شیوسینا (ادھو) نے تحقیقات اورفرائض میں غفلت برتنے والے بی ایل اوز کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
EPAPER
Updated: July 21, 2026, 12:42 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Dombivli
شیوسینا (ادھو) نے تحقیقات اورفرائض میں غفلت برتنے والے بی ایل اوز کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) کی حدود میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) مہم ایک بڑے سیاسی تنازع کے بھنور میں پھنس گئی ہے۔ شیوسینا (ادھو ) نے انتخابی عمل کی شفافیت کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے یہ سنگین الزام عائد کیا ہے کہ متعدد علاقوں سے سرکاری آفیسر (بی ایل او) غائب ہیں اور ان کی جگہ انومریش فارم کی تقسیم و وصولی کا حساس سرکاری کام مبینہ طور پر براہِ راست بی جے پی کے دفاتر سے انجام دیا جا رہا ہے۔ ان سنسنی خیز الزامات نے الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر عدم اعتماد کی فضا پیدا کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ویٹ لیز بس سے ایک اور حادثہ، ایک شخص ہلاک، ۷؍ افراد زخمی
شیوسینا ( ادھو) کے لیڈر ابھجیت ساونت نے الزام لگایا کہ کے ڈی ایم سی کی حدود میں متعدد بی ایل اوز ووٹروں کے گھروں تک پہنچے ہی نہیں جبکہ بعض مقامات پر فارم بی جے پی کے سیاسی دفاتر سے تقسیم اور جمع کئے جا رہے ہیں جس سے پوری انتخابی کارروائی کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے بزرگ شہری، معذور افراد اور اپوزیشن سے وابستہ ووٹرز سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کلیان اور ڈومبیولی کی چاروں اسمبلی نشستوں میں ایس آئی آر کا عمل جاری ہے لیکن پیش رفت انتہائی سست ہے۔الیکشن کمیشن نے اس مہم کی آخری تاریخ ۲۹؍ جولائی سے بڑھا کر ۸؍ اگست کر دی ہے اس کے باوجود کئی علاقوں میں انومریش فارم بھرنے کا عمل رفتار نہیں پکڑ سکا جس کے باعث شہریوں میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: وزیر اعلیٰ سے شہر کی پرانی کچی آبادیوں کو پکا گھر بنا کر دینے کا مطالبہا
شیوسینا (ادھو) نے خبردار کیا ہے کہ اگر مقررہ مدت کے اندر بی ایل او نے گھر گھر جا کر اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کیں تو برسوں سے ووٹ ڈالنے والے ہزاروں شہری اپنے آئینی حقِ رائے دہی سے محروم ہو سکتے ہیں۔شیوسینا (ادھو) نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے اور فرائض میں غفلت برتنے والے بی ایل اوز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔