Inquilab Logo Happiest Places to Work

تیواسی عید: اپنوں سے ملنے کیلئے وقت نکالئے

Updated: March 23, 2026, 3:39 PM IST | Odhani Desk | Mumbai

عید، باسی، تیواسی تینوں دن مسلمان خوشیوں سے سرشار رہتے ہیں۔ ایک دوسرے سے مل کر عید کی مبارکباد پیش کرکے انہیں مسرت کا احساس ہوتا ہے۔ اس سال بھی عید کے موقع ایک دوسرے سے ملنے ملانے کا سلسلہ جاری رہا۔ باسی عید کو خواتین فیملی سمیت اپنے میکے جاتی ہیں۔ عید کے تیسرے اپنوں کیلئے مختص کیجئے۔

The joy of children on the occasion of Eid is palpable. (Photo: PTI)
عید کے موقع پر بچوں کی خوشی دیدنی ہوتی ہے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

اللہ کا شکر ہے کہ عید کا تہوار خیر و عافیت سے گزر گیا۔ عید، باسی، تیواسی، تینوں دن مسلمان بڑے زور و خروش کے ساتھ مناتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عید کے ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی پر طویل مدتی اثرات نمایاں ہیں۔ عید کے دن بندہ روحانی طور پر اپنے اور پروردگار کے درمیان مضبوط تعلق کے تجربے سے گزرتا ہے ۔ وہ اللہ کے عطا کردہ فضل و برکت کا مشاہدہ کرتا ہے اور اُس کے دل میں رب کائنات کی اُن عنایات اور کرم کا، جو سارا سال جاری رہتے ہیں، احساس گہرا ہوجاتا ہے۔ عید کے اخلاقی پہلو پر نظر ڈالیں، تو یہ فیضانِ عید ہی ہے کہ انسانی کردار سنوارنے، نیک و بد میں تمیز کرنے، سماج میں ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے سے متعلق اصولوں، رویوں اور اقدار کا اعادہ محض ایک ہی دن میں ہو جاتا ہے۔ دوسروں کے دُکھ درد محسوس کر کے اُن سے ہم دردی، ایثار اور سخاوت ہی عید کا اخلاقی پیغام ہے۔ عید کے دن غیر اور اجنبی لوگوں سے بھی مسکرا کر ملنا اِس اخلاقی صفت کو اجتماعی عادت میں بدل دیتا ہے۔ اگر عید کے معاشرتی اور سماجی زاویوں پر غور کریں، تو نمازِ عید میں رنگ و نسل اور سماجی مرتبے یا دولت کو نظر انداز کرکے عید کا دن عملی طور پر مساوات، خیر سگالی، بھائی چارے کو فروغ دیتا ہے اور ہر کس و ناکس کو یکساں طور پر معاشرتی اکائی بنا کر خود اعتمادی اور عزت نفس کی دولت سے نوازتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: عیدالفطر کے موقع پر خورد و نوش میں اعتدال ضروری

تکبر اور انا پر قابو پا کر صبر و تحمل اور برداشت سے بطور معاشرہ نظم و ضبط پر قائم رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔ عید معاشرتی ذمہ داریاں نبھانے کا سلیقہ بھی سکھاتی ہے اور یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ ہماری خوشی تب تک ادھوری ہے، جب تک ہمارے ارد گرد رہنے والے پسماندہ افراد اس میں شامل نہ ہوں۔ عید خود غرضی سے نکل کر انسانیت کی خدمت اور انسانوں سے محبت پر یقین کا درس دیتی ہے۔

خاندانوں کو جوڑنے، صلۂ رحمی کرنے اور دل کی کدورتیں صاف کر کے معاف کر دینے کے لئے عید ایک بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔ یہ دن پرانی رنجشیں ختم اور جذباتی بوجھ سے آزاد ہو کر نئی شروعات کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ پیچیدہ تعلقات کو نئے سرے سے استوار کرنا سماجی ڈھانچے کو مضبوط بناتا ہے۔ عید ذہنی سکون اور آسودگی کا بھی ذریعہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: عید کے موقع پر پڑوسیوں کا خیال رکھیں

عید، باسی، تیواسی تینوں دن مسلمان خوشیوں سے سرشار رہتے ہیں۔ ایک دوسرے سے مل کر عید کی مبارکباد پیش کرکے انہیں مسرت کا احساس ہوتا ہے۔ اس سال بھی عید کے موقع ایک دوسرے سے ملنے ملانے کا سلسلہ جاری رہا۔ باسی عید کو خواتین فیملی سمیت اپنے میکے جاتی ہیں۔ یہ روایت اس سال بھی برقرار رہی۔ تیواسی عید سیر و تفریح کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ چونکہ عید کی تیاریوں، دعوتوں کی منصوبہ بندی، گھر کی صفائی اور تزئین و آرائش کے بعد تیواسی عید کو خواتین کو کچھ راحت کے لمحات ملتے ہیں۔ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ اطراف کے سیاحتی مقام کا رخ کرسکتی ہیں۔ عام طور پر ممبئی کے حاجی علی درگاہ، چوپاٹی، مرین لائنس، جوہو چوپاٹی اور آس پاس کے گارڈن میں خواتین اپنی فیملی کے ساتھ گھومنے کے لئے جاتی ہیں۔ خیال رہے کہ اس دوران کافی بھیڑ ہوتی ہے۔ اس لئے جانے سے قبل تیاری کرکے جائیں۔

ممبئی کے کچھ مختلف علاقوں میں چھوٹے پیمانہ کا میلہ لگتا ہے۔ اس میں ایک یا دو جھولا ہوتا ہے جس سے بچے لطف اندوز نظر آتے ہیں۔ میلے کے اطراف میں کھانے پینے کی کافی اشیاء بھی فروخت ہوتی ہیں جن کے لئے بچے ضد بھی کرتے ہیں۔ عید کو دلکش بناتے یہ مشاغل زندگی بھر کے لئے یاد رہ جاتے ہیں اس لئے اس موقع کو بہتر انداز میں گزارنے کی کوشش کریں۔ حسن سلوک، مہمان داری اور دوسروں کے ساتھ خوشیوں میں شرکت کرنے کی کوشش کریں کیونکہ عید مذہبی و ثقافتی پہچان سے جڑ کر اس سے جذباتی وابستگی پیدا کر لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: عید کی خوشیاں اور خواتین کی ذمہ داریاں

افسوس کا مقام ہے ان دنوں قریبی رشتوں میں وہ قربت اب نظر نہیں آتی لیکن عید کے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنوں اور غیروں، چھوٹوں اور بڑوں سے گلے مل کر عید منائیں۔ ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ لوگ اپنے رشتے داروں سے تو خوب جذبے کے ساتھ عید ملتے ہیں لیکن پڑوسیوں کو نظر اندازکر دیتے ہیں جبکہ پڑوسیوں کا پہلا حق ہوتا ہے۔ ایک اور روایت چل پڑی ہے کہ اس عید لوگوں نے براہِ راست مل کر عید مبارک کہنے کے بجائے ایس ایم ایس یا سوشل میڈیا کے ذریعہ عید کی مبارکباد پیش کی۔ بیشتر افراد اپنے گھر تک محدود رہیں۔ تیواسی عید ایک موقع فراہم کر رہا ہے، وقت نکال کر اپنوں سے ملاقات کیلئے جائیں۔ اگر وہ لوگ کچھ دوری پر رہتے ہیں تو انہیں کال یا ویڈیو کال کیجئے۔ خلوص دل کے ساتھ انہیں عید کی مبارکباد پیش کیجئے، بڑی خوشی اور اطمینان محسوس ہوگا۔ ایک اور بات جو اچھی نہیں لگی وہ یہ کہ اب عیدی بھی ڈجیٹل ہوگئی ہے۔ بچپن میں پانچ اور دس کی ملنے والی کڑک نوٹ کی بات ہی الگ تھی۔ آن لائن پانچ سو ملنے والی عیدی سے زیادہ خوشی بچپن کی پانچ کی نوٹ میں تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK