ہمارا تعلیمی ڈھانچہ بچوں کو سیکھنے سکھانے سے زیادہ مقابلے پر اُکساتا ہے جبکہ ایک بہتر معاشرہ کے لئے بچوں کو پہلے بنیادی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔
EPAPER
Updated: January 15, 2026, 3:44 PM IST | Shabnam Binte Farooq Khan | Mumbai
ہمارا تعلیمی ڈھانچہ بچوں کو سیکھنے سکھانے سے زیادہ مقابلے پر اُکساتا ہے جبکہ ایک بہتر معاشرہ کے لئے بچوں کو پہلے بنیادی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ ایک تلخ مگر روشن حقیقت ہے کہ تعلیم کبھی بھی تربیت پر غالب نہیں آسکتی۔ علم اگر کردار سازی سے خالی ہو تو وہ انسان کو مہذب بنانے کے بجائے محض چالاک، خود غرض اور موقع پرست بنا دیتا ہے۔ آج کا معاشرہ اسی فکری بحران سے گزر رہا ہے جہاں ڈگریوں کی بھرمار تو ہے مگر اخلاقی اقدار تیزی سے زوال پذیر ہیں۔
روزمرہ زندگی میں ہمیں ایسے افراد کثرت سے ملتے ہیں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود جھوٹ، فریب، تکبر، ظلم، بددیانتی، نشہ، حسد اور بداخلاقی جیسے رویوں میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ فطری سوال یہ ہے کہ کیا تعلیم کا مقصد صرف اسناد حاصل کرنا تھا؟ اور اگر نہیں ! تو پھر یہ تعلیم انہیں بہتر انسان کیوں نہ بنا سکی؟ اس سوال کا سیدھا اور واضح جواب یہی ہے کہ یہاں تربیت کا فقدان ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آخر کیوں ہم ایک جیسی زندگی گزار رہے ہیں؟
تعلیمی نظام میں خرابی
ہمارا موجودہ تعلیمی نظام زیادہ تر ایسی نفری تیار کر رہا ہے جو صرف ملازمت کے قابل ہو۔ انسانیت کے قابل نہیں۔ نصاب میں نمبرز، گریڈ، رینک اور مقابلہ تو موجود ہے مگر اخلاق، برداشت، دیانت، سماجی شعور اور ذمہ داری کو ثانوی بلکہ غیرضروری سمجھ لیا گیا ہے۔ ایسے نظام میں ترقی اور فلاح و بہبود کے دعوے محض خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں رہتے۔
رٹا! نہ تربیت، نہ تعلیم
المیہ یہ بھی ہے کہ جس عمر میں بچوں کو تربیت اور فہم دی جانی چاہئے وہاں انہیں رٹایا جا رہا ہے۔ بچے سوال کرنے، سمجھنے اور سوچنے کے بجائے یاد کرنے کے عادی بنا دیے جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نہ ان میں اخلاقی تربیت پروان چڑھتی ہے۔نہ ہی وہ حقیقی علم حاصل کر پاتے ہیں۔ یوں وہ تعلیم اور تربیت دونوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: پیشہ ورانہ زندگی میں ٹائم مینجمنٹ کی اہمیت و افادیت
سیکھنے کے تین اہم ادوار
ماہرین ِ نفسیات کے مطابق بچے کی سیکھنے کی صلاحیت تین بنیادی مراحل سے گزرتی ہے جو کچھ اس طرح سے ہیں:
پہلا دور (پیدائش تا ۷؍ سال)
یہ کردار سازی اور عادت سازی کا سنہرا دور ہے۔ بچے جو دیکھتے ہیں وہی سیکھتے ہیں۔ اس مرحلے میں تربیت نہ دی جائے تو بعد کی تعلیم بے اثر ہو جاتی ہے۔
دوسرا دور (۷؍ تا ۱۴؍ سال)
یہ سیکھنے، سوال کرنے اور اخلاقی قدروں کو سمجھنے کا دور ہے۔ اگر یہاں رٹا مسلط کر دیا جائے تو سوچنے کی صلاحیت مفلوج ہو جاتی ہے۔
تیسرا دور (۱۴؍ تا ۲۱؍ سال)
یہ تجزیہ، فیصلہ سازی اور عملی زندگی کی تیاری کا مرحلہ ہے۔ مگر اگر پہلے دونوں مراحل میں تربیت نہ ہو تو یہ دور محض ڈگری حاصل کرنے تک محدود رہ جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا نظام ان تینوں ادوار میں بچے کی فطری ذہنی نشوونما کے بجائے امتحانی نتائج کو ترجیح دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تحفہ دینے کے تین شاندار آئیڈیاز
جاپان اور چین کا تعلیمی نظام
جاپان اور چین میں کردار پہلے ڈگری بعد میں ۔اگر ہم ترقی یافتہ اقوام پر نظر ڈالیں تو تصویر بالکل مختلف دکھائی دیتی ہے۔ جاپان میں تعلیم کا آغاز ہی تربیت سے ہوتا ہے۔ ابتدائی جماعتوں میں بچوں کو صفائی، نظم و ضبط، اجتماعی ذمہ داری اور احترامِ انسانیت سکھایا جاتا ہے۔ جاپانی اسکولوں میں بچے خود اپنی کلاسیں صاف کرتے ہیں تاکہ ان میں انکساری، محنت اور اجتماعی شعور پیدا ہو۔ وہاں ڈگری سے پہلے کردار کو اہم سمجھا جاتا ہے۔
اسی طرح چین کا تعلیمی نظام بھی نظم، محنت، اجتماعی مفاد اور ریاستی ذمہ داری پر مبنی ہے۔ چینی تعلیمی فلسفہ فرد کے بجائے معاشرے کو مرکز بناتا ہے۔ طلبہ کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ تعلیم ذاتی کامیابی نہیں بلکہ قومی خدمت کا ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین نے تعلیم کو اخلاقی نظم کے ساتھ جوڑ کر عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا۔
یہ بھی پڑھئے: معصومیت، بناوٹ سے پاک انسان کی اصل پہچان
مقابلہ، مقابلہ اور صرف مقابلہ
اسکے برعکس ہمارا تعلیمی ڈھانچہ محض مقابلے پر کھڑا ہے۔ تعلیم اگر صرف روزگار حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائے اور اس میں اخلاقی تربیت شامل نہ ہو تو علم خود ایک خطرناک ہتھیار بن جاتا ہے۔ ایک بے تربیت تعلیم یافتہ شخص اپنے علم کو ظلم، استحصال اور فریب کیلئے بھی استعمال کرسکتا ہے۔ جس کی مثالیں ہمارے معاشرہ میں جا بجا موجود ہیں۔ حقیقی ترقی کا واحد راستہ یہی ہے کہ تعلیم اور تربیت کو لازم و ملزوم بنا دیا جائے۔ اسکول، کالج اور جامعات کے ساتھ ساتھ گھر اور معاشرہ بھی اس ذمہ داری سے پہلو تہی نہ کریں۔ نصاب میں اخلاقیات، کردار سازی اور سماجی شعور کو عملی حیثیت دی جائے، محض کتابی عنوان نہ بنایا جائے۔ جو قوم تعلیم کو تربیت سے جدا کر دیتی ہے، وہ سرٹیفکیٹ یافتہ افراد تو پیدا کر لیتی ہے مگر مہذب، ذمہ دار اور باکردار انسان پیدا نہیں کر پاتی۔