Inquilab Logo Happiest Places to Work

اے آئی ٹیکنالوجی سے گلیشیئرز کی نگرانی اور قدرتی آفات کی بروقت پیش گوئی ممکن

Updated: May 05, 2026, 7:03 PM IST | Srinagar

ہمالیہ میں واقع کشمیر کے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے ماحولیاتی نظام اور پانی کے ذخائر کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ سائنسداں مصنوعی ذہانت کی مدد سے اس بحران کو سمجھنے اور ممکنہ آفات کی بروقت پیش گوئی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

AI is becoming an important tool in geology. Photo: INN
علم ارضیات میں اے آئی ایک اہم ذریعہ بنتا جارہا ہے۔ تصویر: آئی این این

ہندوستانی زیرِ انتظام کشمیر کے ہمالیائی سلسلوں میں وہ گلیشیئرز، جو صدیوں سے ماحولیاتی نظام اور انسانی زندگی کو سہارا دیتے آئے ہیں، تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ یہ خطہ ۱۲؍ ہزار سے زائد گلیشیئرز کا گھر ہے، جو بلند اور دور دراز پہاڑی علاقوں میں واقع ہیں، جہاں تک رسائی مشکل ہونے کے باعث ان کی نگرانی روایتی طور پر دشوار رہی ہے۔ سائنسی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑھتا ہوا درجۂ حرارت، بارش کے بدلتے پیٹرن اور انسانی سرگرمیاں گلیشیئرز کے پگھلنے کے عمل کو تیز کر رہی ہیں، جبکہ ہمالیہ کا درجۂ حرارت عالمی اوسط سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ان تبدیلیوں کے درمیان، سائنسداں مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے اس بحران کو بہتر طور پر سمجھنے اور ممکنہ طور پر اس کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: جس الیکشن میں تقریباً۳۰؍لاکھ افراد ووٹ دینے سے محروم ہوں،اسے پُرامن کیسے کہا جاسکتاہے

سیٹیلائٹ سے حاصل شدہ الگورتھمز سے لے کر سیلاب کی پیش گوئی کرنے والے ماڈلز تک، اے آئی دنیا کے اس دور افتادہ اور موسمیاتی طور پر حساس خطے میں گلیشیئر سائنس کو بدل رہا ہے۔ کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ جیو انفارمیٹکس کے سربراہ پروفیسر عرفان رشید کے مطابق:’’مصنوعی ذہانت ایک گیم چینجر ہے۔ یہ محققین کو گلیشیئرز کی درست صورتحال جاننے میں مدد دیتی ہے اور ابتدائی وارننگ سسٹمز اور ممکنہ خطرات کی نشاندہی میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ ‘‘رشید، جو اس خطے میں کئی کرائیوسفیئر مانیٹرنگ مطالعات کی قیادت کر چکے ہیں، اے آئی پر مبنی ماڈلز اور سیٹیلائٹ ڈیٹا کے ذریعے گلیشیئرز، برفانی جھیلوں اور پرما فراسٹ کی بہتر نقشہ سازی پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا’’ اے آئی موسمی حالات، برف کی تہہ اور زمین کی سطح کے درجۂ حرارت میں پیٹرنز کو پہچان کر یہ پیش گوئی کر سکتی ہے کہ پرما فراسٹ کہاں موجود ہو سکتا ہے، حتیٰ کہ ان علاقوں میں بھی جہاں ڈیٹا محدود ہو۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: سونیترا پوار کی ۲؍ لاکھ ۱۸؍ ہزار ووٹوں سے جیت، تمام ریکارڈ توڑدیئے

ایک تحقیق میں، رشید نے کوہالائی گلیشیئرجسے کشمیر کا ’واٹر ٹاور‘ بھی کہا جاتا ہے، کا جائزہ لیا اور پایا کہ گزشتہ چھ دہائیوں میں اس کا تقریباً ایک چوتھائی رقبہ کم ہو چکا ہے۔ اس کا نچلا حصہ (snout) ۱۹۷۸ءکے بعد سے تقریباً ۹۰۰؍میٹر (۲۹۵۰؍فٹ) پیچھے ہٹ چکا ہے، جو پورے خطے میں ایک وسیع رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ نتائج دیگر ہمالیائی تحقیقات سے بھی مطابقت رکھتے ہیں۔ ۲۰۱۹ء میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، ۲۰۰۰ء کے بعد سے گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار دگنی ہو چکی ہے۔ انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیولپمنٹ کے مطابق، اگر عالمی درجۂ حرارت میں اضافہ۵ء۱؍ ڈگری سینٹی گریڈ تک بھی محدود رکھا جائے، تب بھی۲۱۰۰ء تک ہمالیہ کے ایک تہائی گلیشیئرز ختم ہو سکتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: تمل ناڈو میں ’وجے‘کی جیت

بڑھتے خطرات اور پھیلتی جھیلیں 
گلیشیئرز کے پگھلنے کے فوری اثرات میں برفانی جھیلوں کی تیز رفتار تشکیل اور پھیلاؤ شامل ہے۔ ایک طویل مدتی تحقیق کے مطابق، ایسی جھیلوں کی تعداد ۱۹۹۰ءمیں ۲۵۳؍ سے بڑھ کر۲۰۱۸ءمیں ۳۲۴؍ ہو گئی، جو تیز رفتار پگھلاؤ اور بڑھتے خطرات کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ جھیلیں گلیشیائی جھیل کے اچانک پھٹنے (Glacial Lake Outburst Floods) کا سبب بن سکتی ہیں، جو نہایت خطرناک اور تباہ کن سیلاب ہوتے ہیں اور زیریں علاقوں کی آبادی کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ پورے ہمالیائی خطے میں تقریباً دس لاکھ افراد ایسی خطرناک جھیلوں کے قریب رہتے ہیں۔ کشمیر یونیورسٹی کے محقق خالد مرتضیٰ کے مطابق’’برفانی جھیلیں قدرتی طور پر بنتی ہیں، لیکن ان کی محتاط نگرانی اور انتظام ضروری ہے۔ ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی ہی تباہی سے بچا سکتی ہے۔ ‘‘حالیہ تحقیقات اس میدان میں ن اے آئی کے بڑھتے کردار کو ظاہر کرتی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: کیرالا میں ۱۰؍ سال بعد کانگریس کی اقتدار میں واپسی

مشین لرننگ تکنیکیں، جیسے کنولوشنل نیورل نیٹ ورکس اور رینڈم فاریسٹ ماڈلز، سیٹیلائٹ ڈیٹا کے ذریعے گلیشیئرز کی حدود، برف کے نقصان اور برفانی جھیلوں کی نشاندہی کیلئے استعمال ہو رہی ہیں۔ ہمالیہ میں ہونے والی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ اے آئی پر مبنی ماڈلز روایتی طریقوں کے مقابلے میں زیادہ تیز اور درست نتائج فراہم کرتے ہیں۔ درحقیقت، اے آئی کی سب سے اہم صلاحیتوں میں سے ایک قدرتی خطرات کی پیش گوئی ہے۔ سیٹیلائٹ تصاویر، موسمیاتی ڈیٹا اور زمینی مشاہدات کو یکجا کر کے اے آئی ماڈلز غیر مستحکم برفانی جھیلوں کی نشاندہی اور ممکنہ سیلابی صورتحال کی پیش گوئی کر سکتے ہیں۔ یہ نظام پہاڑی علاقوں میں ابتدائی وارننگ نیٹ ورکس کا اہم حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: مغربی بنگال میں مسلم اکثریتی اسمبلی حلقوں کے نتائج حیران کن

بین الاقوامی تحقیقی ادارے، جیسے ناسا اور یورپی خلائی ایجنسی، بھی اے آئی پر مبنی ماڈلز کے ذریعے گلیشیئر پگھلاؤ اور اس سے جڑے خطرات کی پیش گوئی کو بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں۔ کشمیرکیلئے، جہاں دریا گلیشیئرز کے پانی پر انحصار کرتے ہیں، یہ پیش گوئیاں آفات سے نمٹنے اور پانی کے طویل مدتی تحفظ کیلئے نہایت اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔ 
کشمیر کی لیبارٹریاں ڈجیٹل دور میں 
کشمیر یونیورسٹی جیسے اداروں میں سائنسداں روایتی فیلڈ ورک کو جدید کمپیوٹیشنل ٹولز کے ساتھ ملا رہے ہیں۔ سیٹیلائٹ تصاویر، زمینی مشاہدات اور موسمیاتی ڈیٹا کو یکجا کر کے محققین گلیشیئرز کی ساخت، وزن (mass balance) اور حرکت میں طویل مدتی تبدیلیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ محقق طارق عبداللہ کے مطابق’’فیلڈ مشاہدات اب بھی ضروری ہیں، لیکن اے آئی پر مبنی ریموٹ سینسنگ اہم ڈیٹا کی کمی کو پورا کرنے میں مدد دے رہی ہے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا:’’کشمیر جیسے پہاڑی علاقوں میں، جہاں رسائی مشکل ہوتی ہے، یہ ٹیکنالوجی بے حد قیمتی ہے۔ ‘‘بڑے گلیشیئرز کے پگھلنے سے پہلے ہی زرعی نظام، حیاتیاتی تنوع اور میٹھے پانی کی دستیابی متاثر ہو رہی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: بنگال: بگڑ گئے سُر تال، ممتا کا قلعہ مسمار، بی جےپی ۲۰۰؍ پار

سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ عمل جاری رہا تو دریاؤں کے نظام میں بڑی تبدیلیاں آ سکتی ہیں، جو لاکھوں افراد کی زندگیوں پر اثر انداز ہوں گی۔ عالمی سطح پر بھی اسی نوعیت کے طریقے اپنائے جا رہے ہیں، جہاں اے آئی کی مدد سے گلیشیئرز کی نگرانی، پگھلاؤ کی پیش گوئی اور مستقبل میں پانی کی دستیابی کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ پروفیسر رشید کے مطابق’’اے آئی خود کوئی مکمل حل نہیں، لیکن یہ ایک اہم ذریعہ بنتا جا رہا ہےجو محققین کو تیزی سے، گہرائی سے اور بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ بدلتے ہوئے موسمی حالات کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK