یارن کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ اور کارخانے بند ہونے سے پارچہ بافی صنعت بحران کا شکار۔
EPAPER
Updated: March 29, 2026, 12:43 PM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Mumbai
یارن کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ اور کارخانے بند ہونے سے پارچہ بافی صنعت بحران کا شکار۔
صنعت پارچہ بافی ایک مرتبہ پھر سنگین اور ہمہ جہت بحران سے گزر رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی لاگت، یارن کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ، مزدوروں کی کمی اور بازار میں مانگ کی مسلسل گراوٹ نے اس صنعت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ وہ پاورلوم جو کبھی ۲۴؍ گھنٹے چلتے تھے، اب خاموش ہوتے جا رہے ہیں جبکہ تیار شدہ کپڑے کے انبار گوداموں میں جمع ہوتے جا رہے ہیں اور نئے آرڈرز تقریباً ناپید ہیں۔
یارن کی قیمتوں میں بے قابو اضافہ
حالیہ دنوں میں سنتھیٹک یارن کی قیمتوں میں ۳۰؍سے ۳۵؍ روپے فی کلو تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس نے پاورلوم مالکان کیلئے پیداوار جاری رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔ ایوب ٹیکسٹائل کے مالک معراج انصاری کے مطابق ان کے یہاں مائیکرو اور ۴۰؍ پولسٹر یارن سے ’’ریمَنڈ کوالٹی‘‘ کا گرے کپڑا تیار کیا جاتا ہے، جو عام طور پر اسکول و کالج یونیفارم کے سیزن میں فروخت ہوتا ہے، مگر اس سال تقریباً ۳؍ہزار تھان تیار مال فروخت نہ ہونے کے باعث گودام میں پڑا ہے اور مارکیٹ سے کوئی خاص ردعمل نہیں مل رہا۔
یہ بھی پڑھئے: تھانے: محکمہ صفائی کو تھری اسٹار! اپوزیشن لیڈر نے مذاق اڑایا
اسی طرح پاورلوم مالک عبداللہ خان کا کہنا ہے کہ مختلف کاؤنٹ کے یارن میں ۲۰؍ سے ۳۴؍ روپے فی کلو تک اضافہ ہوا ہے۔ ۹۲؍ نمبر یارن جو پہلے ۲۰۶۰؍روپے فی ۵؍ کلو تھا اب ۲۲۰۰؍ روپے تک پہنچ گیا ہے جبکہ ۶۴؍ کاؤنٹ یارن ۱۵۶۰؍سے بڑھ کر ۱۶۹۰؍ روپے ہو گیا ہے۔ان کے مطابق یارن ملیں اور تاجر عالمی حالات کا بہانہ بنا کر قیمتوں میں من مانی اضافہ کر رہے ہیں۔
عالمی حالات اور سپلائی چین متاثر
ماہرین کے مطابق بین الاقوامی کشیدگی کے باعث کپاس کی درآمد متاثر ہوئی ہے جبکہ برآمدات جاری رہنے سے مقامی سطح پر خام مال کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں یارن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ بھیونڈی میں تیار ہونے والا کپڑا پروسیسنگ کے بعد امریکہ اور یورپ تک برآمد کیا جاتا رہا ہے لیکن موجودہ حالات میں ایکسپورٹ بھی سست پڑ چکا ہے۔
گیس بحران سے ڈائنگ یونٹس متاثر
بحران صرف یارن تک محدود نہیں ہےبلکہ ڈائنگ اور پروسیسنگ یونٹس بھی گیس کی شدید قلت کا شکار ہیں۔ کئی یونٹس بند ہو چکی ہیں جبکہ متعدد آدھی صلاحیت پر کام کر رہی ہیں۔ صنعتکار حاجی یار محمد خان کے مطابق جنوبی ہند کی اسپننگ ملوں میں بھی گیس بحران کے سبب مزدوروں کی ہجرت ہوئی ہے، جس سے پیداوار بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر سروے میں بہ آسانی اندراج کس طرح کروائیں؟
مزدوروں کی کمی اور کارخانوں کی بندش
پاورلوم صنعت پہلے ہی مزدوروں کی کمی سے پریشان تھی لیکن حالیہ حالات نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ نئے مزدور نہ آنے اور موجودہ مزدوروں کی ہجرت کے باعث درجنوں پاورلوم کارخانے بند یا فروخت ہو چکے ہیں۔ شانتی نگر پاورلوم اونرز اینڈ ویورز اسوسی ایشن کے صدر عبدالمنان صدیقی کے مطابق جبّار کمپاؤنڈ سے کھاڑی پار تک کئی کارخانے یا تو بند ہو گئے ہیں یا انہیں گارمنٹس اور ایمبرائیڈری یونٹس میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پہلے ایک مزدور ۴؍ سے ۶؍ لوم چلاتا تھا لیکن اب ایک ہی مزدور کو ۱۰؍ سے ۱۲؍ لوم سنبھالنے پڑ رہے ہیں، جس سے پیداوار اور معیار دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔ کئی مالکان کارخانے بند کرکے وہاں عمارتیں تعمیر کر رہے ہیں، جو اس صنعت کے مستقبل کے لئے تشویشناک اشارہ ہے۔
مزدور طبقہ شدید متاثر
اس بحران کا سب سے زیادہ اثر مزدور طبقے پر پڑا ہے۔ شانتی نگر کے جاب ورک سے وابستہ آصف خان کے مطابق یارن مہنگا ہونے کا جواز پیش کرتے ہوئے جاب ورک کی مزدوری میں ۵۰؍ سے ۷۵؍ پیسے فی میٹر تک کمی کر دی گئی ہے، جس سے ان کے لئے روزمرہ کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
صنعت ’ڈبل کرنچ‘ کا شکار
ماہرین کے مطابق بھیونڈی کی پاورلوم انڈسٹری اس وقت دو طرفہ بحران ’ڈبل کرنچ‘ کا سامنا کر رہی ہے۔ایک طرف لاگت میں تیزی سے اضافہ اور دوسری طرف مانگ میں کمی۔ ایسے حالات میں پیداوار جاری رکھنا خسارے کا سودا بنتا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر: ۴۰۵؍ اسکول بھارت رتن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر آدرش شالہ بنائے جائیں گے
حکومت سے مداخلت کا مطالبہ
سماج وادی پارٹی کے صدر انس انصاری نے انقلاب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال بھیونڈی کی پاورلوم صنعت غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہےجہاں بڑھتی لاگت اور گرتی مانگ کے درمیان توازن قائم رکھنا سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یارن کی قیمتوں پر قابو پانے، گیس سپلائی کو بحال کرنے اور صنعت کیلئے خصوصی راحت پیکج کا اعلان کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کئے گئے تو آنے والے وقت میں بڑے پیمانے پر کارخانے بند ہوں گے اور ہزاروں مزدور بے روزگار ہو سکتے ہیں۔