تازہ سرکیولر جاری کیا گیا ،مراٹھی پڑھانے کامعقول انتظام نہ کرنےوالے اسکولوں پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد ہوگا ،باربار خلاف ورزی کرنے والے اسکولوں کارجسٹریشن منسوخ کیاجاسکتا ہے، تعلیمی تنظیموں کے مطابق اس سے قبل بھی حکومتی فرمان جاری کئے جا چکے ہیں مگرکوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
سرکیولر کے مطابق مراٹھی پڑھانے کیلئے تجربہ کار ٹیچر کی تقررین لازمی ہوگی۔ (فائل فوٹو)
مہاراشٹر کے اسکول ایجوکیشن اینڈ اسپورٹس ڈپارٹمنٹ نے جمعہ کو ریاست کے تمام اسکولوں میں مراٹھی کی لازمی تعلیم کو نافذ کرنے کیلئے ایک تازہ سرکیولر جاری کیا ہے جس میں آئندہ تعلیمی سال سے سبھی میڈیم کے اسکولوں میں مراٹھی پڑھانے کا باقاعدہ انتظام کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے اور مراٹھی پڑھانے کیلئے تجربہ کار ٹیچر کی تقرری کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ جن اسکولوں میں مراٹھی پڑھانے کا انتظام نہیں کیا جائے گا، ان پر ایک لاکھ روپے جرمانہ اور سخت کارروائی حتیٰ کہ اسکول کا رجسٹریشن بھی منسوخ کرنے دھمکی دی گئی ہے۔تعلیمی تنظیموں کے مطابق اس سے قبل بھی اس طرح کی ہدایت جاری کی گئی ہیں لیکن ابھی تک کوئی ٹھوس اقدام نہیں اُٹھایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: رتن ٹاٹا مہاراشٹر اسٹیٹ اسکل یونیورسٹی کی ۵۰؍ جگہوں پر شاخیں قائم کی جائیں گی
’مہاراشٹر کمپلسری ٹیچنگ اینڈ لرننگ آف مراٹھی لینگویج ان آل اسکولز ایکٹ ۲۰۲۰ء‘ کے تحت ریاست کے سبھی اسکولوں میں، بورڈ، میڈیم یا مینجمنٹ سے قطع نظر مراٹھی پڑھانے کے عمل کو لازمی طور پر نافذ کرنے کی ہدایت پہلےبھی جاری کی جاچکی ہے جس کیلئے ہراسکول میں قابل اور تجربہ کار مراٹھی ٹیچر کی تقرری کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔ تمام اسکولوں میں مراٹھی پڑھانے کی ہدایت پر عمل کی جانچ کیلئے ڈویژنل ڈپٹی ڈائریکٹرز آف ایجوکیشن کو قانونی حکام کے طور پر نامزد کیا گیاہے۔
تازہ سرکیولر کے مطابق نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ اس ہدایت پر عمل کرنا ہے۔ اس ضمن میں ۲؍مہینے بعد اسکولوں کا معائنہ کیا جائے گا۔ جن اسکولوں میں مراٹھی پڑھانے کا باقاعدہ نظم نہیں ہوگا، انہیں جواب دینے کیلئے ۱۵؍د نوں کا وقت دیا جائے گا۔ جواب نہ دینے کی صورت میں ان اسکولوں پر کارروائی کی جائے گی۔ ان پر جرمانہ عائد کیا جائے گا اور اس پر فوری عمل درآمد کا حکم دیا جائے گا۔ سرکیولر میں اس تعلق سے اسکولوں کیلئے اپیل کے عمل کا بھی خاکہ پیش کیا گیا ہے جس کے مطابق اسکول انتظامیہ ۳۰؍ دنوں میں ڈائریکٹر آف ایجوکیشن سے جرمانے کے معاملہ کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ بار بار خلاف ورزی اور مسلسل عدم تعمیل کی وجہ سے اسکول انتظامیہ کی کمشنر آف ایجوکیشن کے سامنے سماعت ہوگی اور حتمی طور پر اسکول رجسٹریشن منسوخ ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سرکاری ملازمین کا ۲۱؍ اپریل سے غیر معینہ مدت ہڑتال کا اعلان
مراٹھی اسکول انتظامیہ ایسوسی ایشن کے رابطہ کار سشیل شیجولے نے اس بارے میں نمائندہِ انقلاب کو بتایا کہ ’’ اس تعلق سے حکومت نے یکم اپریل ۲۰۲۰ء کو ایک قانون نافذ کیا ہے جس کے تحت اب تک کئی سرکیولر جاری ہوچکے ہیں لیکن آج بھی ان سرکیولر کے احکامات پر عمل نہیں ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے یقین نہیں ہوتا ہے کہ اس بار بھی حکومت نے مراٹھی تعلیم سے متعلق سبھی اسکولوں کیلئے جو ہدایتیں جاری کی ہیں، ان پر عمل ہوگا۔ اس سے قبل بھی حکومت نے مراٹھی نہ پڑھانے والے اسکولوں پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کرنے کی ہدایت جاری کی تھی، لیکن ابھی تک ایک بھی اسکول پر جرمانہ عائد نہیں کیا ہے۔ گزشتہ ۶؍برسوں میں اس سلسلے میں متعدد جی آر جاری کئے گئے ہیں، لیکن عمل آوری کے نام پر کوئی کارروائی نہیں ہے۔ ہمارے بار بار کے مطالبات کے باوجود، حکام مراٹھی پڑھانے کامعقول انتظام نہ کرنے والے اسکولوں کی واضح فہرست مرتب کرنے میں ناکام رہے ہیں،چنانچہ یہ نیا سرکیولر بھی ہمارے لئے اس وقت تک ایک کھلواڑ ہے جب تک اس بارے میں باقاعدہ کارروائی نہیں ہوتی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: لبیک کی صداؤں کے ساتھ عازمین حج کا پہلا قافلہ سوئے حرم روانہ
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ’’ اس تعلق سے ایک آرٹی آئی داخل کرنے کی تیاری کی ہے۔ جس میں مہاراشٹر میں کتنے اسکول ہیں جن میں مراٹھی پڑھائی کا معقول نظم نہیں ہے ؟ اب تک کتنے اسکولوں پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے؟ اور کتنے اسکول کا رجسٹریشن منسوخ کیا گیا ہے ؟ اس طرح کےسوالات پوچھے ہیں۔