موجودہ دور میں یہ جاننا ضروری ہوگیا ہے کہ آپ کا بچہ کتنا وقت آپ کے ساتھ گزار رہا ہے اور کتنا وقت ٹی وی، موبائل، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور بُری صحبتوں میں؟ چونکہ بچے صحیح اور غلط کا فرق نہیں جانتے اسلئے اپنے لئے مشکلیں کھڑی کر دیتے ہیں۔ ایسی صورت میں کم عمر ہی سے ان کی درست سمت میں رہنمائی کی جانی چاہئے۔
اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ تعلق بنائیں تاکہ وہ آپ سے اپنی باتیں شیئر کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔ تصویر: آئی این این
آٹھ نو سال کے کچھ بچے محلے کے کونے میں ماچس جلا کر کچھ کر رہے تھے۔ کسی خاتون نے دیکھ لیا۔ اس نے فوراً بچوں کو ٹوک دیا۔ چونکہ وہ بچوں کو جانتی تھی اس لئے فوراً اُن کے گھر پہنچ گئی اور ساری تفصیل بتا دی۔ بچے خاموش سَر جھکائے کھڑے تھے۔ بچوں کے پاس کچھ مشکوک چیزیں بھی ملیں لیکن والدین نے بچوں سے نرمی سے بات کرنا ضروری سمجھا۔ بچوں نے ڈر کے سبب کچھ نہیں بتایا۔ اس کے بعد بچوں کو تنبیہ کی گئی کہ وہ آئندہ ایسا کچھ نہیں کریں گے۔ جس کا سبھی بچوں نے وعدہ بھی کیا۔
یہ بھی پڑھئے: عادتیں اچھی ہوں یا بُری شخصیت کا آئینہ دار ہوتی ہیں
ایسی صورت حال والدین کیلئے تکلیف دہ ہوتی ہے جس کے ذمہ دار بھی وہ خود ہوتے ہیں۔ دراصل مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنے بچوں کے متعلق کم جانتے ہیں اور اس بات سے ناواقف ہوتے ہیں کہ ہمارے بچے کے کیا معمولات ہیں؟ یہ بات جاننا ضروری ہے کہ جب بچہ گھر سے نکلتا ہے تو کن لوگوں میں اٹھتا بیٹھتا ہے؟ پہلے کی بعد الگ تھی۔ پچھلے ادوار میں والدین کے ساتھ ساتھ پورا معاشرہ مل کر ایک بچے کی تربیت کرتا تھا۔ محلے کا کوئی بچہ غلط حرکت کرے تو آس پڑوس سے کوئی بزرگ اٹھ کر اس کے کان کھینچ لیا کرتا تھا۔ لیکن حالیہ دنوں میں اگر کوئی کسی کی اولاد کے متعلق کوئی شکایت کر دے تو والدین اپنے بچے کی غلطی قبول کرنے کو تیار ہی نہیں ہوتے، بلکہ شکایت کرنے والوں کو ہی سخت سنا دیتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی کسی کے بچہ کی اصلاح کرنے کا خیال ہی دل سے نکال دیتا ہے۔
موجودہ دور میں یہ جاننا ضروری ہوگیا ہے کہ آپ کا بچہ کتنا وقت آپ کے ساتھ گزار رہا ہے اور کتنا وقت ٹی وی، موبائل، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور بُری صحبتوں میں؟ کیا آپ کے خیال میں آپ کا بچہ رات رات بھر انٹرنیٹ پر بیٹھا اسلامی تاریخ کا مطالعہ کر رہا ہوگا یا یو پی ایس سی کی تیاری کرنے کی کوششوں میں مصروف ہوگا؟ اپنے آپ سے سوال کیجئے کہ آپ کے بچے کے دوست کیسے ہیں؟ کس ماحول میں وہ اُٹھ بیٹھ رہا ہے؟ موبائل فون پر اس کی کس کس سے دوستیاں ہیں؟ انٹرنیٹ پر وہ کیا دیکھ رہا ہے؟ شاید ہم میں سے بہت کم لوگوں نے ایسا کیا ہوگا اور پھر ہمیں ہوش اس وقت آتا ہے جب وقت گزر چکا ہوتا ہے، جس پر پچھتانے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھئے: بچّے نااہل یا تربیت کا فقدان؟ توجہ طلب سوال
کم عمر کے بچے جنہیں توجہ اور تربیت کی اشد ضرورت ہوتی ہے اور یہی سیکھنے کی عمر ہے۔ اس کے بعد بچہ وہی بنتا ہے جو اس نے اس عمر میں سیکھ لیا۔ اِس سے پہلے کہ دیر ہوجائے بچوں کی تربیت پر توجہ دیں۔ ابتدائی عمر ہی سے بچوں کی تربیت کی جائے تاکہ ان کے اخلاقی اوصاف کی بنیاد مضبوط ہو اور وہ بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ ساتھ مقبول شخصیت کے حامل فرد بن سکیں۔ بچوں کو کم عمر ہی سے اچھی اور بری باتوں کی تمیز سکھائیں اور اسے بتائیں کہ وہ کس طرح معاشرے میں ایک اہم مقام حاصل کرسکتا ہے۔ بچے کی اخلاقی تربیت کے لئے ضروری ہے کہ اسے سچ بولنا، بڑوں کی عزت کرنا، چھوٹوں سے محبت کرنا، مل جل کر کھیلنا، ایمانداری سے فیصلہ کرنا، دوسروں کی مدد کرنا، صفائی کا خیال رکھنا اور بڑوں کی بات ماننا سکھایا جائے۔ یہ باتیں زندگی بھر اس کو ایک اچھی زندگی گزارنے میں مدد فراہم کریں گی۔
یہ بھی پڑھئے: جو مثبت سوچ تم رکھ لو تو بازی جیت جاؤ گے!
گھر میں مثبت رویے کو فروغ دینے کے اقدامات
مثبت رویے کو فروغ دینے کے لئے پرسکون رہیں، جب بچہ بدتمیزی کرے، تو آپ کا سکون ہی ماحول کو بہتر بنائے گا۔
بچوں کی غلطی کرنے پر غصے سے گریز کریں بلکہ بات چیت سے مسئلہ حل کریں۔
بچوں کے سامنے وہی رویہ اختیار کریں جو آپ ان میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ آپ کا طرزِ عمل ان کے لئے مشعل راہ ثابت ہوگا۔
جب بچہ مثبت رویہ اختیار کرے، تو ان کی تعریف کریں تاکہ وہ اچھے عمل کو اپنانے کی حوصلہ افزائی محسوس کریں۔
بچوں کو ان کے غلط رویے کے نتائج سمجھائیں، لیکن ان پر سختی نہ کریں۔
بچوں کے سخت رویے پر یہ طریقہ آزمائیں
غصے یا تنازع کی صورت میں گفتگو کو روک دیں اور بعد میں پرسکون ماحول میں بات کریں۔ ہر حال میں بحث سے بچیں۔
بچوں کی باتوں کو ذاتی نہ لیں اور مسئلے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
اپنے بچوں کے ساتھ معیاری وقت گزاریں تاکہ وہ آپ کو اپنا اعتماد اور محبت دے سکیں۔
اپنے بچے کے ساتھ دوستانہ تعلق بنائیں تاکہ وہ آپ سے اپنی باتیں شیئر کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔
بچوں کی وقتاً فوقتاً رہنمائی کرتے رہیں۔
یاد رکھیں کہ یہ مرحلہ عارضی ہے اور وقت کے ساتھ بچوں کی سمجھ بوجھ بہتر ہوتی جائے گی۔ آپ کے صبر، محبت، اور رہنمائی سے بچے سیکھیں گے کہ زندگی میں آگے کیسے بڑھنا ہے۔ آپ کا مثبت رویہ ان کی شخصیت میں نکھار پیدا کرے گا۔