Updated: August 15, 2026, 10:18 PM IST
| London
بچپن میں ملنے والی تربیت اور والدین کا رویہ انسان کی شخصیت اور بعد کی زندگی میں اس کے والدین بننے کے انداز پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ للت مودی نے اپنے بچپن کے تجربات اور والد کی سختیوں کے برعکس اپنے بچوں کی پرورش کے انداز پر کھل کر گفتگو کی، جس نے ایک اہم نفسیاتی سوال کو جنم دیا ہے۔
للت مودی۔ تصویر: آئی این این
والدین کے طرزِ تربیت پر اکثر ان کے اپنے بچپن کے تجربات کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ اے این آئی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں للت مودی نے بتایا کہ ان کے والد کے ساتھ ان کے تعلقات نے بعد میں اپنے بچوں کی پرورش کے انداز کو کس طرح متاثر کیا۔ انہوں نے اپنے والد اور خاندان کے ماحول کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’’میرے والد پوری دنیا گھومتے تھے۔ وہ بلا شبہ دنیا کے سب سے بڑے عیاش مزاج لوگوں میں سے تھے۔ میں نے یقیناً ان کی کچھ خصوصیات وراثت میں پائی ہوں گی، لیکن میں نے انہیں بالکل ایک دوسری سطح تک پہنچا دیا۔ ‘‘ انہوں نے مزید بتایا، ’’میرے دادا رائے بہادر اور دادی بہت قدامت پسند تھے۔ ‘‘ تاہم، ان کے مطابق ان کے والد اور چچا سماجی طور پر اس کے بالکل برعکس تھے۔ ’’میرے والد اور میرے چچا، یا اللہ! وہ دنیا کے سب سے بڑے پارٹی کے شوقین لوگوں میں تھے۔ دہلی کی ہر بڑی پارٹی میں ان کا رنگ جمتا تھا۔ وہ دہلی میں سب سے بڑی پارٹیاں منعقد کرتے تھے۔ وہ بالکل بھی قدامت پسند نہیں تھے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: امریکی میڈیا: ٹرمپ کا آبنائے ہرمز امریکی علاقہ قرار دینا مذاق تھا، ایران کا طنز
للت مودی نے بتایا کہ ان کے رویے کی وجہ سے ان پر عائد توقعات مزید سخت ہوتی چلی گئیں۔ انہوں نے کہا، ’’اصل معاملہ کنٹرول کا تھا۔ وہ کسی اور کو وہ کام کرتے نہیں دیکھ سکتے تھے جو وہ خود کرتے تھے۔ جو کچھ وہ کرتے تھے، وہ دوسروں کیلئے مناسب نہیں سمجھا جاتا تھا۔ ‘‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے بہن بھائیوں پر بھی یہی اصول لاگو ہوتے تھے تو انہوں نے کہا، ’’قواعد میرے لئےزیادہ سخت تھے، کیونکہ ان کے مطابق میں نے تمام اصول توڑ دیئے تھے۔ انہوں نے بھی اصول توڑے تھے، لیکن میں نے انہیں اس سے بھی آگے بڑھ کر توڑا۔ اس لئے جب میں نے اصول توڑے تو دوسروں کیلئے پابندیاں مزید سخت کر دی گئیں۔ ‘‘انہوں نے بتایا کہ ان پابندیوں کا اثر ان کے بہن بھائیوں پر بھی پڑا۔ ’’میری بہن کی بہت کم عمری میں بھرتیا خاندان میں شادی کر دی گئی۔ اور میرے بھائی کو، بدقسمتی سے میری وجہ سے، بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اسے ہندوستان میں ہی تعلیم حاصل کرنا پڑی۔ وہ مجھ سے آٹھ سال چھوٹا ہے اور اس کی بھی فوراً ارینج میرج کر دی گئی۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: جنوبی کوریا: انچیون بین الاقوامی ہوائی اڈا دنیا کا مصروف ترین ہوائی اڈا قرار
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ چاہتے تھے کہ ان کے اپنے بچے ان جیسے نہ بنیں تو مودی نے کہا، ’’میں خاندان کی کالی بھیڑ تھا… میں نے اپنے بچوں کی تربیت بالکل اپنے والد کے انداز کے برعکس کی۔ ‘‘انہوں نے اپنی طویل عرصے سے فیراری خریدنے کی خواہش کی مثال دیتے ہوئے کہا، ’’مثال کے طور پر، میں ہمیشہ فیراری چاہتا تھا۔ ہم کچھ بھی خریدنے کی استطاعت رکھتے تھے، لیکن میرے والد کہتے تھے، ’میں تمہیں یہ کبھی نہیں دوں گا۔ ‘ اس بات سے میری خواہش اور بڑھتی گئی۔ میری۴۰؍ویں سالگرہ پر کسی نے مجھے فیراری تحفے میں دی۔ ‘‘ للت مودی کے مطابق یہ تحفہ ان کے برادرِ نسبتی نے دیا تھا۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’واقعی کسی نے دی تھی۔ آخر فیراری کون تحفے میں دیتا ہے؟ یہ کیسی زندگی ہے؟ لیکن جو ہے سو ہے۔ ‘‘
اس کے برعکس اپنے بیٹے کے بارے میں انہوں نے کہا، ’’آخرکار میں اپنے بیٹے کو اس کی۲۱؍ویں سالگرہ سے ۳۱؍ویں سالگرہ تک ہر سال تحفہ دیتا ہوں۔ اب اس کے پاس۱۲؍ فیراری ہیں۔ میں اسے ہر سال ایک فیراری دیتا ہوں، کیونکہ میرے والد نے مجھے کبھی فیراری نہیں دی۔ اگر میں یہ سب دینے کی استطاعت رکھتا ہوں تو، میں نہیں چاہتا تھا کہ میرا بیٹا کبھی پیدل چلے۔ ‘‘جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اسے اچھی والدینیت سمجھتے ہیں تو مودی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اپنے تجربات نے اس فیصلے کو متاثر کیا۔ ’’میں ایسی زندگی سے گزرا جہاں مجھے ہمیشہ کسی نہ کسی چیز کی خواہش رہتی تھی اور میں اسے حاصل کرنے کا راستہ تلاش کر لیتا تھا۔ میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی ’جگاڑ‘ نکالتا تھا۔ کبھی دادی کو چچا کی خوشامد کرنی پڑتی یا کمپنی میں کسی اور سے مدد لینی پڑتی۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی حملوں میں غزہ سٹی کے پولیس عہدیدار سمیت ایک فلسطینی شہید، ۵؍سے زائد زخمی
انہوں نے اپنے اندازِ تربیت کا موازنہ کرتے ہوئے کہا، ’’دوسری طرف میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنے بچوں کو وہ چیزیں دوں گا جو وہ چاہتے ہیں۔ آج وہ۳۱؍ سال کا ہے۔ جب میں ۳۱؍ سال کا تھا تو پاگلوں کی طرح پیسہ خرچ کرتا تھا۔ آج وہ لڑکا میرے پاس آکر کہتا ہے، ’ابو، آپ کے کریڈٹ کارڈ کے بل بہت زیادہ ہیں۔ آپ کو تھوڑا خرچ کم کرنا چاہئے۔ ‘‘مودی کے مطابق بچوں کو زیادہ آزادی اور مادی سہولتیں دینے سے وہ مزید چیزیں حاصل کرنے کے جنون میں مبتلا نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا، ’’جب میں نے انہیں سب کچھ دے دیا تو اسے مزید کچھ نہیں چاہئے تھا۔ وہ فضول خرچ نہیں ہے۔ وہ اپنے کام سے محبت کرتے ہیں۔ وہ بہترین چیزیں خریدتے ہیں، لیکن میں مختلف تھا۔ میں ہمیشہ زیادہ حاصل کرنے کے راستے تلاش کرتا رہتا تھا۔ ‘‘ان کے تبصرے ایک اہم سوال اٹھاتے ہیں : جب بالغ افراد جان بوجھ کر اپنے بچوں کی تربیت اپنے بچپن کے بالکل برعکس کرتے ہیں تو کیا اس سے خاندان میں نسل در نسل منتقل ہونے والے غیر صحت مند رویوں کا سلسلہ توڑا جا سکتا ہے؟
یہ بھی پڑھئے: سعودی کے بحری اتحاد میں مزید ۱۳؍ممالک شامل
بچپن کے تجربات والدین کے طرزِ تربیت کو کیسے متاثر کرتے ہیں؟
ماہرِ نفسیات اور مینڈھیان کیئر کی بانی ڈاکٹر ساکشی مینڈھیان نے’ انڈین ایکسپریس‘کو بتایا کہ بچپن کے تجربات بالغ ہونے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتے۔ وہ خاموشی سے اس بات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں کہ ہم والدین کی حیثیت سے کس طرزِ عمل کو معمول سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق، جو شخص اپنے بچپن میں بہت کم آزادی کے ساتھ پلا بڑھا ہو، وہ اپنے بچوں پر حد سے زیادہ کنٹرول کے حوالے سے زیادہ حساس ہو سکتا ہے۔ وہ سوچ سکتا ہے، ’’میں جانتا ہوں کہ یہ کیسا محسوس ہوتا ہے اور میں نہیں چاہتا کہ میرے بچے کو بھی ایسا تجربہ ہو۔ ‘‘ڈاکٹر مینڈھیان کے مطابق نفسیات میں اسے نسل در نسل منتقل ہونے والے رویوں کے سلسلے کو توڑنے کی کوشش کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ بالکل مخالف سمت میں جانا بعض اوقات حد سے زیادہ ردِعمل کا باعث بن جاتا ہے۔ جس والدین نے خود بہت زیادہ پابندیاں برداشت کی ہوں، اسے اپنے بچوں کو ’’نہیں ‘‘ کہنا مشکل محسوس ہو سکتا ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’صحت مند راستہ یہ نہیں کہ ہم اپنے بچپن کو دوبارہ دہرائیں یا اسے مکمل طور پر مسترد کر دیں۔ بلکہ بہتر یہ ہے کہ ہم سمجھیں کہ ہمارے لئے کیا تکلیف دہ تھا، پھر شعوری طور پر فیصلہ کریں کہ کون سی چیز آگے لے کر چلنی ہے اور کون سی چیز ہمارے ساتھ ہی ختم ہو جانی چاہئے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: میٹا پر فلسطین حامی مواد کو منظم طریقے سے دبانے کا الزام : رپورٹ
کیا بچوں کو ہر چیز فراہم کرنا ان میں احساسِ استحقاق پیدا کر سکتا ہے؟
بچے کی ہر خواہش پوری کرنے سے وقتی طور پر اسے خوشی مل سکتی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کی مزید چیزوں کی خواہش ختم ہو جائے گی۔ جب بچے کو انتظار کرنے یا ’’نہیں ‘‘ سننے کی عادت ہی نہ ہو تو اپنی خواہش پوری ہونا رفتہ رفتہ اس کے لیے ایک معمول اور توقع بن سکتا ہے، نہ کہ ایسی چیز جس کی وہ حقیقی قدر کرے۔
ڈاکٹر مینڈھیان سخاوت اور حد سے زیادہ لاڈ پیار میں فرق واضح کرتے ہوئے کہتی ہیں، ’’بچوں کو ان کی پسند کی چیزیں دینا نفسیاتی طور پر غلط نہیں۔ تشویش اس وقت شروع ہوتی ہے جب مادی چیزیں محبت کے اظہار، رویے کو قابو کرنے، مایوسی سے بچانے یا بچے سے اپنی بات منوانے کا بنیادی ذریعہ بن جائیں۔ ‘‘