئے ایک جملہ بہت کثرت سے بولا جاتا ہے کہ یہ مسجدوں اور میناروں کا شہر ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن ایسے بے شمار ایسے مدارس بھی ہیں جو بچیوں اور خواتین کیلئے مختص ہیں اور جن میں ابتدائی قاعدہ سے لے کر ناظرہ تک اور تجوید و قرأت سے لے کر حفظ تک کی کلاسیز ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شہر میں جہاں قاریہ خواتین کی کمی نہیں وہیں الحمدللہ قرآن مجید کو سینوں میں محفوظ کرنے والی خواتین بھی بے شمار ہیںجو دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم بھی حاصل کررہی ہیں۔ خواتین کیلئے قائم ہونے والے دینی مدارس میں ایک اہم نام مدرسہ دارالسعادہ ہے جس کی بنیاد حافظ عبدالقدوس مرحوم نے رکھی تھی۔ ماہِ رمضان، ماہِ قرآن کی مناسبت سے، آئیے آپ کی ملاقات کراتے ہیں اسی مدرسہ کی ایک طالبہ، اصلاحی حافظہ رزینہ بنت رفیق احمد سے۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان کے رخصت ہونے سے قبل خواتین اِن باتوں کا خیال رکھیں
طیب آباد، مالیگاؤں کی مکین حافظہ رزینہ بنت رفیق احمد کے والد اور والدہ دونوں ہی پیشۂ تدریس سے وابستہ ہیں۔ حافظہ رزینہ نے مالیگاؤں ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج سے بارہویں تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد جے اے ٹی سینئر کالج سے بی ایس سی کیا اور فی الحال اسی کالج میں بی ایڈکے سالِ اول میں زیر تعلیم ہیں۔ حفظ قرآن کا شوق، اس کی تکمیل، اس میں پیش آنے والی دشواریاں اور ان کے تاثرات وغیرہ پر ان سے ہونے والی تفصیلی گفتگو پیش ہے:
* حفظ کی تحریک کس سے ملی؟
ہمارا گھریلو ماحول انتہائی دیندار ہے اور یہی وجہ ہے کہ مجھ میں عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کا شوق رہا۔ بچپن ہی سے دل میں یہ جوش و لگن تھی کہ میں بھی حافظ قرآن بن کر والدین کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کروں۔ دنیا وآخرت کی بھلائیاں حاصل کروں اور والدین کے لئے صدقۂ جاریہ اور ان کی نیک نامی کا ذریعہ بنوں۔ الحمدللہ، اللہ نے یہ خواہش پوری کردی۔ ۲۰۲۲ء میں مَیںنے دینی تعلیم کے لئے اپنے گھر کے قریب واقعہ مدرسہ دار السعادہ میں داخلہ لیا تھا۔ یہیں سے تجوید و حدر مکمل کرنے کے بعد شعبۂ حفظ میںاپنی مشفق معلمہ صبا آپا کے زیر نگرانی تیسواں پارہ یاد کرنے کی شروعات کی۔ اس کے بعد مجموعی طور پر ۱۳؍ ماہ کے قلیل عرصے میں حفظ قرآن مکمل کرلیا۔
* کیا بی ایڈ کے ساتھ مدرسے میں بھی تعلیم جاری ہے؟
جی ہاں، میں سمجھتی ہوں کہ حافظ قرآن کو عالم بھی ہونا ضروری ہے تاکہ وہ قرآنی احکامات اور معانی ومطالب سمجھ سکے اور قرآن پڑھنے میں لذت محسوس ہو۔ اسی لئے میں نے مدرسۃ الاصلاح للبنات کے شعبۂ عالمیت میں داخلہ لیا اور فی الحال سال سوم میں ہوں۔ منتظمہ مدرسہ سعدہ ناز آپا نے مجھے اس شرط پر کالج پڑھنے کی اجازت دی کہ عصری تعلیم کا دینی تعلیم پر اثر نہ ہو اور درمیان میں دینی تعلیم ملتوی بھی نہ ہو۔
یہ بھی پڑھئے: گرمی اور روزہ: جسم میں پانی کی کمی سے کیسے بچیں؟
* حفظ جیسی عظیم سعادت کے حصول میں آپ کی محنت اپنی جگہ، والدین اور اساتذہ کا کیا کردار رہا؟
یہ ناانصافی ہوگی اگر میں اپنے والدین کی قربانیوں کا ذکر نہ کروں۔ میری والدہ جو خود معلمہ ہیں، گھر کی مصروفیات زیادہ ہونے کے باوجود بھی مجھے یاد کرنے کے لئے وقت دیا کرتی تھیں۔ میرے والد صاحب ہمیشہ میری کامیابی کے لئے دست دعا دراز کرتے رہے۔ اللہ کے فضل سے ان ہی کی بدولت مجھے یہ اعزاز حاصل ہوا۔ مدرسے کی مخلص معلمات بھی مسلسل حوصلہ افزائی اور رہنمائی کرتی رہیں۔ مدرسہ دارالسعادہ کا یہ خاصہ ہے کہ یہاں قلیل مدت میں حفظ قرآن کا ماحول اور حوصلہ ملتا ہے۔ جن طالبات کا ایک ہفتے میں ایک پارہ حفظ ہو جایا کرتا تھا انہیں انعام دیا جاتا تھا۔ اللہ کا احسان ہے کہ میں بھی اس انعام کی اکثر حقدار رہی۔ قرآن حفظ کرنے کے بعد پختگی باقی رہے اس کے لئے مدرسہ ہذا کی صدر معلمہ حافظہ سعدہ ناز آپا نے حافظات کا ایک نشست میں قرآن کریم سنانے کی ضرورت محسوس کی۔ تمام حافظات کیلئے لازمی ہوتا ہے کہ وہ ایک نشست میں قرآن کریم سنائیں، اس کے بعد ہی سند فراغت دی جاتی ہے۔
* کوئی ایسی سورہ جو مکمل حفظ ہونے پر آپ کو بہت زیادہ خوشی ہوئی؟
مجھے سورۃ یوسف مکمل یاد ہونے پر بے انتہا خوشی و مسرت محسوس ہوئی کیونکہ سورۃ یوسف میں مشابہت والی آیات ہیں، ساتھ ہی اس سورۃ کا ترجمہ و تفسیر بھی نہایت بہترین ہے۔
* آپ نے بتایا کہ۱۳؍ ماہ کی قلیل مدت میں حفظ مکمل کیا۔ کیا اس دوران کوئی دشواری پیش نہیں آئی؟
دشواریاں تو آتی رہیں، اس دوران میری عصری تعلیم بھی جاری رہی۔ کئی دفعہ ایسا ہوتا تھا کہ حفظ کے امتحان کے ساتھ کالج کے امتحان بھی شروع ہو جاتے تھے۔ لیکن حفظ قرآن کی بدولت اللہ نے ہر راہ میرے لئے آسان کی۔ ساتھ ہی اساتذہ کا مشفقانہ رویہ والدین، بھائی بہنوں اور افراد خانہ کی قربانیاں اور ان کا ساتھ مجھے کبھی اپنے عزم سے ڈگمگا نہیں سکا۔ حفظ مکمل ہونے کے بعد قلیل مدت کی تیاری سے میں نے بھی ایک نشست میں قرآن کریم سنانے کی سعادت حاصل کی، باذن اللہ تعالیٰ۔
یہ بھی پڑھئے: ثمینہ ایچ امدانی سوشل ورکر ہیں اور روزہ میں بھی فعال رہتی ہیں
* جب حفظ کی آخری آیت مکمل ہوئی تب آپ کے تاثرات کیا تھے؟
حفظ قرآن مکمل ہونے پر دل الگ ہی جذبات سے لبریز تھا جسے تحریر میں لانا ممکن ہی نہیں۔ میں اپنے آپ کو خود اس لائق نہیں سمجھتی تھی کہ عصری تعلیم اور گھر کی مصروفیات کے باوجود صرف ۱۳؍ ماہ کی قلیل مدت میں حفظ قرآن مکمل کرلوں گی۔
* قرآن پاک کا یاد کرنا بہت بڑی نعمت ہے۔ کیا حفظ کرنے کے بعد زیادہ ذمہ داری کا احساس ہوتا ہے؟
جی ہاں! حفظ قرآن مکمل ہونے کے بعد اس ذمہ داری کا احساس رہتا ہے کہ پختگی باقی رہے۔ حالانکہ ایک نشست میں سنا لینے کے بعد یہ تھوڑا آسان ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی قرآن کے احکامات پر عمل اور اس کی یومیہ تلاوت کی فکر لگی رہتی ہے۔
* حافظ اور تراویح لازم و ملزوم سمجھے جاتے ہیں۔ کیا آپ بھی تراویح پڑھاتی ہیں یا تنہا خود ہی تراویح میں قرآن پڑھتی ہیں؟
الحمدللہ، جس سال (۲۰۲۳ء) میں حفظ قرآن کریم مکمل ہوا تھا اسی سال سے تراویح پڑھانے کا اہتمام کر رہی ہوں۔ امسال میں نے تیسری دفعہ مدرسہ دارالسعادہ کی صدر معلمہ سعدہ ناز آپا کے مکان پر تراویح میں قرآن کریم سنایا ہے۔ محلے کی خواتین بڑے ہی شوق سے تراویح میں قرآن کریم سننے کے لئے آتی ہیں۔ الحمدللہ، امسال ۱۵؍ ویں روزہ کو قرآن کریم سنانا مکمل ہوا۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان میں وزن بڑھنے کی وجوہات اور اس کا سدباب
* خواتین کے لئے کس طرح آسانی ہوسکتی ہے؟
ہمارے معاشرے کی خواتین کو میں یہ مشورہ دینا چاہوں گی کہ وہ یومیہ تلاوت کا معمول بنائیں اور ماہ رمضان المبارک میں تراویح میں قرآن کریم سننے کا اہتمام ضرور کریں۔ اس کے ساتھ ہی اس کے معانی و مطالب پر بھی غور کریں۔ قرآن کریم کی کئی سورتوں میں خواتین کے لئے اہم احکامات ہیں جن کی روشنی میں ہم اپنے آپ کو، اپنے گھر اور معاشرہ کو بہترین بنا سکتے ہیں۔ قرآن مجید کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں، اس کی برکت سے رب العالمین عصری علوم کے حصول میں بھی آپ کے لئے آسانی پیدا فرمائیں گے۔